نیک دل بادشاہ ، ٹریفک سگنل اور نظریہ ضرورت


waqar ahmad malikایک ملک میں ایک نیک دل اور ذہین بادشاہ حکومت کرتا تھا۔

یہ بادشاہ گذشتہ بادشاہو ں سے یوں منفر د تھا کہ روزانہ دربار لگاتا اور سائلوں کی فریادیں سن کر فوری ضروری احکامات دیتا لیکن پورا دن کام کرنے کے باوجود ہزاروں سائل بغیر شنوائی کے واپس ہو جاتے کہ ان کی باری ہی نہ آ پاتی تھی۔ بادشاہ کیونکہ نیک دل ہونے کے ساتھ ساتھ خلاف ِ توقع ذہین بھی تھا ، اس صورتحال سے سخت پریشان تھا۔

ایک دن بادشاہ شاہی باغ کی سیر کر رہا تھا اور اسی مسئلہ پر غورو فکر کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیاکہ آبادی بڑھ رہی ہے، مسائل بڑھ رہے ہیں، اب پرانے وقتوں کی طرح ایک بادشاہ کے لیے ممکن نہیں ہے کہ رعایا کے ایک ایک فرد کا واقف حال ہو سکے۔ اب کچھ ایسا خود کار نظام لانا پڑے گا کہ اس نظام سے عوام کے مسائل حل ہوں ۔ اس نظام سے بالا صرف میری شخصیت ہو گی کہ بہرحال میں بادشاہ ہوں ۔ شاہی محل سے تھوڑا آگے ہی شہر کا بڑا چوک ’عوامی چوک تھا جہاں ٹریفک پھنسی رہتی تھی۔

درباریوں کا دربار میں دیر سے پہنچنے کا عذر بھی زیادہ تر یہی ہوتا تھا کہ ٹریفک جام تھا حتیٰ کہ بادشاہ کو خود بھی کافی دفعہ یہ تجربہ ہوا کہ شاہی سواری چوک میں پھنس گئی…. وہ تو خیر بادشاہ تھا۔ ہر طرف کی ٹریفک کو روک کر بادشاہ کے لیے راستہ بنا دیا جاتا لیکن ذہین بادشاہ یہ سوچا کرتا تھا کہ عام آدمی یا بالخصوص مریض جب اس صورتحال میں پھنستے ہوں گے تو نہ جانے بےچارے کیسے نکلتے ہوں گے۔

بادشاہ کو اپنے ان وزراءاور دوسرے درباریوں پر بھی ترس آیا کہ کیسے ان کو دیر ہو جاتی ہے اور ہانپتے ہوئے دربار میں داخل ہوتے ہیں۔

اس دن جب بادشاہ باغ کی سیر کر رہا تھا اور مسائل کو نظام کے ذریعے حل کرنے کی سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک تجویز آئی ۔

000وہ محل کے اندر داخل ہوا اور خدام کو کہا کہ فنی علوم کے وزیر کو بلایا جائے ۔ تھوڑی دیر بعد ہی فنی علوم کا وزیر حاضر ہو گیا۔

بادشاہ نے وزیر سے پو چھا کہ وزیر با تدبیر، شہر کے سب سے بڑے عوامی چوک میں ہر وقت ٹریفک پھنسی رہتی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ چوک کے درمیان میں ایک یا دو کھمبے لگا دیے جائیں جن پر سبز اور سرخ کپڑے لہرا رہے ہوں لیکن عمل ایسا میکانیکی ہو کہ ایک طرف سے آنے والی ٹریفک کو تھوڑی دیر کے لیے سرخ کپڑا نظر آئے اور کھمبے میں ایک تار کے ذریعے ایسا خود کار نظام ہو کہ تھوڑی دیر بعد سرخ کپڑا اوجھل ہو جائے اور پھر سبز کپڑا تھوڑی دیر کے لیے نظر آئے جب ایک طرف کو سبز کپڑا نظر آئے تو دوسری طرف سے آنے والی ٹریفک کو سُرخ کپڑا نظر آئے۔ وزیر باتدبیر نے سر کھجایا اور کہا کہ مجھے کچھ مہلت چاہیے اور کہا کہ میں بادشاہ معظم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ضرور کامیا ب ہوں گے اور جلد یہ منفرد ایجاد کر کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ۔

کچھ دن گزرے کہ بادشاہ دربار لگائے عوام کے مسائل سن رہا تھا۔ کچھ درباری حسب معمول ابھی دربار میں نہیں پہنچے تھے جن میں فنی علوم کے وزیر بھی شامل تھے۔ اس دن عوامی چوک پر ٹریفک بھی بُری طرح پھنسی ہوئی تھی۔ ملحقہ متبادل گلیوں میں بھی ٹریفک پھنس چکی تھی۔ سہ پہرکو فنی علوم کے وزیر دربار میں پہنچے اور آتے ہی بادشاہ سے تخلیہ میں بات کرنے کی اجازت مانگی۔

تخلیہ میں بادشاہ نے دیکھا کہ وزیر کا چہرہ خوشی سے لال سرخ تھا۔ وزیر نے بادشاہ کو بتایا کہ وہ اور ان کے باقی وزارت کے ساتھی بادشاہ معظم کی ہدایات کے مطابق کھمبے والی ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ دربار میں تعلقات عامہ کے وزیر کو حکم دیا گیا کہ شہر میں منادی کرا دی جائے کہ کل بادشاہ اپنی رعایا سے خطاب کریں گے۔ اس لیے شہر کے سب لوگ دربار سے ملحقہ وسیع میدان میں اکھٹے ہو جائیں۔

KARACHI, PAKISTAN, JUNE 12: The traffic remained jammed for hours due to the lawyers protesting under the banner of Justice Lawyer’s Front on Tuesday. The protestors were rejecting the oncoming budget, terming it as anti-people in Karachi June 12, 2012. (Rizwan Ali/PPI Images)
(Rizwan Ali/PPI Images)

دوسرے دن بچے، عورتیں، جوان اور بوڑھے سب میدان میں جمع ہو گئے ۔ بادشاہ کی آتی سواری کو دیکھ کر بچے سب سے زیادہ خوش ہو رہے تھے۔ کلکاریاں مارتے تھے۔ بوڑھے اس بادشاہ کے والد کو یاد کر رہے تھے جو اسی کی طرح ایک نیک دل بادشاہ تھا۔ بادشاہ کا تخت ایک اونچی جگہ پر تھا۔ بادشاہ نے وہاں پہنچ کر عوام کے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دیا۔

آخر بادشاہ نے عوامی چوک کے حوالے سے عوام کو بتانا شروع کیا کہ کیسے وہ عوام کی اس پریشانی سے واقف ہیں اور ایک ایسا نظام لانا چاہتے ہیں کہ یہ پر یشانی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے ۔

بچوں کو نہیں معلوم تھا کہ بادشاہ کیا کہہ رہا تھا۔ وہ اس میلے کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ جوان البتہ اشتیاق سے سُن رہے تھے لیکن بوڑھے ایک دوسرے کے کانوں میں بادشاہ کا مذاق اڑا رہے تھے کہ بھلا اس کو کوئی حل کیوں کر ممکن ہے یقیننا بادشاہ آخری عمر میں سٹھیا گیا ہے ۔

بادشاہ نے عوام کو بتایا کہ کیسے سرخ کپڑا آنے کی صورت میں سب رک جائیں گے اور دوسری طرف کی ٹریفک کو گزرنے دیں گے جن کو ان کی طرف سے سبز کپڑا نظر آ رہا ہو گا ۔

جوانوں کی نظر میں تو حیرت تھی لیکن بوڑھے اب باقاعدہ ٹھٹھا اُ ڑانے لگے۔

ایک بوڑھے نے تو اپنی اہلیہ کے کان میں کہا” بادشاہ کی اپنی پوری زندگی کی نیک نامی سرخ کپڑے کی نذر ہونے لگی ہے۔

0002بوڑھے کے اس طرح مذاق اُڑانے پر بڑھیا کو دل ہی دل میں یقین ہو گیا کہ بادشاہ ضرور کوئی کام کی بات کر رہا ہے کیونکہ اس کا شوہر جب بھی کسی بات کو غلط سمجھ کر ہنستا یا مذاق اڑاتا ہے بعد میں وہ بات بہت حد ٹھیک نکلتی ہے۔ خیر ہم بوڑھے اور بڑھیا کے باہمی تعلقات پر ہم کیوں بات کریں۔ بادشاہ نے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کو اکٹھا کیا جن کا کام ایک ہفتہ عوام کو اس نئے نظام کی تربیت دینا تھا۔

راوی کہتے ہیں کہ مشکل سے ایک ماہ بھی نہ گزرا ہو گا کہ اس سارے وقوعہ کو …. کہ شہر میں ایک خوبصورت انقلاب آ گیا۔‘

جو گھنٹوں کا وقت عوامی چوک میں ضائع ہو جاتا تھا اب وہ وقت عوام کو میسر آیا تو ہر کسی کی خوشی دیدنی تھی ۔ چڑچڑا پن ختم ہو چکا تھا ۔ میاں بیوی، بچوں اور والدین وغیرہ کے تعلقات آپس میں مثالی ہو گئے (بقول راوی ، سوائے اس میاں بیوی بوڑھے اور بڑھیا کے تعلقات…. اس ایجاد کی کامیابی کے بعد ان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔سنا ہے کہ بڑھیا اب منہ پھٹ ہو گئی تھی اور بوڑھے کو ہر بات پر بے نقط سناتی تھی۔

ایک دن بادشاہ کا گزر اسی عوامی چوک سے ہوا۔ کیونکہ بادشاہ کا مقام اس نظام سے بالاتر تھا اس لیے سرخ کپڑا ہونے کے باوجود بادشاہ کی سواری کو گزرنے دیا گیا۔ نیک دل بادشاہ کو ضمیر میں ایک خلش محسوس ہو ئی اور دربار میں آتے ہی اعلان کیا کہ نظام کا مقام بادشاہ سے بھی بالا ہو گا اور بادشاہ پر بھی نظام کا احترام واجب ہو گا۔

لیکن ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک اور قضیہ سامنے تھا۔ ہوا یوں کہ ہر سال تین دن کے لیے شہر میں میلہ لگتا تھا ۔ روزانہ جب میلہ ختم ہوتا تو پورا شہر سڑک پر امڈ آتا۔ اب سبز کپڑا تھوڑی دیر کے لیے آتا اور تھوڑی سی ٹریفک گزرتی کہ سرخ کپڑا آجاتا جبکہ دوسری طرف ٹریفک بالکل بھی نہیں تھی لیکن مسئلہ نظام کے احترام کا تھا۔ اس دن رات گئے تک لوگ پھنسے رہے ۔ بادشاہ کو سارے واقعے کا علم ہو ا (یہ بتانے میں کیا حرج ہے کہ ان کو ملکہ عالیہ نے بتایا جو خود بادشاہ کے بنائے نظام کا شکار ہوئی تھیں کہ میلہ دیکھ کر واپس آنے والوں میں وہ بھی شامل تھیں) تو یوں بادشاہ کے لیے یہ معاملہ کہیں زیادہ سنجیدہ شکل اختیار کر گیا۔

بادشاہ کو ایک ذہین قاضی نے مشورہ دیا کہ جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں یہ نظام انسان کی بہتری کے لیے بنا یا گیا ہے لیکن جب بھی خود کار نظام میں انسانی دخل اندازی کی ضرورت محسوس ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہم نظریہ ضرورت کے تحت کچھ دیر کے لیے نظام معطل بھی کر سکتے ہیں ۔

بادشاہ کو یہ دلیل منطقی لگی اور دوسرے دن اس پر عمل کیا گیا ۔ چوک میں نظام کو معطل کر کے ایک آدمی کے ہاتھ میں وہ سبز اور سرخ کپڑے تھما دیے گئے ۔یوں وہ آدمی میلے کی طرف سے آنے والی ٹریفک کو پانچ گنا زیادہ وقت دیتا رہا اور سب خوش اسلوبی سے گھروں کو پہنچ گئے۔

کچھ دنوں بعد بادشاہ بیمار ہو گیا۔ شہر اور شہر سے باہر دوسری سلطنتوں سے ماہر طبیب منگوائے گئے ۔بادشاہ مزید کچھ عرصہ زندہ رہ کر زندگی کے باقی شعبوں میں بھی خودکار نظام لانا چاہتا تھا لیکن مشیت ایزدی میں کس کا دخل؟

بادشاہ مر گیا۔ عوام کو بہت رنج ہو ا۔ بادشاہ کا ایک ہی بیٹا تھا جس کی دربار میںبڑے جوش و خروش سے تاج پو شی ہوئی۔ نیا بادشاہ ذہین تو بالکل بھی نہیں تھا بلکہ عوام میں اکثر کو تو اس کی نیک دلی پر بھی شبہ تھا۔ نئے بادشاہ کو ایک وزیر کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ راستے میں اس چوک سے گزر ہو ا جہاں سرخ کپڑے کی وجہ سے رکنا پڑا۔ بادشاہ کو سبکی محسوس ہوئی کہ بھلا عوام اور بادشاہ میں کیا فرق رہ گیا۔

سُنا ہے کہ بادشاہ شادی کی تقریب میں بھی مُرجھایارہا ۔ واپس آتے ہی قاضی کو دربار میں بلا یا اور اپنی پریشانی کی وجہ بتائی۔ قاضی نے کہا کہ حضور کے والد نے ہی یہ قانون بنایا تھا اب اگر آپ توڑیں گے تو عوام میں آپ کی ساکھ مجروح ہو جائے گی ۔ بادشاہ مصر تھا کہ کوئی حل نکالا جائے ۔آخر قاضی نے حل نکالا اور بادشاہ خوش ہو گیا۔

اگلے دن دربار میں قاضی نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ بادشاہ پر بہت سی ذمہ داریاں ہوا کرتیں ہیں اور بادشاہ کا وقت عام آدمی کے وقت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوا کرتا ہے تو جس طرح پچھلے بادشاہ نے نظریہ ضرورت کے تحت میلے پر آنے والوں کے لیے نظام میں تبدیلی کی تھی ، اسی نظریے کے تحت بادشاہ کو عوامی چوک میں سرخ کپڑا ہونے کے باوجود نہ رکنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ بادشاہ کی ذات کو اس نظام کے قانون سے استثنا حاصل ہو گا۔

کچھ دن گزرے کہ یہی قاضی صاحب دربار میں حاضر ہوئے اور یہی عبارت دہرا دی فقط اس ترمیم کہ ساتھ کہ لفظ ’بادشاہ ‘کی جگہ ملکہ نے لے لی۔ مزید کچھ دن گزرے کہ قریبی اور بااعتماد وزراءنے بھی بادشاہ سے اکیلے میں استثنا کی درخواست کی جو قا ضی کو زحمت دیے بغیر ہی قبول کر لی گئی۔ اس نظام سے استثنا اشرافیہ کی شناخت بن گئی۔ سرخ کپڑے پر رکے ہوئے لوگوں کا شمار پست اور احمق طبقے میں ہونے لگا ۔ تمام امرا، سپہ سالار اور فوج کے اعلیٰ عہدے داران نے بھی سفارشوں سے استثنیٰ حاصل کر لیا۔ اب سنا ہے کہ عوامی چوک کے حالات اس نظام کے آنے سے پہلے والے دور سے بھی بدتر ہو گئے ہیں۔ کیونکہ اس دور میں بھی ٹریفک میں پھنس کر خواری تو ہوتی تھی لیکن پھنستے تو سب ہی تھے تو برابری کا ایک احساس ضرور تھا ۔ لیکن اب خواری تو ہے ہی…. ساتھ ساتھ عزت نفس کا بھی جنازہ نکل چکا ہے ۔

(ہاں شہر میں ایک خبر یہ ضرور گردش میں ہے کہ قاضی کے دونوں بیٹوں کو دربار میں وزیر بنا دیا گیا ہے اور ان کو دربار میں حاضری سے استثنیٰ بھی حاصل ہے۔ دروغ بر گردن راوی)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 61 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik