محلے کی دائی اور وزیر اعظم کا استعفی


            zafar kakar  پشتو کے لوک ادب میں ایک صنف نقل کی ہے۔نقل کا آسا ن ترجمہ’ مختصر کہانی‘ سمجھ لیں۔دسمبر کی سرد راتوں میں نانا جی لالٹین کی روشنی میں کتاب پڑھتے رہتے اور میں دیر تک انتظار کرتا رہتا کہ نانا سے نقل سن کر سوﺅں گا۔طویل انتظار کے بعد نانا کتاب سے سر اٹھاتے۔ مصنوعی حیرت سے پوچھتے، تورو! تم ابھی تک جاگ رہے ہو؟ میں بھی مصنوعی روہانسا ہو کر کہتا، ’ نقل سننی ہے‘۔ نانا کتاب اوپر رکھتے۔ انگیٹھی ہٹا کر دہکتے کوئلوں کو آتش گیر سے آہستہ آہستہ پھیلا دیتے۔ لالٹین کی لو دھیمی کرتے۔ نیم دراز ہو کر پاﺅں پر رضائی ڈال دیتے اور نقل سنانی شروع کر دیتے۔ایسی ہی راتوں میں سے کسی رات کی داستان ہے۔ نانا نے نقل سے پہلے بتایا کی کیمیا پرانے زمانے میں کسی بوٹی کو کہتے تھے جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس سے سونا بنتا ہے۔

پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک کیمیا گر تھا جس کے دو جوان بیٹے تھے۔ دونوں جوان کڑیل پہلوان تھے۔چھوٹا شمشیر زنی میں یکتا تھا تو بڑا تیر اندازی میں یگانہ روزگار تھا۔ باپ کو چھوٹا بیٹا بہت لاڈلا تھا۔ اس کے اطوار شریفوں والے تھے۔ بڑا بیٹا خود سر تھا۔ بات بات پر لڑتا جھگڑتا رہتا تھا۔آس پاس کے آٹھ آٹھ کوس کے لوگ اس کی شر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔کیمیا گر برسوں کی محنت کے بعد قریب تھا کہ سونا بنا لے۔ ایک دن دونوں بھائی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گئے تھے۔ شام کو واپس لوٹے تو دیکھا کہ کٹیا میں بابا کی لاش پڑی تھی اور ایک کالا ناگ ان کی پیروں سے لپٹا تھا۔بابا کو دفنایا۔ کچھ دن افسوس میں گزرے۔ ایک دن بڑے نے چھوٹے سے کہا، ’ بابا کوتمہاری وجہ سے ناگ نے کاٹا، میں اس دن کہہ بھی رہا تھا کہ لکڑیاں کاٹنے میں اکیلے جاﺅں گا لیکن تم مانے نہیں‘۔ اس پر چھوٹا بولا، ’ میں نے بھی تو کہا تھا کہ میں جاﺅں گا۔ آپ کیوںنہیں رکے‘۔ بات توتو میں میں تک پہنچ گئی۔اور اس توتو میں میں نے جھگڑے کی صورت اختیار کر لی۔ ایسے میں بڑے نے کہا کہ اب ہم ایک گھر میں نہیں رہ سکتے۔ اب تو بٹوراہ ہو گا۔ بٹوارہ تھا بھی کس چیز کا،میراث میں صرف دو ہی تو چیزیں تھیں۔ ایک کیمیا اور ایک سلیمانی ٹوپی۔

بڑے نے کہا کہ میں بڑا ہوں۔ بٹوارے کا حق مجھے حاصل ہے۔ تم سلیمانی ٹوپی لے لو میں کیمیا لے لیتا ہوں۔ چھوٹے نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔میں نے زندگی میں ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ خود کو لوگوں کی نظر سے چھپانے کے لئے سلیمانی ٹوپی پہنا کروں۔ تمہارے کام ویسے بھی سلیمانی ٹوپی والے ہیں۔ ٹوپی آپ لے لو اور مجھے کیمیا دے دو۔بات بن نہیں رہی تھی۔ بڑے نے غصے میں تلوار نکال لی۔چھوٹے نے کہا، بھائی یہ کام تلوار کا نہیں ہے لیکن اگر تم نے طے کیا ہے کہ فیصلہ تلوار کرے گی تو تم جانتے ہو کہ شمشیر زنی میں تم ہار جاﺅ گے۔ اگر اپنی جان عزیز ہے تو اپنی تیر کمان لے لو۔ بڑے کو اس بات سے سبکی محسوس ہوئی اور اس نے کہا ، نہیں اب تو فیصلہ تلوار سے ہی ہو گا۔ دونوں تلواریں میان سے نکلیں۔ دونوں بھائی ایک دوسرے سے لڑنے کو تیار کھڑے تھے کہ سامنے سے منصف آ گئے۔

 منصف کے بارے میں مشہور تھا کہ بادشاہ وقت کے دربار میں قاضی رہ چکے تھے۔سفید ریش بزرگ۔ چمکتی پیشانی اور آنکھوں میں حکمت کے دیئے جلتے محسوس ہوتے تھے۔جب سے گاﺅں میں آئے تھے پورا گاﺅں اور آس پڑوس تک آٹھ آٹھ کوس میں پھیلے لوگ انہی سے فیصلے کرواتے تھے۔منصف نے بہت پیار سے مدعا پوچھا۔مدعا گوش گزار کرایا گیا تو مصنف گویا ہوئے۔دنیا کی تایخ گواہ ہے کہ بہادروں کے فیصلے ان کی طاقت کرتی ہے۔میرے پاس ایسا کوئی اصول نہیں جس کی بنیاد پر میں کسی کو کیمیا دے دوں یا پھر سلیمانی ٹوپی دے دوں۔ تم دونوں وقت کے منجھے ہوئے پہلوان ہو۔ ایک دوسرے سے زور آزمائی کر لو۔ جو جیتا اسے مرضی دی جائے گی۔

دونوں بھائی ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے۔ کبھی چھوٹا گرتا کبھی بڑا گرتا۔ بات بڑھتی گئی۔ بڑے کے ہاتھ تلوار آگئی۔ تلوار اٹھتی ہے تو دفاع انسان کا جبلی تقاضا ہے۔ ایک تلوار چھوٹے نے بھی اٹھا لی۔ تلوار کا کھیل شروع ہو جائے تو خون کا بہنا لازم ٹہرا۔ بالآخر چھوٹے کا وار کاری ہوا اور تلوار بڑے بھائی کا پیٹ چیرتی ہوئی نکل گئی۔ بڑا زمین پر گر پڑا۔ چھوٹے بھائی کو احساس ہو ا کہ کیمیا یا ٹوپی کے لئے ماں جایا مارنا ظلم تھا۔ اس نے تلوار پھینکی اور بڑے بھائی کی طرف دوڑ پڑا۔ بڑے بھائی کی آخری سانسیں چل رہی تھی۔چھوٹے نے بڑے کو گود میں لیا۔ بڑے کی انکھوں سے آنسو جاری تھے اور لب کپکپا رہے تھے۔ اس کی منہ سے صرف ایک جملہ نکلا۔ بھائی منصف چال چل گیا۔ چھوٹے کو منصف کا خیال آیا۔ اس نے منصف کی جانب دیکھا تو سفید ریش منصف چمکتی پیشانی اور آنکھوں میں حکمت کے دیئے لئے ہوئے تھا مگر اس کے چہرے پر ایک مکروہ مسکراہٹ تھی۔ بڑے بھائی کی روح پرواز کر گئی۔ چھوٹے نے اس کا جسد زمین پر رکھا اور تلوار اٹھا کر منصف کی جانب چل پڑا۔ منصف اب بھی مسکرا رہا تھا۔اس کے ایک ہاتھ میں کیمیا تھی اور دوسرے ہاتھ میں سلیمانی ٹوپی۔ جونہی چھوٹا اس کے قریب پہنچا۔ منصف نے کیمیا پر گرفت مضبوط کی اور سلیمانی ٹوپی اٹھا کر سر پررکھ دی۔ آن کی آن میں منصف غائب تھا۔چھوٹا بت بنا کھڑا رہا۔ بابا کی میراث میں نہ کیمیا ملی اور نہ ٹوپی ملی۔ ملی تو بس ماں جائی بھائی مٹی میں پڑی لاش ملی۔

ادھر وطن عزیز میں ایک مشہور منصف گزرے ہیں۔چشم رسا کو وہ وقت یاد ہے جب آمریت کے تحت حلف لینے والوں نے پھر سے آمریت کا ڈنکا بجایا۔ خطابت کے جوہر کار سیاست کے یکتا وکیلوں نے دکھائے۔ قوم کو بتایا گیا کہ آمریت نے مظلوم شہری کے ہاتھ سے آئین کی ڈھال چھین لی ہے۔ منصف جبر کے خلاف استعارہ قرار پائے۔ مظلوموں کے سیل رواں منصف کے ڈھال بن گئے۔ وقت نے منصف کے لئے گرتی لاشیں بھی دیکھیں اور سڑکوں پر گرتے جوان بھی دیکھے۔ اخلاقی اصولوں کا اعلی ترین نمونہ منصف کرسی انصاف پر پھر سے جلوہ افروز ہوئے تو پکوڑوں اور چینی کی قیمتوںسے آگے بڑھ نہ پائے۔ اب سنتے ہیں کہ منصف کار سیاست سے شغل فرما رہے ہیں۔ وطن عزیز میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان چور چور کا کھیل جاری ہے۔ ایسے میں منصف کی آواز آئی کہ وزیر اعظم حالات خراب ہونے سے قبل استعفی دے دے۔سوال یہ نہیں کہ وزیراعظم نے ٹیکس بچایا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے صدر نے( غیر منتخب سہی) جس سے ایک پی سی او کے تحت اسی ذات شریف نے حلف لیا تھا، جب ایک سرکاری ملازم سے استعفی طلب کیا تھا تو وہ غیر آئینی تھا اور ایک منتخب پارلیمنٹ کے منتخب وزیراعظم سے ایک غیر منتخب فرد کس اصول پر استعفی طلب کر رہا ہے؟ ۔ جمہوری ممالک میں لوگوں کے درمیاں جمہوری مکالمہ ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں بدقسمتی سے انقلابی لارے دئے جاتے ہیں۔منتخب حکومتوں کے لئے کبھی تو گیٹ پھلانگے جاتے ہیں اور کبھی امپائر کی انگلی کا انتظار رہتا ہے۔ ان چیزوں میں ناکامی ہو تو پھر راولپنڈی کے قلعوں یا کوئٹہ کی حویلوں سے ایسے پر اسرار نعرے اٹھتے ہیں جسے بقول استاد یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’ رات کے اندھیرے میں جیسے سسر محلے کی دائی کو آواز دیتا ہے ” خورشید گل سن“۔ عرض یہ ہے کہ جمہوری معاشروں احتساب کے لئے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ امپائر انگلی اٹھا دو، وزیر اعظم استعفی دے دو، خورشید گل سن لو، سے جمہوریت کبھی نہیں پنپتی۔ویسے ہی منصف کی بات سن کر نانا کی کہانی یاد آ گئی۔ بڑے بھائی کی انکھوں سے آنسو جاری تھے اور لب کپکپا رہے تھے۔ اس کی منہ سے صرف ایک جملہ نکلا۔ بھائی منصف چال چل گیا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah