برطانیہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتالوں کا پس منظر


khurram niazi2016ء کا آغاز ہوتے ہی انگلستان کے جونیئر ڈاکٹروں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ یکے بعد دیگرے متعدد ہڑتالیں کر کے اس نئے کنٹریکٹ کی بھرپور مزاحمت کا اعلان کر دیا جو موجودہ قدامت پسند حکومت کے وزیر صحت جیرمی ہنٹ متعارف کرانا چاہتے تھے۔ تاحال برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن جو بڑے فخر سے خود کو ڈاکٹروں کی ٹریڈ یونین کہتی ہے اور حکومت میں مذاکرات کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے اور بے یقینی اور کشیدگی کی فضا موجود ہے۔ ڈاکٹروں کے اس احتجاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم برطانوی نظام صحت سے بخوبی واقف ہوں۔

کہانی یوں بھی سنائی جاسکتی ہے کہ ایک بہت ہی رحمدل، خدا ترس اور فیاض بادشاہ اپنی رعایا کی صحت کی فکر میں بیمار ہوگیا اور پھر اس کے خواب میں ایک نورانی شکل والے بزرگ تشریف لائے جن کی بشارت پر اس نے برطانوی قومی صحت کے ادارے کی داغ بیل ڈال دی۔ یہ بھی بتایا جاسکتا ہے کہ گوری چمڑی والے لوگ بہت سمجھدار اور ہوشیار واقع ہوئے ہیں، ان سے اپنے ہم نسل غریب غرباء کی حالت زار بس دیکھی نہیں جاتی چنانچہ انہوں نے صحت کا نیا نظام وضع کیا۔ لیکن یہ محض قاری کو گمراہ کرنے کی بات ہوگی۔ زیادہ معقول طریقہ یہ ہے کہ ان تاریخی اور سماجی حالات کا بغور مطالعہ کیا جائے جو نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا بھی لازمی ہے کہ ہر معاشرے میں دو قسم کی قوتیں ہوتی ہیں، ایک وہ جو اسے آگے لے جانے کی متمنی ہوتی ہیں دوسری وہ جن کی آرزو ہوتی ہے کہ اگر معاشرے کو پیچھے نہ دھکیل سکیں تو کم از کم وہیں روک دیں جہاں وہ ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب برطانیہ کی اپنی سرزمین نازی جرمنی کے شدید حملوں کی زد میں آ گئی تو ملک کے وجود کو خطرے کا ادراک کرتے ہوئے ایک مخلوط جنگی کابینہ تشکیل دی گئی جس میں تمام نمایاں سیاسی جماعتوں کے اکابرین شامل تھے۔ جنگی ضروریات کی تکمیل میں مزدور طبقات کو پیداواری عمل میں اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ مصروف اور ٹریڈ یونین کو ہڑتالوں سے باز رکھنے کے لئے 1942ء میں بیورج رپورٹ کے نام سے ایک سرکاری دستاویز شائع کی گئی جس میں صراحت کے ساتھ ان اقدامات کو بیان کیا گیا تھا جن سے برطانیہ میں ایک سوشل ویلفیئر ریاست کی بنیاد رکھی جاسکتی تھی۔ یہ ایک طرح سے برطانوی عوام سے وعدہ تھا کہ اگر ملک اس جنگ میں فتح یاب ہوا تو عوام کو ان کی قربانیوں کا صلہ ایک نسبتاً مساویانہ معاشرے کی صورت میں ملے گا۔ اس رپورٹ میں برطانوی معاشرے کی ترقی میں حائل پانچ سب سے بڑے عفریتوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور ان سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ پانچ عفریت ہیں: غلاظت، جہالت، ناداری، بیماری اور بے کاری!

5 جولائی 1948 کو نیشنل ہیلتھ سروسز(این ایچ ایس) کا قیام دراصل اسی طویل منصوبہ کا نتیجہ تھا۔ ہر شہری کو پنگھوڑے سے قبر تک صحت کی اعلیٰ اور معیاری سہولیات مفت فراہم کرنا این ایچ ایس کا بنیادی عہد قرار پایا۔ سالہا سال ترقی کرتے کرتے آج این ایچ ایس اپنے سترہ لاکھ ملازمین کے ہمراہ دنیا کا چوتھا بڑا ادارہ بن چکا ہے۔ اس کا بجٹ ایک سو دس ارب پاونڈ اسٹرلنگ ہے۔ یہ پوری دنیا میں علاج معالجہ کا اپنی نوعیت کا واحد اور عمدہ ترین نظام ہے۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک اس پر رشک کرتے ہیں۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے چند سال پہلے جب اوباما کیئر کے نام سے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا تو مثال کے طور پر این ایچ ایس کا حوالہ دیا تھا۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ آج این ایچ ایس برطانوی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلے چند سالوں سے یکے بعد دیگرے آنے والی مختلف حکومتوں کی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح این ایچ ایس کو پرائویٹائز کر دیا جائے۔

عوام کی خدمت پر مامور این ایچ ایس مسلسل تنگیء وسائل کی مہم کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ اب ہر سطح کے ڈاکٹروں میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کی تنخواہیں دوسرے پیشوں سے مقابلتاََ قلیل ہوتی جارہی ہیں اور معیار زندگی مسلسل زوال پذیر ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ اسناد کے حصول اور تربیت سے فارغ ہوتے ہی تیزی سے مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا اور امریکہ کا رخ کر رہی ہے جہاں حالات سازگار اور مشاہرے پرکشش ہیں۔

حکومتوں کی اس معاندانہ پالیسی کا سبب یہ ہے کہ برطانیہ بنیادی طور پر ایک سرمایہ دار ملک ہے جبکہ ‘صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے ‘ ایک سوشلسٹ تصور ہے۔ جب تک برطانیہ میں ٹریڈ یونین تحریکوں میں دم خم رہا این ایچ ایس کو ایک اہم ترین اور اساسی تنظیم کے طور پر کام کرنے دیا گیا لیکن مارگریٹ تھیچر کے بعد سے جہاں جہاں مزدور تحریک کمزور ہوتی گئی وہیں وہیں مخصوص مفادات این ایچ ایس کی آزادی میں حارج ہوتے گئے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر خدمت اور ہر قدر کا مقصد صرف منافع کا حصول ہوتا ہے چنانچہ اب مفت اور ہمہ گیر صحت ایک عیاشی معلوم ہو رہی ہے۔ آئے دن دائیں بازو کے حامی اخبارات میں ایسی خبریں اور رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں جن سے این ایچ ایس کے معیار کو بہت پست ثابت کیا جاسکے، اور مریضوں میں خوف پیدا کیا جائے کہ اموات کی شرح اوپر جارہی ہے۔

یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ برطانیہ میں طبی شعبہ میں بالعموم اور ڈاکٹروں کے لئے بالخصوص اخلاقی معیار بہت بے لچک اور بلند ہیں۔ انہیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلینکل ایکسیلینس(نائیس) کی تحریری رہنمائی پرحرف بہ حرف عمل کرنا ہوتا ہے۔ جنرل میڈیکل کونسل کی سخت ہدایت کے تحت وہ اپنے مریضوں سے بیش قیمت تحائف وصول نہیں کرسکتے بلکہ ادنیٰ ہدایات مثال کے طور پر گھر میں بنائے ہوئے جام کی بوتل کا بھی ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے۔ ان کے لئے لازمی ہے کہ ہر مقالے یا ریسرچ پیش کرنے سے پہلے قارئین اور سامعین پر باکل واضح کردیں کہ انہوں نے اس کی تیاری میں کسی ادویات کی کمپنی سے مالی اعانت اور تعاون تو حاصل نہیں کیا۔ اسی طرح فارماسوٹیکل کمپنیوں پر بھی پابندی ہے کہ وہ طبی اجلاس اور کانفرنسوں میں ڈاکٹروں کی ترغیب و تحریص کے لئے انہیں تحائف نہ دیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کے برعکس جہاں یہ کمپنیاں ڈاکٹروں کو فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام وطعام کا موقع دیتی ہیں۔ بیرون ملک سیر و سیاحت کے پیکجز اور ایئرکنڈیشنر اور کاروں سے لے کر نقد رقوم تک کی پیشکش کرتی ہیں، انگلستان میں اس کے عشر عشیر بھی متعلقہ کمپنی کا لائسنس منسوخ کروا سکتا ہے۔

2014 ء میں دولت مشترکہ کی ایک رپورٹ میں دنیا کے گیارہ امیر ترین صنعتی ممالک کے نظام صحت کے چار پہلوؤں کا یعنی معیار، عوام تک رسائی، مساوات اور کارکردگی کا جائزہ لے کر موازنہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ جو اپنی مجموعی قومی پیداوار کا سترہ فیصد صحت کی مد میں خرچ کرتا ہے آخری نمبر پر تھا جبکہ برطانوی نظام صحت محض نو فیصد رقم خرچ کرنے کے باوجود اول نمبر پر تھا۔


Comments

FB Login Required - comments