جھوٹ کا مسالا اور ہارس ٹریڈنگ


adnan-khan-kakar-mukalima-3

قدیم یونانی دیومالائی حکایت ہے کہ ایک بار ایسا ہوا کہ کافی عرصے تک کسی دیوی دیوتا وغیرہ کی طرف سے کوئی شرارت نہیں ہوئی۔ ہر طرف امن سکون رہا۔ زیوس دیوتا اس غضب کی یکسانیت سے اکتا گیا تو اس نے سوچا کہ ایسے تو گزارہ نہیں ہو گا۔ زندگی میں کچھ نہ کچھ رونق میلہ تو ہونا ہی چاہیے۔ تو زیوس دیوتا نے انسان بنا ڈالے کہ اب ہر دم ہی دنگا فساد اور مار پیٹ رہے گی اور اولمپیائی دیوتاوں کے لیے ایک مستقل مصروفیت کی صورت پیدا ہو گی۔ لیکن زیوس کو سادھو سنت انسانوں سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اسے مزید لفڑا چاہیے تھا۔ سو جب زیوس دیوتا نے انسان بنا لئے تو اس نے ہرمس دیوتا کو بلایا۔ ہرمس مسافروں، گڈریوں، کھلاڑیوں، موجدوں، شاعروں اور مصنفوں، مقرروں اور چوروں کا دیوتا تھا اور پارٹ ٹائم میں دیوتاوں کے ایلچی کا کام بھی کرتا تھا۔

zeus

بہرحال، دیومالا کہتی ہے کہ جب زیوس دیوتا نے بنی نوع انسان کی تخلیق کی تو اس نے ہرمس دیوتا کو بلایا اور کچھ یوں گویا ہوا:۔

زیوس: ہرمس، میرے بچے، یہ میں نے اچھی وقت گزاری کے لیے ایک خاک کا پتلا تو بنا ڈالا ہے، لیکن یہ کچھ زیادہ ہی نیک لگتا ہے۔ یہ بالکل ہی مٹی کا مادھو ہے۔ اس کی اس بے رنگ و بو زندگی میں کوئی ہلا گلا ہو تو ہم اولمپیائی دیوتاوں کا وقت بھی کچھ اچھا گزر جائے گا۔ مشورہ دو کہ کیا کیا جائے۔

ہرمس: سردار، میرا خیال ہے کہ میں اسے بھیڑیں چرانے پر لگا دیتا ہوں۔ بھیڑوں کی گلہ بانی اسے اتنا تنگ کر دے گی کہ یہ ہر وقت مار کٹائی پر ہی تلا رہے گا۔ ساتھ اس کو مختلف کھیل سکھا دیتا ہوں۔ میچ فکسنگ وغیرہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ مزید جھگڑا کرے گا۔ باقی اسے جھوٹی جذباتی تقریریں کرنے کے فن میں بھی میں طاق کر دیتا ہوں اور مزید شغل میلے کے لیے چوری کرنا، ڈاکے ڈالنا وغیرہ بھی سکھا دیتا ہوں۔

APOLLO-HERMES1

زیوس: میرے بچے، اس سے کچھ رونق میلہ تو لگ جائے گا لیکن میری تسلی نہیں ہو رہی ہے۔ اتنی تھوڑی دھوکہ بازی میں میرا گزارہ نہیں ہو گا۔ پروفیشنل چور ڈاکو بھلا کتنی ہی لوٹ مار کر لیں گے۔ ایسا کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو تاجر بنا دیتے ہیں۔ یہ لوگوں سے مال لے کر انہیں کو چوگنے داموں بیچا کریں گے۔ ان سے بڑا ڈاکہ کوئی اور نہیں ڈال سکے گا۔ ایسا کرو، تمہارے پاس جو جھوٹ کا مسالہ پڑا ہوا ہے، اسے تاجروں کے خمیر میں ڈال دو۔ یہی چھوٹا سا طبقہ پوری انسانیت کو کام سے لگائے رکھے گا۔

ہرمس نے حکم کی تعمیل کی اور مسالے کی یکساں مقدار روغنیات فروشوں، پرچون فروشوں، پارچہ فروشوں، وغیرہ کے خمیر میں ملا دی، حتی کہ آخر میں صرف ہارس ٹریڈر ہی باقی بچ گئے۔ اب ہرمس نے دیکھا کہ بقیہ سارے تاجروں میں مسالہ خوب لگانے کے باوجود اس کے پاس تو مسالے کی کافی بڑی مقدار بچی ہوئی ہے جو کہ ضائع جائے گی۔

victor-adam-french-horse-trader

ہرمس دیوتا مفت کی اس بیگار سے پہلے تنگ آ چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ زیوس دیوتا نے مسالا فالتو دیکھا تو اسے کسی اور مخلوق کے پیچھے لگا دے گا۔ چالاک اور شریر تو وہ تھا ہی، اس نے باقی ماندہ یہ سارا مسالا ہارس ٹریڈرز کے خمیر میں ملا دیا۔ اس زمانے میں ہارس ٹریڈر، جنگی اور سفری مقاصد کے لیے گھوڑے فروخت کیا کرتے تھے، موجودہ زمانے کی طرح اس زمانے میں یہ پارلیمنٹ میں نہیں ہوتے تھے۔

بہرحال، ہرمس کی اس کاہلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارے تاجر چار پیسے بنانے کی خاطر تھوڑا بہت جھوٹ تو بولتے ہی ہیں، لیکن ہارس ٹریڈر تو جھوٹ کی اخیر ہی کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بجلی کی سپلائی ڈیمانڈ سے بیس فیصد کم ہے، لیکن لوڈشیڈنگ ساٹھ فیصد کمی کے حساب سے کرتے ہیں۔ عوام کی بھلائی کی خاطر قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کرتے ہیں اور ہر چیز دگنی مہنگی کر دیتے ہیں۔ جو زبان پر ہوتا ہے،عمل اس کے الٹ ہوتا ہے۔ اپنی ایمانداری اور پارسائی کی قسمیں کھاتے نہیں تھکتے ہیں اور نام ان کا پاناما کی آف شور کمپنیوں میں نکل آتا ہے۔

لیکن یہ یہ ساری شرارت اس یونانی دیوتا ہرمس کی وجہ سے ہے، ہمارے ہارس ٹریڈر بے قصور ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 330 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar