نقل کلچر میں ڈوبی ہوئی سندھ کی نسل


raja rajenderکسی صاحبِ فہم نے بہت ہی حقیقت پسند بات کہی ہے کہ ” اگر کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا ہو تو اُس قوم کی تعلیم کو تباہ کرو، وہ قوم خود بہ خود تباہ ہو جائی گی۔”

سندھ میں تعلیم تباہ ہونے کے پیچھے ایک اہم پہلو امتحانات میں نقل بھی ہے، میٹرک اور انٹر کے حالیہ امتحانات  میں کی جانے والی نقل نے ساری حدود عبور کر دیں۔

سندھ میں کاپی کلچر کی ابتداء جنرل ضیاءالحق کے دور سے ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ سازشی عناصر نے پہلے تو سندھ کے بڑے بڑے شہروں کے سکولوں میں نقل کروانے کی بنیاد رکھی اس کے بعد یہ سازش آہستہ آہستہ پورے سندھ میں ایک رواج کا روپ دھار بیٹھی۔ گویہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ عناصر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکے ہیں جیسے کہ یہ نقل کروانے کا کلچر گذشتہ چوالیس برسوں سے جاری و ساری ہے۔

آجکل تو نقل کروانے کا یہ کلچر اتنا عام ہو چکا ہے کہ اس کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بن چُکی ہیں اور یہ تصاویر بحث و مباحثہ کا مرکز ہیں۔

سندھ میں سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری کے امتحانات کا موسم آتے ہی کتاب گھروں میں طلبہ کا رش لگ جاتا ہے، نئی نئی گائیڈس مارکیٹ میں آ جاتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ فوٹو کاپی مشینوں کی جاچ پڑتال کی جاتی ہے تاہم فوٹو کاپی کے دوران کوئی مسئلہ نہ درپیش آئے اور سکولوں تک یہ کارتوس باآسانی پہنچ سکیں۔

مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں بورڈ کے امتحانات دے رہا تھا تو میرے والد محترم نے ہمارے کالج کے وائس پرنسپل کو فون کرکے مجھے اچھی طرح کاپی کروانے کو کہا تھا، وہ میرے والد کے بہت اچھے محسن تھے۔ خیر میں اُس لمحے کو یاد کرکے آج تک جتنا شرمندہ ہوں وہ میں بیاں نہیں کر سکتا۔ یہ صرف میری کہانی نہیں یہ سندھ کے تقریباً ہر طالبِ علم کی کہانی ہے، میری کہانی ہمارے معاشرے میں کاپی کلچر سے متاثر ہونے والے ہر ایک طالبِ علم کی ترجمانی کرتی ہے۔

سندھ کا تقریباً ہر ایک نوجوان کاپی کلچر کی اس لعنت سے گذرتا ہے اور بعد ازاں اس کے باعث شرمندہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کے خلاف کوئی بھرپور آواز بلند نہیں کرتا، کوئی یلغار نہیں کرتا، اندھیرے میں کوئی شمع نہیں جلاتا۔۔۔ افسوس صد افسوس۔

کچھ روز پہلے بدین میں میری ملاقات ایسے ہی ایک طالبِ علم سے ہوئی جوکہ سویرے سویرے پیپر دینے جا رہا تھا، جب میں نے اُس سے پوچھا کہ ‘پیپرز کیسے چل رہے ہیں بھائی؟’ تو مجھے یہ سن کے تسلی ہوگئی کہ نقل کا یہ نظام بالکل ویسے کا ویسا ہی جاری ہے۔اُس نے کہا کہ  ہمارے اساتذہ خود ہمیں نقل کرواتے ہیں، لہذا کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ٹیم آ جائے تو کچھ دیر کے لیے کاپی روک دی جاتی ہے، بس یہیں ایک لمحہ ہے جو کہ ناگوار گزرتا ہے۔

وہ آگے بتاتا ہے کہ ‘یوں تو سکول انتظامیہ نے موبائل لانے پہ پابندی لگائی ہے مگر پھر بھی ہم موبائل لے جاتے ہیں، واٹس ایپ کے ذریعے پیپر کا فوٹو آئوٹ کرتے ہیں اور چند ہی لمحے بعد باہر سے حل کیا ہوا پیپر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔

پھر میں نے ان سے پوچھا ‘سنا ہے آجکل تو اساتذہ اندر سے ہی سب کو حل کئے ہو ئے پیپرز دیتے ہیں؟’ تو اس نے کہا، نہیں وہ ہر کسی کو نہیں دیتے، وہ بس اپنے من پسند طلبہ کو ہی دیتے ہیں۔ اگر وہ ہر کسی کو حل کئے ہوئے پیپرز دیتے تو باہر سے کسی کی مدد کی کیا ضرورت ہوتی۔ مجھے اُس کی اس بات پر بہت تعجب ہوا اور ہنسی آنے لگی۔

میں آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ اساتذہ نقل اس وجہ سے کرواتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں ان کی مقرری میرٹ کے بنیاد پر نہیں ہوتی۔ ان کو اپنی عزت بچانے کے کیے مجبوراً نقل کروانی پڑتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کامیاب ہو سکیں اور ان کے ساتھ وہ خود بھی احتساب سے بچ جائیں۔

ہمارے معاشرے میں کاپی کلچر کو بالا کرنے کے پیچھے ایک بڑا سبب پرائویٹ سکولز بھی ہیں، بڑے بڑے سکولز اپنے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ نقل کرواتے ہیں تاکہ ان کے طلبہ اچھے نمبرز لے کے کامیاب ہوں۔ آجکل یہ باتیں بھی عام ہونے لگی ہیں کہ یہ سکولز مختلف تعلیمی بورڈز کو پیسے دے کر پوزیشنز خریدتے ہیں تاہم سب کو پتا چل سکے کہ پہلی، دوسری یا تیسری پوزیشن کس سکول یا کالج کے طالبِ علم کی آئی ہے اور یہ سن کر بچارے کم فہم والدین اپنے بچوں کو ان ہی کالجز میں داخلہ لے کر دیتے ہیں۔ اس سے ان تعلیمی اداروں کی نہ صرف مشہوری ہوتی ہے بلکہ ان کا کاروبار بھی خوب بڑھ جاتا ہے۔

اکثر یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ کیوں سندھی معاشرے سے کوئی اسٹیفن ہاکنگ، مارک زوکر برگ، نام چومسکی، جیمس واٹسن، ڈاکٹر عبدالسلا م، پرویز ہودبھائی پیدا نہیں ہوتا، حالانکہ سندھ نے ادب کی تقریباً ہر صنف میں بڑے نام پیدا کیے ہیں؟ میں اس سوال کے جواب میں کہنا چاہون گا کہ ادب اور سائنس دو الگ الگ مضامین ہیں اور دونوں کو کسی بھی معاشرے میں سانس لینے کے لیے مخصوص حالات اور دیگر وجوہات درکار ہیں۔ جہاں تک سائنس کی بات ہے تو کاپی کلچر اور ایسے نام نہاد ٹیکسٹ بوکس سے سائنسی دماغ پیدا کرنا  ناممکن ہے۔

سندھ کے ایک تعلیم داں لیاقت میرانی کا کہنا ہے کہ “کاپی کلچر ہماری قوم کی میراث اور اہلیت کا بڑا دشمن ہے۔”

کاپی کلچر اور اس کے ساتھ سفارشی کلچر کا یہ بدترین زنگ سندھ پبلک سروس کمیشن کو بھی لگ چُکا ہے، اس کا ثبوت پچھلے سال ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کے عہدون کے امتحانات کے نتائج مین واضح ملتا ہے، جس میں ایس۔پی۔سی۔ایس۔ کے بڑے بڑے عہدیداروں کے بیٹوں، بھائیوں اور رشتیداروں کا بڑی تعداد میں کامیاب ہونا ایک حیران کن بات ہے۔

جب ایک سندھی صحافی نے اس معاملے پر کمیشن کے سیکریٹری شفیع محمد سے فون پر گفتفو کی تو سیکریڑی صاحب نے کہا کہ کمیشن میمبران کے کامیاب ہونے کی کوئی معلومات نہیں۔ اس پہ ان سے پوچھا گیا  سیکریٹری صاحب سنا ہے آپ کا بیٹا بھی کامیاب ہوا ہے تو انہوں نے فون ہی کاٹ دیا۔

صوبے سندھ میں کاپی کلچر اور سفارشی کلچر کا خاتمہ ہونا ناممکن سا لگ رہا ہے۔ اگرچہ اس المیے کو ختم کرنے کے لیے حال اور ماضی میں اقدامات بھی کئے گئے ہیں لیکن وہ کوئی خاطرخواہ نتائج نہیں دے پائے ہیں۔  جس کا ثبوت کچھ روز قبل چل رہے بورڈز کے امتحانات میں مل چُکا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کے کسی کو اس المیے کی کوئی پرواہ نہیں، ہمیشہ کی طرح حکومتی ادارے خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں، یہاں تک کہ والدین بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments