ٹھنڈی رات میں ادھوری محبت


اچھا تو پھر دوستی پکی، جی ہاں بالکل عذرا نے کہا لیکن شرائط بھی طے کر لیں تو بہتر ہوگا۔ ہارون بولا ہاں ہاں کیوں نہیں۔ تو جب بھی ملیں گے کھانے پینے کا بل آپ ادا کریں گے۔ میری خوب ساری تعریف کریں گے۔ تحفے مجھے نہیں چاہیئں۔ بس کبھی کبھی پھول یا کوئی اچھی کتاب بس۔ اور آپ زیادہ سے زیادہ ہاتھ پکڑ سکتے ہیں۔

ہارون نے کہا کہ مجھے منظور ہے مگر وہ جو تم نے مجھے ٹھرکی کہا تھا کیوں کہا تھا۔ کیونکہ آپ ہیں ٹھرکی وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ آپ کو کوئی دوسری عورت چاہئے دل کی بات کہنے کیلئے۔ ہنسی مذاق کیلئے جبکہ یہ سب تو آپ اپنی بیوی کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں۔ چاہیے نا دوسری عورت ہاں مگر میں تمہارے ساتھ جسمانی تعلق کی بات نہیں کر رہا نا۔ مجھے تو بس ایک ذہین عورت سے دوستی کرنا ہے جس کے ساتھ میں لانگ ڈرائیو پر جاﺅں، ہنسی مذاق کروں۔ باتیں کروں۔ عذرا زور سے ہنسی اور بولی یہ ٹھرک تو بالکل نہیں یہ تو بس دل لگی ہے نہ محبت تمہیں مجھ سے نا مجھے تم سے۔ ہارون بولا ہاں تو میں کوئی بے وفا مرد تھوڑی ہوں جو بیوی کے ہوتے کسی سے محبت کروں۔ بھئی ہلکی پھلکی دوستی تو چلتی ہے اب بندہ کبھی بور ہو جائے تو یہی دوستی زندگی میں رنگ بھر دیتی ہے۔ عذرا نے اس دوستی پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ دونوں نے دوستی کا آگے بڑھانے کا ارادہ کر لیا۔

ایک دن یونہی باتوں باتوں میں ہارون کو جانے کیا سوجھی کہ اپنے ماضی کا ایک قصہ لے کر بیٹھ گیا۔ شائد عذرا کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اور اسے کہہ رہا تھا کہ تم حسین اور دل میں اتر جانے والی شے ہو مگر چاہنے کے باوجود تمہارے ساتھ سوﺅں گا نہیں۔ عذرا کو بات بے بات ہنس دینے کی عادت تھی۔ وہ ہنسی اور بس ہنستی چلی گئی اور جب ہسنی رکی تو اُس نے ذرا لمبا کھینچ کر اچھا! کہا اور ہارون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیٹھ گئی اور ہارون کے چہرے میں وہ ایک باوفا شوہر کا چہرہ تلاش کرنے لگی اور ہارون بس بولتا چلا گیا۔

عذرا تم جانتی ہو ایک لڑکی ملی تھی ڈیڑھ برس پہلے۔ نہائیت حسین، یونیورسٹی میں پڑھتی تھی وہ مجھ سے بہت متاثر تھی ہماری چند ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ایک دن وہ فون پر بولی کہ میری روم میٹ اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے گئی ہے اور میں یہاں کمرے میں بیٹھی سوچ رہی ہوں کہ اس رات کی تنہائی میں وہ دونوں کیا کر رہے ہوں گے۔ عذرا میں نے اسے کہا کہ آنکھیں بند کر لو اور جو کچھ میں بولوں اسے محسوس کرو۔ میں فون پر ہی اسے اس حد تک لے گیا کہ وہ گیلی ہو گئی۔

میں کے لفظ پر زور دے کر ہارون نے عذرا سے کہا کہ میں نے اسے فون پر ہی گیلا کر دیا تھا۔ عذرا اس سے پہلے کہ سوال کرتی کہ تم نے بھی لطف لیا اس ڈائیلاگ سیکس کا ہارون خود ہی بول پڑا کہ سردیوں کی رات تھی۔ گیزر بھی نہیں چل رہا تھا مجھے ٹھنڈے پانی سے ہی نہانا پڑا۔

عذرا کے اندر کی عورت بھی شائد کسی ایسی سردیوں کی ٹھنڈی رات کی چاہ میں تھی مگر کردار کے کمزور زینے کی ریلنگ کو پکڑے ہوئے تھی کب سے ریلنگ تھی کہ اب چھوٹی تو چھوٹی۔ بڑا کمزور ہاتھ ڈالا ہوا تھا عذرا نے ریلنگ پر اور زینہ ویسے ہی بوسیدہ کر گئی تھی خواہش کی دیمک۔

ہارون ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا کہ پھر تو وہ لڑکی جیسے اپنا سب کچھ مجھے سونپنے کو تیار تھی ایک بار تو اس نے کھلے الفاظ میں اُس رات کے فون پر ہونے والے معاملے کو عملی طور پر کر دکھانے کی فرمائش بھی کر دی۔ مگر میں ایک بیوی دار مرد ہوں۔ یوں تھوڑی ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ دوستی کرو اُس کے ساتھ سو بھی جاﺅ۔ احمق لڑکی کو اپنی عزت کی پرواہ ہی نہ تھی مگر مجھے اپنے ساتھ ساتھ اس کی بھی فکر تھی ایک لڑکی کی عزت اتارنا، نہ،بابا، نہ اور پھر میں اپنی بیوی کے اساتھ بے وفائی کیسے کر سکتا تھا۔ عذرا بڑی مشکل سے اس سے جان چھڑوائی۔

عذرا کے دل میں جانے کیوں ایک بے زاری سی اترآئی تھی۔ وہ اپنے دوست سے کچھ بدگمان تھی یا خوش گمانیاں خود ہی کہیں گم ہو رہی تھیں۔

ہارون سے کوئی زیادہ ملاقاتیں نہ ہوئی تھیں۔ مگر فون پر بات چیت اکثر ہوتی۔ فلسفہ، ادب، سیاست، شرارت، سیکس ہر موضوع پر بات ہوتی۔ ایک دن محبت پر بات ہورہی تھی کہ ہارون بولا۔ میرا ایک استا د تھا اُس نے مجھے سے کہا تھا کہ جتنی مرضی لڑکیوں سے دوستی کرنا، فلرٹ کرنا دل چاہے تو سو بھی جانا ہو سکتا ہے تمہیں کسی سے سچی محبت ہو جائے جب یہ ہو گئی تو تم مکمل ہو جاﺅ گے۔ عذرا حسب معمول ہنس کر بولی تو ہوئے کیا مکمل؟

تو ہارون بولا میں شادی شدہ ہوں میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی دوسرے عورت سے محبت کروں یہ بات میں تم پر واضع کر چکا ہوں پھر کیوں پوچھتی ہو۔

ہاں مگر ایک اور لڑکی تھی۔ اسے مجھ سے محبت ہو گئی تھی۔ مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی تھی کہ اتنی خوش ذوق لڑکی میری دیوانی تھی ساتھ ہی کام کر تی تھی، اچھی دوستی تھی ہماری۔ مگر کبھی فیملی کو ڈسکس نہیں کیا تھا میں نے اس کے ساتھ۔ بس حیات کے رازوں کو جاننے کی جستجو تھی اُس میں۔ بڑی اچھی باتیں کرتی۔ کبھی کافی کی خوشبو کو پروین شاکر کی نظم ایکسٹیسی (Ecstasy) سے ملاتی تو کبھی فراز کی غزل کو ڈیوڈ کولن کی نیوڈ میں رکھ دیتی۔ ایک دن میں نے اس سے کہا کہ چلو کہیں سیر کو چلتے ہیں تو وہ جلدی سے پرس اٹھا کر کھڑی ہوئی۔ گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ گھر سے کال آگئی اور اسے پتا چلا کہ میں شادی شدہ ہوں۔ کال ختم ہوتے ہی وہ بولی، میں تمہارے ساتھ سیر کو نہیں جا سکتی۔ کیوں میں نے حیران ہو کر پوچھاتو وہ بولی تم شادی شدہ ہو۔ میں نے کہا کہ ہماری صرف دوستی ہے اور تو کچھ نہیں۔ وہ بولی کہ میری طرف سے تو محبت بھی تھی مگر اب دوستی بھی نہیں۔ میں کسی عورت کا گھر خراب نہیں کرسکتی نا ہی دکھ دے سکتی ہوں۔ میں نے بہت سمجھایا کہ ہماری صرف دوستی ہے اور اس کا زرین کو پتہ بھی نہیں چلنا۔ اور پھر تمہارا اور میرا کوئی جسمانی تعلق کبھی نہیں ہو گا کیونکہ میں اپنی گھریلو زندگی میں کوئی ہلچل نہیں لانا چاہتا۔ وہ بولی صرف دوستی نہیں ہے یہ دوستی سے بہت آگے بڑھ کر کچھ اور ہے۔ میں نے کہا کچھ اور نہیں تو وہ دیوانی ایک سوال کرکے کار سے نیچے اتر گئی کہ اگر یہ صرف دوستی ہے تو کیا ایسی دوستی کی اجازت زرین کو بھی دو گے؟ میں نے کہا زرین کے پاس میں ہوں تو اُسے کسی دوست کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے دیکھا تھا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے جاتے ہوئے۔ بے وقوف لڑکی میں نے اُس کے ساتھ بھلا سو تو نہیں رہا تھا کہ میرا گھر خراب ہوتا اور زرین کو تکلیف ہوتی۔ شام بہت ٹھنڈی تھی۔ کار کا ہیٹر چلاتے ہی میں نے سوچا، چلو گھر جاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں