پاکستان پر ناجائز امریکی دباﺅ


mujahid ali

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اوباما حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا چاہتی ہے۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان متعدد امور پر اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن دونوں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خطے میں ہمیں مشترکہ خطرات اور خدشات کا سامنا ہے۔ اسی لئے یہ رشتہ دونوں ملکوں کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات دباﺅ کا شکار ہیں۔ سرتاج عزیز کا یہ بیان حال ہی میں سامنے آنے والے چند واقعات کے حوالے سے درست اور حقیقی تصویر کا آئینہ دار ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے پاکستان کو 8 ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لئے 430 ملین ڈالر فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد یہ خریداری شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔ جمعرات کو وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ امریکی کانگریس کے کئی ارکان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے نتائج دیکھے بغیر پاکستان کو فوجی امداد دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس طرح پاکستان کو ملنے والی 450 ملین ڈالر کی فوجی امداد کو روک لیا گیا ہے۔

بدھ کو نیو یارک ٹائمز نے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے ایک سخت اداریہ تحریر کیا تھا جس میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد فراہم کرنے کا طعنہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دوہرے کردار کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ امریکہ کا خطرناک دوست ہے۔ اخبار نے افغان جنگ میں اتحادی افواج کی ناکامی ، افغانستان میں طالبان کی سرکشی اور قیام امن کی کوششوں میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس نے ہمیشہ افغان طالبان کی سرپرستی کی ہے اور اب حقانی نیٹ ورک کے ذریعے وہ افغانستان میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس ادارئیے میں بعض مبصرین کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ لوگوں کو طالبان کی قیادت میں شامل کروانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس ادارئیے میں نیویارک ٹائمز نے سارے مسائل کی جڑ پاکستان کو قرار دیا ہے لیکن اختتام میں یہی موقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور امن کی بحالی کا راستہ پاکستان کی مدد کے بغیر عبور نہیں ہو سکتا۔
اگر صرف ادارئیے کے اس نتیجہ کی روشنی میں، اس میں اختیار کئے گئے تند و تیز لب ولہجہ اور یک طرفہ الزامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ یہ صحافتی حملہ بھی اسی دباﺅ کا حصہ ہے جو ایف 16 کی خریداری میں رکاوٹ ڈال کر اور پاکستان کی فوجی امداد معطل کر کے کانگرس میں اختیار کیا گیا ہے۔ اس لئے واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کے اس موقف سے اتفاق کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ یہ اداریہ یک طرفہ اور جانبدارانہ نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر نیویارک ٹائمز نے افغانستان کے مسائل اور طالبان سے مذاکرات میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کو تو بنیادی دلیل بنایا ہے لیکن ڈاکٹر شکیل آفریدی کی قید اور اس کی رہائی کے بارے میں امریکی کانگریس کی بے چینی کا ذکر کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اداریہ خاص نقطہ نظر سے کوئی خاص مقصد حاصل کرنے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔
صورتحال کے تناظر میں یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ امریکہ بہر صورت پاکستان کو دباﺅ میں لانا چاہتا ہے تا کہ اس سے وہ اپنی شرائط منوا سکے۔ ان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے لیکن یہ فراموش کر دیا جاتا ہے کہ اگر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اتحادی افواج پندرہ برس تک افغانستان میں طالبان کو کمزور کرنے یا ان کے نیٹ ورک کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں تو پاکستان سے کیوں کر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے خطرناک اور ناقابل کنٹرول سرحدی علاقوں میں موجود حقانی نیٹ ورک کو مکمل طور سے تن تنہا ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ موقف بھی حیران کن ہے کہ افغانستان کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے اور مسلسل توانا ہوتے طالبان گروہوں پر تو امریکہ اورافغان سکیورٹی فورسز کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں، لیکن انہیں خطرہ سمجھتے ہوئے ان کی قوت کو توڑنے کی بجائے پاکستان سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو ختم کرے۔ اگر واقعی حقانی نیٹ ورک جیسا گروہ صرف پاکستان کی اعانت سے امریکہ جیسی بڑی طاقت کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے تو اس کا گلہ پاکستان سے کرنے کی بجائے امریکی کانگریس ، حکومت ، دانشوروں اور صحافیوں کو اس علاقے میں امریکی پالیسی، جنگی اور سفارتی منصوبہ بندی اور مختلف گروہوں ، حکومتوں اور افراد سے اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے فعال اور موثر پالیسی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اگر پوری دلجمعی سے بھی حقانی نیٹ ورک کی اعانت کر رہا ہو تو بھی وہ اپنے محدود وسائل اور استعداد کی بنا پر افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر اس طرح اثر انداز نہیں ہو سکتا …….. جیسی تصویر امریکی میڈیا اور سیاستدان گمراہ کن بیانات اور تبصروں کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے ان پہلوﺅں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جن کی وجہ سے درحقیقت اتحادی افواج افغانستان میں ناکام ہوئیں اور اب سادہ لوح امریکی عوام کو اس ناکامی کی اصل وجوہ بتانے کی بجائے پاکستان کو ولن قرار دے کر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا سادہ اور آسان حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس پاپولسٹ رویہ کی بجائے امریکی حکومت اور اہلکار اگر پاکستان کے ساتھ مل کر صورتحال کا تفصیلی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور ان عوامل کو دور کرنے کی کوشش کریں جو طالبان کی قوت اور امریکہ نواز افغان حکومت کو محدود اور معذور کر رہے ہیں، تو یہ امریکہ کے علاوہ اس علاقے میں امن کے لئے بھی بہت بہتر ہو گا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو بھی حقیقت پسندانہ اور نئی حکمت عملی سے مستحکم اور مربوط کیا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کی طرح نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی میڈیا یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ افغانستان میں جنگ میں کامیابی کے لئے خود امریکہ اور اتحادی ممالک نے بدعنوان سیاستدانوں کو پروان چڑھایا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے فراہم کئے جانے والے بے بہا وسائل کی لوٹ مار کو برداشت کیا۔ جب حامد کرزئی نے علی الاعلان امریکہ مخالف باتوں کا سلسلہ شروع کیا تب ہی واشنگٹن سے ان کی بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے شروع ہوئے تھے۔ طالبان کو ناکام بنانے کے لئے افغان عوام کو ساتھ ملانے ، ان کے لئے سہولتیں فراہم کرنے اور ملک کا انفرا اسٹرکچر استوار کرنے کی ضرورت تھی۔ براہ راست عوام سے رابطہ کی بجائے اتحادی افواج نے سرداروں اور لیڈروں کے ذریعے کام کرنے کی کوشش کی اور پندرہ برس کے عرصے میں اس کے نقائص اور ناکامیوں کا جائزہ لینے اور طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اس کے برعکس ملک میں جو تھوڑی بہت ترقی ہوتی رہی ہے ، اسے عوام میں راسخ طالبان گروہ زائل کرنے میں کامیاب ہوتے رہے اور عام آدمی کو کبھی اس کا حقیقی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ اس صورتحال میں اصل سوال تو یہ ہے کہ مغربی ممالک کی فراہم کردہ کثیر امداد کے نتیجے میں افغانستان میں صنعتی اور تجارت کے شعبوں میں کیوں اضافہ نہیں ہو سکا تاکہ عام لوگوں کو روزگار اور خوشحالی نصیب ہوتی۔ صرف اسی صورت میں وہ طالبان کے گمراہ کن نعروں کا شکار ہونے کی بجائے کابل کے ذریعے مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنتے۔ لیکن اس منصوبوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور ترقیاتی امداد میں ملنے والے اربوں ڈالر کا بھی کوئی حساب دینے کو تیار نہیں ہے۔ نیویارک ٹائمز حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی فوج کی ساز باز کا سراغ لگانے کی ناکام کوشش کرنے کی بجائے اگر ان منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے سوال اٹھاتا اور امریکی اور افغان عوام کو جواب فراہم کر سکتا تو دونوں ملکوں کے عوام کے مفادات کا بہتر تحفظ ہو سکتا تھا۔
پاکستان کے حوالے سے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ اس بات کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھارت جیسے بڑے ملک میں اپنے تجارتی مفادات کے پیش نظر افغان جنگ شروع ہوتے ہی بھارت کو افغانستان میں پاﺅں جمانے کے لئے گنجائش فراہم کی۔ اس نے بھی افغان عوام کی ترقی کے لئے کام کا نعرہ لگاتے ہوئے کابل میں پاکستان دشمن لابی کو مستحکم کیا اور سرحدی علاقوں میں پاکستان کے خلاف جاسوسی کا نیٹ ورک استوار کیا۔ بلوچستان کے قوم پرستوں کے ذریعے ملک میں انتشار پیدا کرنے کے علاوہ بھارتی ایجنسی ”را“ نے کراچی اور دیگر علاقوں میں بھی دہشت گردی کی سرپرستی کی ہے۔ پاکستان جب بھی اس حوالے سے سوال اٹھاتا ہے تو نہ امریکی حکومت توجہ دیتی ہے اور نہ ہی امریکی میڈیا کو یہ ناانصافی دکھائی دیتی ہے کیونکہ انہیں بھارت کی وسیع منڈیاں عزیز ہیں۔ اسی لئے وہ نئی دہلی کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے۔
اسی حوالے سے پاکستان میں افغان مہاجرین اور سرحدی کنٹرول کے مسائل بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں لیکن امریکہ نے ہمیشہ انہیں حل کرنے میں اثر و رسوخ استعمال کرنے کی بجائے نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ جب پاکستان نے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر بعض مقامات پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا تو افغانستان فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ کیا امریکہ نے کابل سے دریافت کیا ہے کہ اگر دہشت گرد پاکستان سے افغانستان میں داخل ہو کر تباہی پھیلاتے ہیں تو سرحدوں پر کنٹرول سے تو اصل فائدہ اسے ہی حاصل ہو گا، تو اس کام کی مخالفت کس خوشی میں کی جا رہی ہے؟ اب افغان صدر اشرف غنی پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرے کیونکہ وہ انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن پاکستان کی اس ناکامی کی اصل وجہ خود افغان حکومت میں شامل وہ عناصر ہیں جو ایسی کسی کوشش کو پھلتا پھولتا دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں تا کہ اشرف غنی کی سیاسی پوزیشن بہتر نہ ہو جائے۔
پاکستان کے عوام اور میڈیا اپنی حکومت کی غلط پالیسیوں اور خطرناک اقدامات پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ امریکی میڈیا کو پاکستان کے نقائص دیکھنے کی بجائے واشنگٹن کی غلط کاریوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے افغان جنگ کے بعد پاکستان کو جنگی سہولتیں حاصل کرنے کے لئے وسائل فراہم کئے ہیں۔ اسے سروسز چارجز یعنی فراہم شدہ خدمات کا عوضانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا طعنہ دے کر پاکستان کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ البتہ دونوں ملک مل کر ایک دوسرے کی کمزوریوں اور مجبوریوں کو سمجھنے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں تو درست سمت کوئی قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali