باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں


bacha khan unباچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردوں کے حملے میں یونیورسٹی کے 2گارڈز سمیت 5افرادزخمی ہوگئے، سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے دستے بھی باچا خان یونیورسٹی پہنچ گئے۔
یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے 4 سکیورٹی گارڈ زخمی ہوئے ، تاہم کوئی طالب علم یا استاد زخمی نہیں ہوا۔ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں 3 ہزار سے زائدطلبہ و طالبات ہیں جبکہ مشاعرے کیلئے 600 مہمان بھی آئے ہوئے ہیں۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار طلعت حسین کے مطابق یونیوسٹی کی ایک ٹیچرنے انہیں ایس ایم ایس کرکے بتایا کہ یونیورسٹی میں شدید فائرنگ کے بعدبھگدڑ مچ گئی اور خوف وہراس پھیل گیا۔ذرائع کے مطابق حملہ آور گیسٹ ہاﺅس کے راستے یونیورسٹی میں داخلے ہوئے، پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 4ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دہشت گرد یونیورسٹی کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے ہیں اور کچھ طلبا کلاسوں اور لڑکیاں ہاسٹل میں محصور ہیں، انتظامی اور تدریسی عملہ بھی محصور ہوکر رہ گیا ہے۔پولیس کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو سکیورٹی گارڈ زخمی ہوگئے،زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ منتقل کردیا گیا۔یونیورسٹی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہونے والے طلبا کا کہنا ہے کہ انتظامی و تدریسی عملہ اور متعدد طالبات بھی یونیورسٹی کے اندر موجود ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments