ڈاکٹربیدل حیدری کی بیوہ اور ان کے شاگرد


razi uddin raziاس تحریرکے ذریعے ڈاکٹر بیدل حیدری کے شاگردوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر بیدل حیدری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اردو غزل کا ایک معتبر حوالہ، ایک منفرد شاعر۔ ایک ایسا شاعر کہ جس نے کبیروالہ میں بیٹھ کر اپنی پہچان کرائی۔ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ بیدل صاحب کے شاگردوں کی بڑی تعداد دنیا بھر میں موجود ہے۔ شاگرد ان سے محبت بھی کرتے ہیں، عقیدت بھی رکھتے ہیں اوراپنی تحریروں کے ذریعے اس محبت اور عقیدت کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ فہرست تو بہت طویل ہے لیکن میں چند ناموں پر اکتفا کروں گا۔ اورصرف ان دوستوں کا ذکر کروں گا جو میرے حلقہ احباب میں شامل ہیں اورجن سے میرا بھی ایک محبت بھرا تعلق ہے۔ ان میں پہلا نام ڈاکٹر اخترشمار کا ہے۔ ان کے بعد ناصر بشیر اور پھر شکیل سروش اور صادق راہی ہیں۔ یہ سب بیدل حیدری کے نام لیوا ہیں۔ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے بیدل حیدری سے بہت کچھ  سیکھا۔ ڈاکٹر اخترشمار شعر وادب اور شعبہ تعلیم کے حوالے سے ایک معتبر نام ہے۔ ناصر بشیر شعر بھی کہتے ہیں اور صحافت کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ یہ دونوں دوست لاہور میں مقیم ہیں اور ہم انہیں متحرک اور فعال دیکھتے ہیں تو خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہم ان دونوں دوستوں کو بااثر بھی سمجھتے ہیں اور اس لیے بااثر سمجھتے ہیں کہ ان کا ان تمام قلمکاروں کے ساتھ رابطہ ہے جو مقتدر حلقوں میں اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔ شکیل سروش بیرون ملک مقیم ہیں اور گزشتہ برس انہوں نے ڈاکٹر بیدل حیدری کی کلیات انتہائی خوبصورت انداز میں شائع کر کے ادبی حلقوں سے بھرپور پذیرائی حاصل کی۔ کلیات جس اہتمام کے ساتھ شائع کی گئی اس سے ڈاکٹر بیدل حیدری کے ساتھ شکیل سروش کی بے پناہ محبت جھلکتی ہے۔ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو یہ بات بھی زیربحث آئی تھی کہ استاد بیدل حیدری کو یہ خوشی ان کی زندگی میں تو نہیں مل سکی۔ اگر یہ کلیات اسی اہتمام کے ساتھ ان کی زندگی میں شائع ہوتی تو وہ کتنے خوش ہوتے۔ بعض دوستوں نے یہ بھی کہا کہ جو اخراجات اس کتاب کی اشاعت پر آئے اگر ان سے بیدل حیدری مرحوم کی بیوہ اور بچوں کی زندگیوں میں کچھ خوبصورتی پیدا کردی جاتی تو شاید بیدل حیدری کی روح کو زیادہ تسکین ہوتی۔ کچھ دوستوں نے یہ بھی کہا کہ اس کتاب کی رائلٹی بیدل صاحب کے ورثا کو ملنی چاہیے لیکن اس خیال کو بعض دوستوں نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ کلیات شائع ہو جانا اور بیدل صاحب کا تمام کلام محفوظ ہوجانا ہی غنیمت ہے۔ ویسے بھی ایک ہزار روپے قیمت والی کلیات ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونا تو ممکن نہیں کہ ناشر سے اس کی رائلٹی کا تقاضا کیا جا سکے۔ واپس موضوع کی طرف آتا ہوں اور بیدل حیدری کے چوتھے شاگرد صادق راہی کا ذکر کرتا ہوں۔ صادق راہی کا تعلق مخدوم پور پہوڑاں سے ہے اور آج کل بریگیڈیئر کی حیثیت سے اسٹیشن کمانڈر کھاریاں کے عہدے پر فائز ہیں۔ صادق راہی اپنے استاد سے بے پناہ محبت بھی کرتے ہیں اور گاہے گاہے کبیروالہ بھی آتے ہیں۔ اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب اورآپ کو یہ بتاتے ہیں کہ بیدل حیدری کے ان بااثر اور معتبر شاگردوں کے تذکرے کی آج ضرورت پیش کیوں آئی۔ گزشتہ رات فیس بک پر ارباب جہانگیر ایڈووکیٹ کی ایک تحریر نظر سے گزری جس میں انہوں نے کبیروالہ کے شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کو مخاطب کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں،

”مجھے یہ پوسٹ لگانے کا بہت افسوس ہے مگر میں ایک ماں کی شکستہ حالت برداشت نہیں کر سکا اور مجبوراً اس صورت حال کو تمام دوستوں کے سامنے لانا ضروری سمجھا۔ دنیا بھر میں 8 مئی کو ماں کا عالمی دن منایا گیا مگر کبیروالہ میں ایک ماں ایسی بھی ہے جو زبوں حالی کا شکار ہو کر لوگوں کے گھروں میں اپنی زندگی کے آخری پل گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ وہ ماں ہے جس کے ہاتھ کی روٹی کھا کر اس کا خاوند دنیا بھر کے لوگوں کو شاعری کے گر سیکھاتا تھا۔ یہ اس شخص کی بیوہ ہے جس کے ہاتھوں کے لگائے پودے آج شجر بن کر دنیا میں چھاﺅں کا باعث بنے ہیں۔ آج وہ شخص تو ہم میں نہیں مگر اس کی بیوہ کو سینکڑوں اشجار میں سے کسی ایک ایسے شجر کی ضرورت ہے جو اپنی چھاﺅں میں اس ماں کی زندگی کے آخری لمحات کو سکون سے گزارنے کا موقع دے سکے۔ یہ اس شخص کی بیوہ ہے جسے استاد سخن، برصغیر پاک وہند کا نامور شاعرجیسے الفاظ سے آج بھی یاد کیاجاتا ہے۔ جس کی یاد میں محفلیں تو منائی جاتی ہیں مگر افسوس کہ ہم اس شخص کے نام کو تو کیش کرواتے ہیں، محفلیں سجاتے ہیں مگر کبھی ہم نے اس کی بیوہ کی خبرنہیں لی۔ ہم بیدل حیدری کے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑ کر بڑے تو بن رہے ہیں، مفاد بھی لیتے ہیں مگر کیا ہم اس شخص کے ساتھ، اس کی شاعری کے ساتھ، اس کے خاندان اور دھکے کھاتی بیوہ کے ساتھ انصاف کررہے ہیں؟“۔ ارباب جہانگیر نے اس کے بعد کبیروالہ کے شاعروں اور صاحب ثروت افراد کو مخاطب کیا ہے اور تجویز پیش کی ہے کہ بیدل حیدری کی بیوہ اور اہل خانہ کو آسودگی فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ ارباب جہانگیر کی اس پوسٹ پر چند لوگوں نے رائے دی جن میں بیدل صاحب کے کسی شاگرد کا نام شامل نہیں۔ فیس بک پر لگائی گئی ایسی تحریروں پر ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ صورت حال کی تصدیق کرلی جائے۔ ارباب جہانگیر نے جو کچھ تحریر کیا کبیروالہ کے احباب نے اس کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بیدل صاحب کاایک بیٹا ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گیا تھا اور دوسرا بیٹا منشیات کاعادی ہو کر سڑکوں پر کاغذ چنتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی صاحبزادی مقامی سکول میں ٹیچر ہیں اور بیوہ مختلف گھروں میں پناہ لیتی ہیں۔ بیٹی انہیں آکر اپنے گھر لے جاتی ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد یہ خاتون کسی اور کے گھر میں پناہ لے لیتی ہیں۔ اس تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ بیدل حیدری کے شاگردوں کو اپنے استاد سے محبت اور عقیدت کاعملی ثبوت دینا ہے تو وہ ان کے اہل خانہ کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے عملی کوششیں کریں۔ میں نے جتنے نام بھی گنوائے وہ بااثر بھی ہیں اور ایسے منصب پربھی فائز ہیں کہ کوئی عملی صورت نکال سکتے ہیں۔ بیدل حیدری کو ان کی زندگی میں اکادمی ادبیات کی جانب سے جو وظیفہ ملتا تھا اس کی اب کیا صورت ہے اور کیا وہ وظیفہ ان کی وفات کے بعد بند کر دیا گیا۔ ان تمام سوالات کا جواب ضروری ہے۔ اوراس سلسلے میں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو، محترم عطا الحق قاسمی اور دیگر بااثر قلمکاروں سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments