ابن انشا کا آخری کالم …. غیر مطبوعہ


arif waqar sbابن انشا کا آخری کالم ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکا تھا کیونکہ یہ دراصل ایک ریڈیو کالم تھا جو بی بی سی اردو سروس کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ 1977ء کے اواخر میں جب ابن انشا بغرض علاج لندن آئے تو ان کی وہاں موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بی بی سی اردو سروس کے رضا علی عابدی نے فرمائش کی کہ جتنا عرصہ آپ لندن میں ہیں بی بی سی کے لیے کچھ لکھ دیا کیجئے ۔ چنانچہ طے پایا کہ ابن انشا ہر اتوار کو اردو سروس سے اپنا ریڈیو کالم پڑھا کریں گے۔

دسمبر 1977 ءمیں ان کا پہلا کالم ریکارڈ کیا گیا جوکہ جنوری 1978 ءکے پہلے ہفتے میں نشر ہوا۔ دوسرے کالم کے لیے انہوں نے وعدہ کیا کہ ہسپتال سے لوٹ کر لکھیں گے لیکن 11 جنوری 1978ءکو ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا اور یوں ریڈیو کالموں کے جس سلسلے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی وہ اپنی پہلی قسط سے آگے نہ بڑھ سکا۔

بی بی سی کے آواز خزانے میں پڑا یہ نایاب موتی مرشدی عارف وقار کی عنایت سے’ہم سب‘ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

لندن ایک جہان رنگا رنگ ہے۔ ہمارا تو اسے دیکھ کے جی دنگ ہے۔ گرمی، سردی، بہار، خزاں…. اس کی رونق میں کوئی فرق نہیں۔

خیر پھر کبھی مائیک کے سامنے آئیں گے تو موسموں اور لوگوں، بازاروں اور خریداروں کی جھلکی بھی آپ کو دکھائیں گے۔ فی الحال سردیوں کا نزول ہے۔ گرمی کی گفتگو فضول ہے۔ تھوڑی دیر کو دریچے بند کر کے ، پردے کھینچ کے ٹیلی ویژن کے آگے ٹھیکی لیتے ہیں۔

یہاں بھی وہی کاروبار ہے۔ ہر پروگرام کے درمیان اشتہار ہے۔ خبر دینے والا خبر کے بیچ میں سانس روک لیتا ہے۔ آدھی خبر اشتہار سے پہلے، آدھی اشتہار کے بعد دیتا ہے۔ بقول شاعر

پہلے اس نے مُس کہا پھر تق کہا پھر بل کہا

اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کر دیے

insha jeeخیر یہ ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے۔ مداری یا دوا فروش کہانی سنا کر یا بندر نچا کر آپ کو رجھاتا ہے اور عین بیچوں بیچ حرف مطلب زبان پر لاتا ہے کہ صاحبو….! خیر آج ہم بھی یہی کرتے ہیں۔ پہلے یہاں کی بات سناتے ہیں پھر اُدھر کو آتے ہیں۔

آج کل یہاں ٹیلی ویژن پر ایک اشتہار آتا ہے۔ باکسنگ ہو رہی ہے۔ بڑا پہلوان چھوٹے پہلوان کو مار مار کر اُتو کر دیتا ہے۔ وہ بار بار ڈگمگاتا ہے، گرتا ہے۔ آخر اس ہارنے والے کی بی بی اس کو بلاتی ہے، اسے ایک دوا کا غرارہ کراتی ہے۔ اب جو کلی کرنے کے بعد رنگ میں جاتا ہے تو خود میں رستم کی سی طاقت پاتا ہے۔ ایک مکے میں حریف کو ڈھیر کر دیتا ہے۔ سب حیران ہیں کہ یہ دو دم میں کیا ماجرا ہو گیا کہ …. گرنے والا کھڑا ہو گیا۔ اب دوا کی شیشی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ ساری کرامت لسٹرین کی ہے۔ ابھی کلی ہی کی ہے جس کی یہ تاثیر ہے۔ کہیں غٹ غٹ پی جاتا تو جانے کیا فیل مچاتا، ہنومان کی طرح پہاڑ سر پہ اٹھا لاتا۔

یہ نسخہ تو ولایت کا ہے لیکن ہمارے ہاں کے باکمال بھی کسی طور ان سے ہیٹے نہیں۔ ایسے سُرمے ہمارے ہاں یہاں عام ہیں کہ نہ صرف بصارت کو بڑھاتے ہیں، عینک چھڑاتے ہیں بلکہ انسان کی سوئی ہوئی بصیرت بھی جگاتے ہیں۔ البتہ ایک سُرمہ ایسا بھی دیکھا کہ قد بڑھاتا ہے۔ آنکھوں میں ایک سلائی لگاﺅ اور بالشت بھر لمبے ہو جاﺅ۔ ایک روغن دیکھا ’گیسو دراز‘ کہ برش پہ دو قطرے گر گئے تو اس کے بال دور کی خبر لانے لگے۔ غلطی سے ہتھیلی پر لگ گیا تو ہر روز ہتھیلی کی شیو ibne inshaکرانی لازم ہو گئی …. اور تو اور خود شیشی کی داڑھی نکل آئی۔ایسے منجن بھی ہیں کہ لکڑ ہضم، پتھر ہضم! انہی میں ایک دیکھا کہ دانتوں پہ ملو تو دانت موتی ہو جائیں، پھانک جاﺅ تو ہاضم، قبض کی کلید، اسہال کے لیے یکساں مفید، مرہم بناﺅ تو برسوں پرانی چنبل اور دادغائب ہو جائے، دھونی دو تو گھر کے مکھی مچھر ، کیڑے مکوڑے ڈھیر ہو جائیں، پانی بھی نہ مانگیں۔ آنکھوں میں موتیا ہو ، پیٹ میں ہرنیا ہو، پاﺅں میں موچ ہو، سر پہ گنج ہو ، باعث رنج ہو ، سب کے لیے یہ تحفہ فقیر یکسا ںاکسیر۔ اور پھر ہمارے مجمع گیر کا انداز ! بلا کا سخن ساز، سبحان اللہ۔ ذرا کان دھر کے قصہ سنو۔ اوائل عمر میں جانے کیا کرتوت کئے کہ زندگی اور علاج سے مایوس ہو کر کھٹمنڈو چلے گئے۔ وہا ں پہاڑ سے چھلانگ لگانے کو تھے کہ ایک فقیر خضر صورت نمودار ہوئے اور بولے ”بیٹا! خودکشی مت کرو۔ زندگی خدا کی نعمت ہے۔ یہ ایک نسخہ ہے، خود استعمال کرو، خلق خدا میں تقسیم کرو۔ لیکن دیکھنا اس سے نفع کمانا حرام ہے…. سوائے خرچہ اشتہار اور پیکنگ اور شیشی کی قیمت کے کہ حاصل جمع جس کا نو روپے آٹھ آنے ہوتا ہے اور کچھ وصول نہ کرنا “ …. یوں یہ کاروبار چلتا ہے اور پھولتا پھلتا ہے۔ اب کھٹمنڈو میں سیاحوں کی ریل پیل ہے اور یہ فیشن سے باہر ہو گیا ہے کہ تو کسی نے تبت، چین، کسی نے جرمن دواخانہ ، کسی نے فرینچ لیبارٹری نام رکھ لیا ہے۔ ”گھر کا جوگی جوگنا ، باہر کا جوگی سدھ“۔

یہا ںولایت میں ہمارے ہاں کے وید حکیم آتے ہیں تو دلی یا بنارس یا لاہور کے خاندانی حکیم کہلاتے ہیں۔ بڑے بڑے اشتہار دیتے ہیں۔ وطن واپس جاتے ہیں تو اے بی سی ڈی سے لے کر ایکس وائی زیڈ تک ڈگریو ںکا دُم چھلہ لگاتے ہیںاور ”انگلینڈ ریٹرنڈ“ کہلاتے ہیں۔

ہمیں ایک بار ایک صاحب پر جو واقعی ہر مرض کا تیر بہدف شرطیہ علاج کرتے تھے، کچھ شبہ ہوا۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ نہیں، وہ واقعی انگلینڈ ریٹرنڈ تھے۔ اتنا البتہ ہے کہ یہاں بس کنڈکٹری کرتے تھے۔ کچھ دنوں ایک ہوٹل میں برتن بھی مانجھے۔ بس اسی میں دست شفا پیدا ہو گیا۔

’یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے‘۔


Comments

FB Login Required - comments