کتا، محبت اور سود حلال کرنے کا صحیح “طریکا”


hashir ibne irshad“دیکھیں جناب اگر آپ جھٹکا کریں گے تو جانور حرام اور اگر اللہ کا نام لے کر ذبیحہ کریں گے تو گوشت حلال۔ اب اس کے کباب بنائیں یا آلو کوفتے میں استعمال کریں، یہ آپ کی مرضی ہے۔ اصل بات ہے طریقے کی۔ اسی وجہ سے جب آپ سود کا معاہدہ کرتے ہیں تو آپ حرام کھاتے ہیں لیکن جب آپ منافع میں شراکت داری کرتے ہیں تو یہ رقم حلال ہو جاتی ہے”

آپ یقین کریں یا نہ کریں، اسلامی بینکاری سے تعلق رکھنے والوں کی یہ دوسری پسندیدہ ترین دلیل ہے۔ ہمارے ایک دوست جو ان دلیلوں سے تنگ آ چکے تھے، انہوں نے ایک دفعہ ایک انتہائی ثقہ شرع بردار بینکر سے یہی کہانی سننے کے بعد رسمی تائید کرنے کے بجائے جھنجلا کر پوچھا ” اگر میں کتا اللہ کا نام لے کر ذبح کر دوں تو وہ حلال تو ہو جائے گا نا”

تاہم اس سے بھی اچھوتی دلیل جس میں ہماری قوم کا اجتماعی ذہنی افلاس بھی جھلکتا ہے اسلامی بینکاروں کی پسندیدہ ترین ہے۔ انتہائی سرگوشی میں ادھر ادھر دیکھنے کے بعد معنی خیز انداز میں آپ پر انکشاف کیا جائے گا کہ یوں تو جنسی تعلق بلکہ محبت ہی گناہ ہے، حرام ہے مگر نکاح کا معاہدہ اسی گناہ کو نیکی میں بدل ڈالتا ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں یہ بات ہے کہ اگر ان سے یہ پوچھا جائے کہ دو ہم جنس افراد معاہدہ نکاح کر لیں تو ان کا باہمی تعلق بھی کیا گناہ اور حرمت کے اس دائرے سے باہر نکل جائے گا جسے ان کی معاشرتی اور مذہبی اقدار نے بنایا ہے تو وہ جواب دینے کے بجائے ناراض ہو جاتے ہیں۔ کچھ تو باقاعدہ چیخم چلا پر اتر آتے ہیں اور اور بعضے تو معترض کے ایمان پر فتوی دینے سے بھی نہیں چوکتے۔ یاد رہے کہ یہ اس فتوے سے مختلف ہے جسے اسلامی شرعی عدالت سے دینے کے بعد اعلی جج صاحب کا پورا خاندان مختلف بینکوں کے شریعہ بورڈ پر براجمان ہو کر ماہانہ کروڑوں کی پیداوار کرنے لگا تھا اور اب تک کر رہا ہے۔ اگرچہ ہمیں امید ہے کہ ان کی نیت بہرحال نیک ہو گی اور یہ ساری رقم بعد میں صدقہ و خیرات میں خرچ کی گئی ہو گی۔

میرا تعلق مالیات کے شعبے سے ہے اور اب تیسری دہائی ہے اس دشت کی سیاحی میں لیکن حرام ہے جو کبھی اسلامی بینکنگ کا سر پیر سمجھ آیا ہو لیکن اس کی روز افزوں ترقی دیکھ کر لگتا ہے کہ یا تو آئن سٹائن نے انسانی حماقت کی لا محدودیت کے بارے میں سچ ہی کہا تھا یا پھر ہم ہی جاہل ہیں۔ میرے اکثر بینکار دوست دوسرے مفروضے سے نہ صرف متفق ہیں بلکہ اس کا باقاعدہ پرچار بھی کرتے ہیں۔ بھئی اگر جولیا کا نام جمیلہ رکھ دینے سے یا میکسی کی جگہ شٹل کاک برقع پہن لینے سے خاتون کو مسلمان گردانا جا سکتا ہے تو ہم واقعی جاہل ہیں۔

برسبیل تذکرہ ایک قصہ یاد آیا۔شائید آپ میں سے کچھ کو یاد ہو کہ 1979 میں آل سعود کے باغیوں نے مسجد الحرام پر قبضہ جما لیا تھا۔ یہ باغی القہطانی کے مہدی ہونے کا دعوٰی لیے دنیا فتح کرنے نکلے تھے اور آغاز کیا تھا انہوں نے کعبہ سے۔ آل سعود کو ظاہر ہے یہ بات کچھ پسند نہیں آئی۔ باغیوں پر چڑھائی کی گئی مگر وہ انتہائی تربیت یافتہ نکلے اور سعودی فوجیں بھاری نقصان اٹھا کر پسپا ہوئیں۔ یہ قبضہ کوئی دو ہفتے جاری رہا۔ حتمی آپریشن کے لئے مختلف ممالک سے مدد طلب کی گئی جن میں سر فہرست فرانس تھا۔ فرانس کی انسداد دہشت گردی کا یونٹ GIGN دنیا میں ایسے معاملات سے نمٹنے کے لئے سب سے بہتر مانا جاتا تھا۔ یہ فیصلہ ہوا کہ اس کے تین کمانڈر اس آپریشن کی سربراہی کریں گے۔

000mecca-signاب اگر آپ کبھی مقدس سرزمین پر گئے ہوں تو یہ جانتے ہوں گے کہ ایک آیت کی خود ساختہ تشریح کا سہارا لے کر تمام غیر مسلموں کا داخلہ مکہ میں سعودی حکومت نے ممنوع کر رکھا ہے۔ 1979 میں بہرحال تھوڑی دیر کے لئے یہ تشریح بھلا کر فرانسیسی ناپاک سپاہی مکہ میں آنے دئیے گئے لیکن فیصلہ کن معرکہ ہونا تھا حرم کی حدود میں اور وہاں تو ان کا جانا کتے کی حرمت جیسا ہی تھا۔ عالی دماغ سر جوڑ کربیٹھے تو حرم میں داخلہ حلال کرنے کا طریقہ نکالا گیا۔  ایک سادہ تقریب میں تینوں فرانسیسی کمانڈر کلمہ پڑھ کر عارضی طور پر حلقہ بگوش مسلمان ہوئے اور اگلے دن حملے کی سربراہی کرتے ہوئے اپنے عارضی ایمان کے ساتھ حرم میں داخل ہو کر انہوں نے مزاحمت کو کچل ڈالا۔ تینوں اگلے دن فرانس روانگی سے پہلے مرتد ہوکر اپنے پرانے مذہب کو لوٹ گئے۔ سعودی حکومت تاہم ان پر ارتداد کا مقدمہ چلا کر ان کا سر قلم کرنا بھول گئی۔ اتنی ہڑبونگ میں بڑے بڑے دیشوں میں ایسی چھوٹی موٹی بھول ہو ہی جاتی ہے۔

یادش بخیر اسماعیل تارا صاحب ففٹی ففٹی میں کہا کرتے تھے ” یہ ہے صحیح طریکا”۔ اب یہ طریکا ذرا طریقے سے آگے کی چیز ہے اور یہ خاص اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کچھ حلال کرنا ہو۔ اب وہ داخلہ ہو، کتا ہو، محبت ہو یا سود۔ نیت ٹھیک ہو تو سب چلتا ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad