شام سات سے رات بارہ بجے تک


\"1-yasir-pirzada\"ایک صحافی کہیں لیکچر دینے کے لئے مدعو تھا، لیکچر شروع کرنے سے پہلے اس نے حاضرین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کو معلوم ہے صحافی کون ہے ؟ ‘ ‘ایک شخص نے حاضرین میں سے ہاتھ کھڑا کیا اور بولا ’’صحافی وہ ہوتا ہے جو بڑی محنت سے گندم سے بھُوسا علیحدہ کرتا ہے اور پھر بھُوسا چھاپ دیتا ہے ! ‘ ‘ یہ لطیفہ مجھےاس لئے یاد آیا کیونکہ آج کل کے بیشتر ٹی وی ٹاک شو ز کچھ اسی قسم کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، اگر آپ روزانہ شام سات سے رات بارہ بجے تک نان سٹاپ یہ ٹاک شوز دیکھنا شروع کریں اور مسلسل پندہ دن تک یہ کام کریں تو سولہویں دن آپ کو یقین ہو جائے کہ (خاکم بدہن ) یہ ملک ٹوٹنے والا ہے، اس ملک میں خونی انقلاب آنے والا ہے جس میں لاکھوں لوگوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں گی، ہمارے ایٹمی اثاثے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے والے ہیں، پاک بھارت جنگ چھڑنے والی ہے، دہشت گردوں کا ملک پر قبضہ ہونے والا ہے، آئی ایم ایف نے کنپٹی پر پستول رکھ دی ہے، ملک دیوالیہ ہونے والا ہے، ملک میں خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے، خزانے میں صرف دو دن کے پٹرول کے پیسے باقی بچے ہیں، ملک کا سربراہ ملک چھوڑ کر بھاگنے والا ہے، صدر صاحب ایمبیولنس میں گھر واپس جائیں گے، ملک کا سار نظام تباہ ہو چکا ہے، ہر شخص بکاؤ مال ہے (سوائے اس اینکر کے جو یہ دہائی دے رہا ہے ) اور اگلے اڑتالیس گھنٹو ں میں ’’اہم فیصلے ‘ ‘ متوقع ہیں !

یہ ’’شام غریباں ‘ ‘ روزانہ برپا کی جاتی ہے اور ما سوائے چند ایک قابل احترام صحافیوں کے، ملک کی یہ بھیانک تصویر کشی کرنے میں بد قسمتی سے وہ اینکرز بھی شامل ہیں جنہیں ہم جینوئین صحافی کہتے ہیں۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ ایک بحث ہمارے میڈیا میں یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کی صحافت میں جو غیر ذمہ دارانہ رویہ اور سنسنی پائی جاتی ہے دراصل اس کے ذمہ دار وہ نان پروفیشنل لوگ ہیں جنہوں نے کبھی اخبار میں رپورٹنگ نہیں کی، کبھی نیوز ڈیسک پر نہیں بیٹھے اور صحافتی تربیت کے ان کٹھن مراحل سے نہیں گذرے جو اس پیشے کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس دلیل میں اب وزن نہیں رہا کیونکہ ایسے تمام لوگ جنہیں الیکٹرانک میڈیا میں اُس وقت کام کرنے کا موقع ملا جب یہ اپنے ہاتھ پاؤں پھیلا رہا تھا اور وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے اُن سب لوگوں کو بھی اِس دشت کی سیاحی میں قریبا دس دس سال ہو گئے ہیں سو یہ کہنا کہ وہ جینوئین صحافی نہیں، درست نہیں ہوگا۔ لیکن ایک منٹ کے لئے اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں صرف اُسی شخص کو اینکر پرسن ہونا چاہئے جس کے پاس پیشہ وارانہ صحافت کا کم از کم دس سالہ تجربہ ہو تو ذرا ایسے اینکرز (چند ایک کے علاوہ )کے پروگراموں پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لیں جو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے اس پیشے سے منسلک ہیں، کیا اُن کے پروگرام مختلف ہوتے ہیں؟ کاش اس ملک میں ’’ٹیلنٹڈ ‘ ‘ نوجوانوں کا کوئی گروہ (جیسا کہ آپ پچھلے ابواب میں پڑھ آئے ہیں کہ اس ملک میں ٹیلنٹ اُبل رہا ہے) گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والے ان ٹاک شوز اور اخباری کالموں کی پڑتال کر سکے جن میں ہمارے ان جید اینکر پرسنز اور تجزیہ نگاروں نے ببانگ دہل وہ تجزئے اور پیش گوئیاں کیں جو ایک کے بعد ایک غلط ثابت ہوئیں! اور اگر پانچ سال زیادہ لگ رہے ہیں تو یہ مدت گھٹا کر دو سال بھی کی جا سکتی ہے تاکہ اس میں اگست 2014 کا زمانہ بھی شامل کیا جا سکے اور ان اینکر پرسنز اور تجزیہ نگاروں کو یاد دلایا جا سکے کہ انہوں نے دو برس پہلے کیا پیشن گوئیاں اور تجزئے کیے تھے؟ افسوس کہ انہیں وہ سب یاد تو آجائے گا پر شرم نہیں آئے گی!

المیہ ہمارا یہ ہے کہ ہمارے تجزئیے حقائق پر نہیں بلکہ خواہشات کے تابع ہوتے ہیں اور پھر ہم اپنی رائے اس قدر قطعیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں گویا ہم نے سات سمندروں کے پانیوں کے برابر علم حاصل کر رکھا ہو۔ مہذب ممالک میں کوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی صاحب علم کیوں نہ ہو جب اپنا تجزیہ بیان کرتا ہے تو بولنے سے پہلے دس مرتبہ کہتا ہے کہ ’’ممکن ہے میرا تجزیہ درست نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ یہ میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ جو بات میں نے کی ہے وہ دراصل ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کہی گئی ہے ‘ ‘ وغیرہ وغیرہ۔ اپنے یہاں بھی سنجیدہ اور مہذب صحافی ایسے ہی گفتگو کرتے ہیں مگر باقی ماندہ کی بات ان جملوں سے شروع ہوتی ہے ’’آپ آج میری یہ بات لکھ لیں۔ ۔ ۔ ۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے جو میں نے بیان کر د ی ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں آپ کو خبر دے رہا ہوں کہ اب بات ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی ہے ! ‘ ‘ اور پھر اس پیشن گوئی کو ہفتوں کیا مہینوں گذر جاتے ہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ جناب آپ نے تو اپنے پروگرام میں فلاں صاحب کے جانے کی یہ تاریخ دی تھی، وہ تو غلط ثابت ہوئی تو اب کیا آپ نئی تاریخ دینے سے اجتناب فرمائیں گے! مزید لطیفہ یہ ہے کہ ایسے تمام تجزیہ نگارو ں کا اصرار ہے کہ انہیں ’’آزاد اور غیر جانبدار‘ ‘ بھی سمجھا جائے۔ میرا انہیں برادرانہ مشورہ ہوگا کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ ’’آزاد ‘ ‘ تخلص رکھ لیں اور اخبار میں اشتہار دیں کہ انہیں’’ آزا د‘ ‘ لکھا اور پکارا جائے کیونکہ سول حکمرانوں کو ٹھاپیں لگانے میں یہ واقعی آزاد ہوتے ہیں !

ایک وقت تھا جب میں ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر ہوا کرتا تھا، اُس اخبار سے وابستہ صحافیوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ۔ ۔ خبر کیسے تلاش کرنی ہے، اس کی تصدیق کیسے کرنی ہے، اس بات کا خیال کیسے رکھنا ہے کہ کہیں انجانے میں بڑی خبر وں کی لالچ میں آپ کسی کے آلہ کار تو نہیں بن رہے، خبر کی ایڈیٹنگ کیسے کرنی ہے، خبر کے اندر چھی ہوئی اصل خبر کیسے سرخیوں میں لانی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ تمام تربیت مجھے ان صحافیوں نے دی جو آج پاکستانی صحافت کے جگمگاتے نام ہیں مگر ان میں سے کچھ لوگوں کو آج جب میں اپنی ہی سکھائی ہوئی باتوں کی نفی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو بے حد دکھ ہوتا ہے، مجھے یوں لگتا ہے جیسے انہیں اپنے علم اور قابلیت پر بھروسہ نہیں رہا اور وہ مجبورا ریٹنگ کی اس دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں صرف سنسنی خیزی اوراس سسٹم کو ڈس کریڈٹ کرنے کا بیانیہ بِکتا ہے۔ غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے آنے والے نوجوانوں نے الیکٹرانک میڈیا میں سنسنی خیزی، چھاپوں اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ذریعے ریٹنگ حاصل کرنے جو روایت ڈالی ہے اس سے بیشتر چینل مالکان خاصے خوش ہیں کیونکہ ہماری تماش بین قوم یہ سب دیکھنا پسند کرتی ہے اور اس تماش بینی کی قیمت ان ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی شکل میں مل جاتی ہے۔ سو ایسے میں ان کہنہ مشق صحافیوں نے بھی وہی لائن اپنا لی ہے جس کے ذریعے ریٹنگ تو مل جاتی ہے مگر وقار نہیں ملتا۔ میری رائے میں اگر ایک پیشے میں بیس برس گذارنے کے بعد بھی کسی شخص کو یہ ٹینشن ہے کہ اگر اس کے پروگرام کی ریٹنگ نہ آئی تو اس کا پروگرام بند کر دیا جائے اور وہ بیروزگار ہو جائے گا تو پھر ایسے شخص کوچاہئے کہ وہ صحافت کو خیر آباد کہہ کر پیاز کی آڑھت شروع کردے، اللہ تعالی رازق ہے،وہ اسی کام میں برکت دے گا !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 122 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada