احتساب ۔ شوق کا کوئی مل پڑنا چاہیے


wisi 2 babaبھاگو، دوڑو، پکڑو، لوٹ لیا، کھا گئے۔ عوام کے ٹیکسوں پر پل رہے ہیں۔ جب بھی ٹی وی لگائیں یہی سنائی دیتا ہے۔ جس مرضی چینل پر چلے جائیں کوئی پکا منہ بنا کر لہجے میں درد بھر کے آواز لگاتا سنائی دے گا۔ ہم سب لیڈروں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔ یہ دعوی بھی اب اینکر حضرات کرنے لگے ہیں۔ کالموں میں بھی یہ لکھا جا رہا ہے۔

یہ وہ ٹیکس ہے جو ان معززین کی تنخواہ سے ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ یہ ٹیکس چھپا لیں۔ اپنی برادری کے لتے کافی لے لئے۔ اب عرض ہے کہ کرپشن کا معاملہ کافی سنجیدہ ہے۔ اس کا کوئی حل ہونا چاہئیے۔ پورے پورے پراجیکٹ کاغذوں میں ہی بنتے ہیں۔ ان کی ساری رقم کھا لی جاتی ہے۔

فوج عدالت دوسرے سول ادارے تو قیام پاکستان سے ہی موجود ہیں۔ حل ان کے پاس بھی کوئی نہیں ہے۔ ہمارے منتخب ممبران کے اخراجات پر تو کوئی چیک ہے نہیں۔ ان کے خرچے اور کارکردگی کا احتساب کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ یہ سب تگڑے لوگ اور ادارے ہیں۔ ان سب کو کون پوچھ سکتا ہے۔ اگر انہی پرانے ذریعوں سے کوئی  حل نکالا گیا تو معیشت جام ہو جائے گی۔ مارشل لا تک تو لگا کر ہم دیکھ چکے ہیں

اس مسئلے  کا وہ حل درکار ہے جو سادہ بھی ہو آسان بھی۔ اس پر عمل ہو سکے جو نتائیج دے۔ اس مسئلے کو سینگوں سے پکڑتے ہیں۔

ہم اپنے لیڈروں کی محبت کے مارے ہوئے ہیں۔ ہم کسی ایک کو بھی سزا ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہ سب آرام سے بچ سکتے ہیں۔ کرپشن کو بھی بریک لگ جائے گی۔ معیشت بھی چلے گی۔ تعمیراتی پراجیکٹ بھی بنیں گے۔ سب سے بڑی بات ہمارے اس مراثی میڈیا میں اس ٹاپک کو بھی بریک لگ جائے گی۔

ہمیں جو گیت گا کر سنایا جاتا ہے وہ یہی ہے نا کہ یہ لوگوں کا پیسہ ہے۔ ٹیکس دینے والوں کی رقم ہے جس کا حلوہ بنا کر اڑا لیا جاتا ہے۔ یہاں رک کر سوچیں ، پیسہ کس کا ہے؟ اس کا جو ٹیکس دیتا ہے۔ ٹیکس دینے والا کا کہیں فیصلوں میں کوئی اختیار یا دخل ہے۔ کیا اس سے کوئی پوچھتا ہے۔ پوچھنا چھوڑیں اس کی کوئی عزت بھی کرتا ہے۔

اس ٹیکس دینے والے کو کار سرکار میں کوئی کردار دینا ہو گا۔ یہ اپنی محنت سے پیسے کماتا ہے۔ سرمائے کا بہترین استعمال کرتا ہے۔ بچت کرتا ہے۔ اپنی ذاات اپنے ادارے کے لئے خریداری کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیتا ہے۔ اپنے وسائل کے اندر رہتا ہے۔ ایسے فیصلے نہیں کرتا جو اس کے کام کو نقصان دیں۔ تجربے کرتا ہے۔ اپنے اچھے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سب سے اہم بات کہ پورا ٹیکس بھی نہیں دیتا۔

اکثر مالکان اپنے ملازمین سے کم ٹیکس دیتے ہیں۔ یہ پیسے بچا لیتے ہیں۔ انہیں بچانے ہی چاہئیں۔ وہ اس سرکار کو دیں جو معیاری سروس تو چھوڑیں۔ سروس ہی نہیں دیتی۔ ہمیں اپنے شہر میں اپنی یونین کونسل میں اپنے صوبے میں اور مرکز میں بھی ٹیکس پئیر کو معاملات میں شریک کرنا ہو گا۔ جو جس سطح پر سب سے زیادہ ٹیکس دے وہ اسی سطح پر اس پانچ دس رکنی ٹیکس پئیر کونسل کا رکن بن جائے۔

یہ کونسل اپنی یونین کونسل اپنے شہر اپنے صوبے اور مرکز میں مالی معاملات پر نظر رکھے۔ انہیں کتنا اختیار دینا ہے یہ فیصلہ تو پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ ان کو اختیار دئیے بغیر معاملات بہتر ہونا ممکن نہیں ہے۔ ان معززین سے منظوری لی جائے کہ سرکاری رقم کدھر خرچی جا رہی ہے۔ کونسے پراجیکٹ کو پیسے پہلے دینے ہیں۔ کہاں تھانے میں سرکاری گاڑی ہے لیکن اس میں تیل نہیں ہے۔ کس سکول میں استاد گھر بیٹھے تنخواہ لیتا ہے۔ کس بیسک ہیلتھ یونٹ میں ڈاکٹر نہیں ہے یا وقت پر نہیں آتا۔ دوائیں نہیں ہیں۔

بلدیاتی حکومت سے شروع کر لیں۔ صوبائی اور وفاقی ہر سطح پر ٹیکس دینے والوں کو کسی قسم کی ں گرانی دے دیں۔ یہ ں گران اپنی یونین کونسل کے پہلے چار پانچ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے ہوں۔ اپنے شہر کی ں گرانی وہ کریں جو شہر میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا۔ جو صوبے میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا وہ صوبائی محکموں پر نظر رکھے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے دس لوگ وفاقی محکموں کو دیکھیں۔

یہ ٹیکس پئیر تب تک ں گران کمیٹی میں رہے جب تک وہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا رہے۔ جب اس کی جگہ کوئی دوسرا ٹیکس پئیر ٹاپ پر آ جائے تو وہ ں گران کمیٹی میں آ جائے۔

پالیسی بنانا منتخب حکومت کا ہی کام ہے۔ قانون سازی بھی اسی کا اختیار ہے۔ جن کے پیسے سے ملک چلایا جاتا انکا بھی کوئی رول ہونا چاہئیے یا نہیں۔ جمہوریت صرف الیکشن لڑ کر اکثریت لینے کا نام تو نہیں ہے۔ یہ جوابدہی کا ایک شفاف سسٹم بھی تو ہے۔ ٹیکس پئیر کو نظرانداز کر کے پھر یہی ہو گا جو ہو رہا ہے۔

 ہم ٹیکس پئیر کو اخیتار تو دیں۔ پھر دیکھیں سب سے پہلے یہ ہوگا کہ جو کماتا ہے وہ ٹیکس دینا چاہے گا۔ ایسا وہ اس لئے کرے گا کہ اسے کچھ اختیار ملتا دکھائی دے گا۔ ایک صحت مند مقابلہ ہو گا کہ کون زیادہ ٹیکس دیتا۔ ایک اٹریکشن ہو گی کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا کچھ معاملات میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہو گا ۔ ہمارے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو گا۔ ان لوگوں کو اختیار ملے گا تو سرکاری پیسے میں خوردبرد ممکن نہیں رہے گی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ پیسے کے اصل مالک بھی تو شریک ہوں گے۔

ہم امید رکھ سکیں گے کہ جو سرکاری عمارتیں بنیں گی وہ پائیدار ہوں گی۔ ایک ہی برسات میں سڑکیں ٹوٹا نہیں کریں گی۔ ایمرجنسی میں ہسپتالوں میں دوائیں موجود ہوں گی۔ ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہوں گے۔ انہیں ڈر ہو گا کہ کوئی جوابدہی کرنے آئے گا۔ افسران کی ترقی میں کچھ نمبر ٹیکس پئیر کے ہاتھ میں بھی ہوں تو بہتری ہی آئے گی۔

بات بہت سنجیدہ ہو گئی۔ چھوڑیں سوچیں ہمارے ملک کا وزیراعظم   ٹیکس پئیر سیٹھوں کی کمیٹی کے سامنے بیٹھا ہو۔ سیٹھ اکثر چھوٹے سے سر اور وڈا سا ڈھڈ رکھتے ہیں۔ کنجوس بھی ہوتے ہیں ٹکا کر۔ وزیراعظم صاحب ان سے پوچھ رہے ہوں کہ  امریکہ جانا ہے۔ اگر آپ کو برا نہ لگے تو وفد بڑا ہے سرکاری جہاز میں چلا جاؤں۔ اس کے بعد سیٹھ لوگ خرچے کا حساب کتاب کرنے لگ جائیں وزیر اعظم کے سامنے۔ کیسا؟


Comments

FB Login Required - comments