پروٹوکول کے فضائل و ثمرات


azhar Khan

آپ کی شادی کا دن ہو اورآپ بہت دھوم دھام کے ساتھ کسی دور کے شہر میں بارات لے کر اپنی دلہن لینے جا رہے ہوں، پھر اچانک راستے میں آپ بہت لمبی لائن میں ٹریفک جام میں پھنس جائیں اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آپ اس جگہ سے چار سے پانچ گھنٹے تک نکلنے کے قابل نہ رہیں توآنکھیں بند کر کے ذرا سو چیے کہ آپ کی اس وقت کیا کیفیات ہوں گی، آپ کو ہر شخص ظالم سماج نظر آئے گا جو آپ کی شب عروسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے اور وہ دن آپ کو زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ یا آپ اپنی ملازمت کے سلسلے میں کسی مشہور و معروف کمپنی میں ٹیسٹ یا انٹرویو د ینے جا رہے ہوں اور گھر سے نکل کر روڈ پر آتے ہی آپ کو ہر طرف رکاوٹیں کھڑی نظر آئیں اور آپ کی منت سماجت کے باوجود پولیس اہلکار آپ کو وہاں سے جانے کا راستہ نہ دیں تووہ لمحے آپ پر کتنے گراں گزریں گے، یا خدانخواستہ کوئی شدید ایمرجنسی ہو گئی ہو، آپ کسی شدید بیمارشخص کو ہسپتال لے کر جا رہے ہوں لیکن آپ کو جانے کا راستہ نہ ملے اور کسی نہ کسی طرح سے راستہ اگر مل بھی جائے تو آپ کو جانے ہی نہ دیا جائے تو آپ پر غم و غصہ کی ملی جلی کیفیت طاری ہو جائے گی، اور ایسا عموما ہمارے ساتھ ہوتا رہتا ہے ، جب کسی خاص شخصیت کے گزرنے سے پہلے اسے پروٹوکول دینے کے لیے روٹ لگا ہوتا ہے اورپھر آپ کا صبر آزماانتظار اور آزمائش کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اس دوران جب انتظار کی کیفیت بڑھتی جائے گی تو آپ دل ہی دل میں اس شخصیت کو اور راستے میں کھڑے ہونے والے لوگوں کوانتہائی خوبصورت اور شیریں لہجے میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نہ صرف بد دعاؤں سے نوازیں گے بلکہ ساتھ ساتھ اس میں کچھ نا قابل اشاعت الفاظ کی ملاوٹ بھی ساتھ ساتھ شامل کرتے رہیں گے۔ اور بعض اوقات آپ روٹ ختم ہونے اور اپنا ٹائم برباد ہونے کے بعد احتجاجاً خود ہی روڈ بلاک کر دیں گے لیکن اس وقت چار سے پانچ گھنٹے کی پر زور مشقت اور انتظار کے بعد لائن میں لگے لوگ آپ کو پانچ منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں کریں گے اور ہارن بجا بجا کر آپ کو اپنا احتجاج واپس لینے پر مجبور کر دیں گے۔

ایسا عموما ہمارے ساتھ ہوتا رہتا ہے، جب وی وی آئی پیز اپنے قافلوں کے ساتھ طویل گاڑیوں کی قطار میں گزرتے ہیں اور ان کے گزرنے سے عموما ایک گھنٹہ پہلے روڈ کو بلاک کر دیا جاتا ہے اور ایک گھنٹے کے دوران جیسے جیسے ہمارے عوام کی گاڑیاں آتی جاتی ہیں تو ہر کوئی آگے جانے کے چکر میں مزید بری طرح ٹریفک جام میں پھنس جاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ کئی گھنٹوں پر چلا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام انتخابات کے دوران وہ تمام وی وی آئی پیز لوگوں میں ایسے گھل مل جاتے ہیں کہ لوگ ان کے جانے کے بعد بس ایک ہی بات یاد رکھتے ہیں ، سائیں بندہ چاہے جیسا بھی ہے، چاہے وہ ہمارے کام کرے یا نہ کرے لیکن ووٹ ہم اسی کو دیں گے آخر اس نے ہمارے علاقے میں تشریف لا کر ہمیں اتنی عزت بخشی ہے، سائیں اور تو اور اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا ہے اور تھپکی بھی دی ہے،اور پھر آ پ اس شخصیت کا انتخابات میں چناؤ کر کے اگلے پانچ سال تک اس کی عزت افزائی کے نتائج بھگتتے رہیں گے، جیتنے کے بعدپانچ سال کے دوران وہ شخصیت کبھی بھی آپ کے سامنے نہیں آتی اور نہ ہی آپ کے علاقے کے کوئی ترقیاتی کام ہو تے ہیں اور اگر آپ کسی کام کے سلسلے میں ان سے ملنے کی کوشش کریں تورسائی ناممکن،لیکن مدت ختم ہونے کے بعد انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے وہ پھر سے ایک بار آپ کے علاقے میں آ کر، آپ کو گلے لگا اور تھپکی دے کر اگلے پانچ سال پکے کر جائیں گے۔ اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔ پھر آپ جیسے لوگ مہنگائی، کرپشن، رشوت، خستہ حالی ، پست تعلیمی معیار اور پروٹوکول یا روٹ لگنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو کہیں گے جی سارے کا سارا نظام ہی خراب ہے ، یہاں ہر شخص کرپٹ ہے ، آپ سے اگر پوچھنے کی جسارت کی جائے تو ذرا فرمائیے گا یہ نظام کرپٹ کیسے ہوا اور آپ کا اس نظام میں کرپٹ لوگوں کو اوپر لانے میں کتنا اہم کردار ہے ، آپ واقعی اپنے کردار کو بخوبی نبھانے پر انتہائی قابل تحسین و تعریف ہیں۔ اسی لیے آپ کسی بھی طرح کے معاشی مسائل یاان محترم شخصیت کے پروٹوکول کے قافلے کو بد نظری یا بری نگاہ سے دیکھنے کی بجائے اچھی نگاہ سے دیکھا کریں اور پانچ گھنٹے کی بجائے اگر آپ کوپورا پورا دن بھی انتظار کرنا پڑے تو پریشان مت ہوا کریں آخر ان لوگوں کو اوپر لانے میں آپ نے بھی تو اپنا کردار ادا کیا ہے نا۔

ہمیں اندازہ ہے کہ کسی بھی معروف شخصیت کو اپنی سیکورٹی کے پیش نظر کافی احتیاط کرنی پڑتی ہے، لیکن عوام کو گھنٹوں انتظار کے کٹھن مرحلے جیسی اذیت میں مبتلا کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔ ان پروٹوکول کے فضائل کی وجہ سے کچھ ایسے ثمرات بھی سامنے آئے ہیں کہ ہمارے کچھ مستقبل کے نونہالان بھی احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک جام کے دوران ہی اس دنیا میں ” نمودار ” ہوئے لیکن پھر بھی ان کا احتجاج رنگ نہیں لایا اور ہمارے حکام بالا کے سروں پر جوں تک نہیں رینگی، ہو سکتا ہے ان نونہالان میں سے ہی کوئی مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالے تو شاید وہ اپنے ساتھ ہوئے واقعے کی بنا پر روٹ لگوانے سے انکار کر دے ۔

ہمیں کبھی کبھار ان سیا ستدانوں پر شدید ترس بھی آتا ہے کیونکہ جیسے ہی ہمارے خیالات ہمیں اس دنیا سے آگے روز قیامت کے بعد کی دنیا میں لے گئے تو ذہن کے دریچوں میں کافی انکشافات وا ہوئے جیسے قیامت کے بعد جنت اور جہنم میں نہ جنرل یا لوکل باڈی انتخابات ہوں گے، نہ حکومتی یا اپوزیشن پارٹیاں ہوں گی، نہ وزیر، مشیر یا اعلی حکومتی عہدیدار ہوں گے، نہ بیوروکریسی ہوگی، نہ فوج یا پولیس کے ادارے ہوں گے، نہ میڈیا چینلز ہوں گے اور نہ ہی پریس کانفرنس ہو سکیں گی، اخبارات یا سوشل میڈیا نامی کوئی چیز کا ہونا بھی ناممکن ہو گا جہاں پر پوری دنیا کے سیاستدان آج کی دنیا میں اپنی کمپنیز چلاتے ہیں، نہ پانامہ لیکس جیسے ایشوز ہوں گے، نہ سوئس بنک اکاؤنٹس ہوں گے، نہ سینٹ یا پارلیمنٹ کی میٹنگز ہوں گی، نہ دھرنے ہوں گے، نہ لانگ مارچ ہوں گے، نہ خفیہ بینک اکاؤنٹس ہوں گے،نہ سیاستدانوں کو وی آئی پی سٹیٹس دیا جائے گا اور نہ ہی ان کے گزرنے کے لیے ان کو کوئی پروٹوکول دیا جائے گا تو ذرا سوچیے کہ اس صورتحال میں سیاستدان جنت یا جہنم میں اپنے دن کیسے گزاریں گے یا پھر جن لوگوں کو استعمال کر کے وہ اپنے کام نکلواتے ہیں وہاں پر تو ایسا کچھ نہیں ہو سکے گا، پھر تو سیاستدان انتہائی بوریت اور اکلوتے پن کا شکار ہو جائیں گے ، کیونکہ وہاں پر نہ ہی کسی قسم کی طاقت یا حکومت اثر انداز ہو گی ، نہ کسی پر مفت کے الزام لگا سکیں گے اور نہ ہی جنت کی حکومت حاصل کرنے کے لیے کوئی سیاسی ڈیل ہو سکے گی اور سب سے خطرناک بات تو یہ بھی ہے کہ وہاں کسی بھی طرح کی کوئی سیاسی مصروفیت بھی نہیں ہو گی، اوراگر فرض کر بھی لیں کہ جنت یا جہنم میں بھی انتخابات ہوں گے تو یہ بھی تو ا یک المیہ ہو گا کہ روز اول سے روز آخر تک دنیا کی تمام سیاسی پارٹیاں اور تمام سیاستدان جنت یا پھر جہنم میں جمع کیے جائیں گے، اس میں ہمارے پیارے ملک پاکستان کے سیاستدان کوئی کلیدی عہدہ حاصل کر سکیں گے یا نہیں ؟؟ یہ تو وہیں پتہ چلے گا ، لیکن ہمارا تمام پارٹیوں کے تمام سیاستدانوں کو ایک مفت مگر انتہائی قیمتی مشورہ ہے کہ ابھی سے اپنی زندگی سادگی اور ایمانداری کے ساتھ اور بغیر پروٹوکول کے گزارنا شروع کر دیں اور لوگوں کے کام بھی کریں تا کہ لوگ آپ کو اتنی دعائیں دیں کہ آپ کم ازکم اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد جنت میں جگہ بنا سکیں، ورنہ اگر آپ کو اگلی دنیا میں اوباما کے ساتھ رہنا ہے تو پھر جنت تو گئی ہاتھ سے اور اس کے ساتھ ساتھ جو تھوڑا بہت حوروں کے ملنے کے چانسز ہیں وہ خوبصورت خیالات بھی ابھی سے دل سے نکال دیں، اور پھر اوباما جیسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا اور کبھی ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو گااور آپ کا اللہ ہی حافظ ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments