حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے : ایدھی ذرائع کا دعویٰ


edhiصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچاخان یونیورسٹی میں مسلح افراد نے حملہ کرکے فائرنگ کی جبکہ یونیورسٹی میں متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
کیا کیا ہوا:
مسلح افراد یونیورسٹی کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور فائرنگ کا آغاز کیا
یونیورسٹی میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
آپریشن میں 2 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، ڈی آئی جی سعید وزیر
ایدھی ذرائع نے 15 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا
یونیورسٹی میں 3 ہزار کے قریب طلبا زیرِ تعلیم ہیں
ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق مسلح افراد یونیورسٹی میں داخل ہوگئے، جس سے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ محصور ہوگئی. یونیورسٹی میں 3 ہزار کے قریب طلبہ زیرِ تعلیم ہیں.ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں قوم پرست رہنما باچا خان کی برسی کے موقع پر مشاعرہ جاری تھا، جس میں 600 کے قریب افراد شریک تھے۔
ڈی آئی جی سعید وزیر کا کہنا تھا کہ آپریشن میں 2 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ 2 کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے دہشت گردوں کی تعداد کے حوالے سے نہیں بتایا۔ایک ایدھی رضاکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں تقریباً 15 لاشیں دیکھی ہیں۔
ریسکیو آپریشن کے دوران 50 سے زائد طلبا اور یونیورسٹی عملے کو نکال لیا گیا، جن میں سے چند زخمی ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال، چارسدہ منتقل کردیا گیا جبکہ علاقے کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کا آغاز صبح سوا 9 بجے کے قریب ہوا اور یونیورسٹی میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
پاکستان ٹیلی ویڑن (پی ٹی وی) نے ڈی ایس پی چارسدہ کے حوالے سے بتایا کہ 3 مسلح افراد یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور انھوں نے فائرنگ کردی.
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی اور یونیورسٹی کا گھیراو¿ کرلیا.پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے دستے بھی باچا خان یونیورسٹی پہنچ گئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments