میں گلگت بلتستان ہوں


میں کے ٹو ہوں، مشبروم ہوں، نانگا پربت ہوں، دیو سائی ہوں، شنگریلا ہوں، میں ہوں گلگت بلتستان؛ پاکستان کے سر کے تاج میں مثل جھومر ہوں۔ 25 جولائی ملک بھر میں خلق خدا پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرچکے ہیں، انھوں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے، مگر میں گلگت بلتستان اس حق رائے دہی سے محروم ہوں۔ گزشتہ سات دہائیوں سے اپنے اس قومی فریضے سے محروم ہوں۔ میرے یہاں کے پہاڑوں، دریاؤں، جھیلوں کی وہی پہچان ہے، جو پاکستان کے دیگر حصوں میں موجود پہاڑوں، دریاؤں، جھیلوں کو حاصل ہے مگر یہاں کے باشندوں کو وہ حقوق میسر نہیں، جو دیگر حصوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو حاصل ہیں۔ جوایک عام پاکستانی کو حاصل ہیں۔ یہاں کے دیگر تمام چیزیں مکمل پاکستانی و باعث فخر پاکستان ہے سوائے یہاں کے باشندے جو متنازع اور غیرمکمل آئینی پاکستانی ہیں۔

میں کسی کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب نہیں کرسکتا؛ نہ ہی کوئی میرے مسائل کے حل کے لیے قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں آواز بلند کرسکتا ہے۔ میں قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کا امیدوار نہیں بن سکتا، میں اپنے فیصلے خود نہیں کرسکتا، میں گلگت بلتستان ہوں۔

میں سی پیک کا گیٹ وے ہوں؛ میں ہی پاکستان کے دیرینہ دوست چین کا ہم سایہ ہوں۔ میں پاکستان کا محافظ ہوں، میرے جوان پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے ہیں اور ہر دم ملک کی حفاظت میں جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہیں۔ میرے جوان با صلاحیت و لا جواب ہیں، مگر ان کی صلاحیت میں اضافے کے لیے مواقع نہایت ہی کم ہیں۔ یہاں میڈکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی نہیں، نہ ہی جدید صحت کے مراکز موجود ہیں۔

میرے جوان وطن کی محبت سے سر شار و با وفا ہیں۔ میں وادی امن ہوں، میں بھائی چارے و محبت کا گہوار ہوں۔ مجھے میرے باشندوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرا راج سے آزاد کرایا اور پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا۔ میں ہی وہ قوم ہوں جو پاکستانی ہونے کے لیے بضد ہے، جب کہ دیگر لوگ اس کے مخالف ہیں۔ میں گلگت بلتستان ہوں پر امن و محبت کرنے والا۔ میں سیاحوں کی جنت ہوں، مہمان نواز ہوں۔ میرے یہاں کے باشندے انسان دوست و با وفا ہیں۔ یہ اپنے محسنوں کو نہیں بھولتی۔

یہ اب تک ذوالفقار علی بھٹو کے خدمات کو سراہتے اور ان کو یاد کرتے ہیں۔ متوقع وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان صاحب سے اپیل ہے، کہ اس قوم کی محرومیوں کو دور کریں اور حقیقی لیڈر ہونے کا ثبوت دیں؛ جناب عمران خان یہاں کے لوگ آپ کے اس احسان کو فراموش نہیں کریں گے۔ تبدیلی کے وعدے کو پورا کریں اور گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دیں، جس کا انتظار سات دہائیوں سے یہاں کے باشندے جواں مردی سے کر رہے ہیں۔ خان صاحب یہاں کے لوگ آپ کو وزیر اعظم منتخب کرنے میں مدد نہ کر سکے، مگر آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس جنت نظیر وادی کی محرومیوں کو دور کریں گے۔

یہ تو آپ خود اقرار کر چکے ہیں کہ بلتستان وادی امن ہے۔ یہاں لوگ گھر کے دروازے کھلے چھوڑ رکھتے ہیں، یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ جناب آپ ملک میں سیاحت کے شعبے کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ صاحب گلگت بلتستان تو سیاحوں کی جنت ہے، یہاں بنیادی سہولیات کو بہتربنا کر اس شعبے میں نمایا ں ترقی کی جا سکتی ہے۔ یہاں کے لوگ محب وطن ہیں۔ یہ براہ راست ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

یہاں کے لوگ ستر سالوں سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہاں کے جوان ملک کی ترقی میں، براہ راست اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہاں لوگ وطن کی محبت سے سرشار ہیں اور دشمنوں کی چالوں سے آگاہ ہیں اور ان کے فریب سے آزاد ہیں۔ میں گلگت بلتستان ہوں۔ میں منتظر ہوں اس وقت کا جب میرے باشندوں کو وہ حقوق میسرہوں، جو دوسرے پاکستانیوں کو حاصل ہیں۔ میں منتظر ہوں اس وقت کا جب میں اپنے فیصلے خود کر سکوں۔

میں کے ٹو ہوں، مشبروم ہوں، نانگا پربت ہوں، دیو سائی ہوں، شنگریلا ہوں، میں گلگت بلتستان ہوں، میں پاکستان ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ذوالفقار علی احسان کی دیگر تحریریں
ذوالفقار علی احسان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں