صنعتی شعبے میں انسانی جان کی بے توقیری


\"mujahidاتوار کا آغاز کراچی سے آنے والی اس المناک خبر سے ہؤا ہے کہ چھٹی کے روز کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پلاسٹک کا دانہ بنانے والی ایک فیکٹری کا کیمیکل ٹینک صاف کرنے والے پانچ مزدور جاں بحق ہوگئے۔ ایک مزدور معجزانہ طور پر بچ گیا۔ پولیس نے فیکٹری کو سیل کردیا ہے لیکن ابھی تک فیکٹری کے مالک یا کسی دوسرے ذمہ دار کو تلاش کرکے اس حادثہ کی وجہ اور تفصیل جاننے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ غریب مزدوروں کی ہلاکت چونکہ ایک عمومی اور ’فطری’ معاملہ سمجھ لیا جاتا ہے ،اس لئے جب تک پولیس مالکان تک پہنچے گی، وہ ضمانت قبل از گرفتاری کروا چکے ہوں گے۔

خبروں کے مطابق فیکٹری کے مالک نے آج چھٹی کی وجہ سے چھ مزدوروں کو خاص طور سے فیکٹری میں نصب ایک کیمیکل ٹینک صاف کرنے کے لئے بلایا تھا۔ وہ اس مقصد کے لئے ٹینک میں اتر گئے لیکن تھوڑی دیر بعد ان کی لاشیں وہاں سے نکالی گئی ہیں۔ ابھی تک اس سانحہ کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔ مزدوروں کی لاشیں جناح اسپتال پہنچائی گئی ہیں لیکن ان کا پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی وجہ سے موت کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکتا۔ مالک چونکہ دستیاب نہیں ہے، اس لئے اس کا مؤقف بھی سامنے نہیں آ سکا ہے۔ میڈیا میں اس خبر کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مشتمل باتیں کی جائیں گی ، اور پھر یہ سانحہ منظر نامہ سے غائب ہو جائے گا۔

پاکستان میں ہر پل ہر گھڑی انسانی جان کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ ہر تھوڑی دیر بعد کسی حادثہ ، سانحہ یا واقعہ میں کسی نہ کسی کے مرنے کی خبر سامنے آجاتی ہے۔ اس لئے اگرچہ اس سانحہ میں پانچ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں لیکن یہ خبر بھی دوسری خبروں کے ہجوم میں منظر نامہ سے غائب ہو جائے گی۔ اس کے بعد پولیس مالکان کے ساتھ مل کر اس واقعہ کو داخل دفتر کردے گی اور جن پانچ خاندانوں کے کفیل کسی کی انسانیت سوز غفلت یا قانون شکنی کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے ہیں ، وہ زندگی کے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تنہا رہ جائیں گے۔

پولیس نے اگرچہ یہ فیکٹری سیل کردی ہے۔ لیکن کوئی حادثہ رونما ہونے کے بعد کارروائی کرنا تو ہمارے با اختیار اداروں کا معمول ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کی اسمال انڈسٹری میں حفاظتی امور کی نگرانی کرنے والے ادارے قبل از وقت کسی صنعت میں کوتاہی اور ایسے معاملات کا سراغ لگا کر ، کیوں اسے بند کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ دنیا بھر میں صنعتوں کو محفوظ بنا لیا گیا ہے اور صنعتی حادثات کی خبریں صرف ان ملکوں سے ہی سامنے آتی ہیں جہاں انسانی جان کو بے توقیر سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ بنگلہ دیش ہو، پاکستان ہو یا بھارت، متعلقہ اہلکار نااہلی اور رشوت ستانی کی وجہ سے خطرناک صنعتی یونٹس کو مالکان کے لالچ اور منافع خوری کے لئے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور جب کسی افسوسناک سانحہ میں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں تو متعلقہ ادارے تو منظر نامے سے غائب ہوجاتے ہیں اور معاملہ پولیس اور عدالت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

اس صنعتی حادثہ کی روشنی میں صوبائی حکومت، کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے تمام یونٹس کا کنٹرول کریں جہاں مزدوروں کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات سے گریز کیا جاتا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 560 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali