گھر، لڑکے اور بُوٹ


محمد جمیل اختر

jamil akhtarایک گھر تھا جو ان لڑکوں کے پُرکھوں نے بڑی محنت سے بنایا تھا، اور وہ اِس گھر کو ان لڑکوں کے حوالے کر کے رخصت ہوگئے۔ لیکن ان لڑکوں کی کبھی آپس میں نہ بن پائی، سارا دن گھر میں لڑتے رہتے، اُنہیں بھلا کس بات کا خوف تھا۔ وہ سارے گھر کے مالک تھے کہ گھر میں طاقتور بھی یہی تھے۔

جب پرکھوں نے گھر کی چابیاں بانٹیں تو یہی طاقتور لڑکے ہی آگے آگئے اور آگے والوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ انہی کے فیصلوں سے گھر کا نظام چلتا تھا۔ سارا دن گھر میں اودھم مچائے رکھتے، کبھی ایک چیز توڑی تو کبھی دوسری۔ ایک بار تو حد ہی ہوگئی کہ ایک کمرا جو تھوڑا فاصلے پر بنایا گیا تھا، ان لڑکوں نے توڑ دیا۔ کئی مکین اندر پھنس گئے تھے کہ جن کو بڑی مشکلوں سے باہر نکالا گیا۔ جان بچی سو لاکھوں پائے، کمرہ ٹوٹنے سے گھر کے باقی افراد کچھ ناراض تھے کہ اُس کمرے سے گھر کی معیشت بھی وابستہ تھی۔

ان میں سے ایک لڑکا اٹھا اور اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ منصوبے ہیں کہ جن سے گھر کی ڈوبتی معیشت پھر سے مضبوط ہوجائے گی۔ گھر کے سارے نظام اب ہم خود چلائیں گے۔ اور یوں گھر کی گاڑی چلتی رہی۔ انہیں کسی بات کا کچھ خوف نہیں تھا۔ ہاں کبھی کبھار یہ گہری نیند میں ہوتے تو انہیں بوٹوں کی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہ بہت پریشان ہوتے کہ آخر یہ بوٹ ہمیں خوابِ غفلت کی نیند سونے کیوں نہیں دیتے۔ کئی دن یہی خواب آتا رہا تو وہ ڈر گئے کہ ایسا خواب تو ان کے بڑے بھائیوں کو بھی آتا رہا تھا اور جس کی تعبیر کے بارے وہ سوچنے سے ڈرتے تھے۔

ایسا خواب ہر کچھ سال بعد کسی نا کسی کو ضرور دکھائی دیتا تھا اور اِس کی تعبیر یہ ہوتی کہ ایک روز لڑکے صبح اٹھتے تو گھر کا ہی ایک فرد ہاتھوں میں چھڑی تھامے پاؤں میں مضبوط چمڑے کی بوٹ پہنے انہیں ایسے غصے سے دیکھ رہا ہوتا کہ یہ چپکے سے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ جاتے اور تب تک بیٹھے رہتے جب تک کہ وہ بوٹوں والا آدمی کمرے سے باہر نہ نکل جاتا۔ اس دوران وہ آپس میں ایک دوسرے کو کہتے کہ اب ہم آپس میں کبھی نہ لڑیں گے، اور گھر کی ترقی کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے کہ یہ خواب اور یہ حقیقت ہمارے لڑنے اور نااہلی ہی کی سزا ہے۔

بھائی چارہ پھر سے پنپتا اور مستقبل کے سہانے منصوبے بنائے جاتے، بوٹوں والے شخص کے جانے کے بعد یہ لڑکے پھر گھر کا سارا نظام سنبھال لیتے اور سارے منصوبے بھول کر پھر آپس میں لڑتے جھگڑتے۔

یہ لڑکے ہر بار اپنے گرد ایک مضبوط حصار بنالیتے تاکہ بوٹوں والا شخص اُن کا یہ حصار کبھی نہ توڑ سکے لیکن ایسا آج تک کبھی نہیں ہوا کہ بوٹ والا شخص بہت طاقتور ہے، اِن لڑکوں سے بھی زیادہ طاقتور، وہ جب چاہتا ہے اِن کا حصار توڑ کر گھر کا نظام سنبھال لیتا ہے۔

یہ کہانی آگے بھی ایسے ہی ہے کبھی خواب تو کبھی حقیقت۔۔۔لڑکے آج بھی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ وہی پرانا مدعا کہ اِن میں سے چور کون ہے۔ ایک دوسرے پر چور چور کے آوازے کسے جارہے ہیں۔ اور کسے خبر کہ آج بھی اِن لڑکوں کو بوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی ہو۔


Comments

FB Login Required - comments