گلگت میں مسافر کی درگت


گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف چلا آتا ہے۔ پطرس بخاری کی شامت آئی جب لالہ شنکر جی انہیں صبح سویرے جگانے لگے۔ اور ہماری شامت آئی جب ہم گلگت شہر کی جانب چل پڑے۔

اُن دنوں موسم ِ سرماں اپنے جوبن پر تھا۔ ٹھنڈے اور کڑک موسم کی وجہ سے لوگوں کی قلفی جمی جارہی تھی۔ جابجا برف کی ڈالیاں نظر آتی تھیں۔ جو پانی کی گزرگاہوں کو ظاہر کرنے کا واحد ذریعہ تھیں۔ ہم گاؤں میں موسم ِ سرما کی تعطیلات گزار رہے تھے۔ سخت سردی کی وجہ سے بزرگ افراد گھر کے اندر ہی آگ کے گرد ڈیرے جمائے محصور رہتے تھے۔ لیکن نوجوان حضرات اور بچے کھیلوں کا سازو سامان لے کر صبح سویرے ہی میدانوں میں وارد ہوتے تھے۔

ایک دن ہم حسب ِ معمول کھیل کود میں محو تھے۔ ایک دوست نے ہم سے رازدارانہ انداز میں کہا کہ پرچے میں کچھ خالی آسامیاں مشتہر ہوئی ہیں۔ ہم نے کافی تک و دو کے بعد ایک پرچہ حاصل کیا اور اس کا بغور مطالعہ کرنے کے لئے گھر کی طرف نکل پڑے۔ گھر پہنچ کر ہم نے دروازے کو اندر سے بند کردیا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ یہ آسامیاں ہمارے بجائے کوئی اور نہ لے اڑے۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اس خبر کو صیغہ راز میں رکھیں گے اور جہاں تک ممکن ہو اسے افواہ قرار دینے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

دروازے کو بند کرنے کے بعد ہم نے کھڑکی کی جانب توجہ دی۔ کھڑکی کو مکمل طور پر پردوں میں ڈھانپ کر ہم نے شلوار کی جیب سے پرچہ نکالا اور اس کو پڑھنے لگے۔ پرچے کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ خبر سچی اور کھری تھی۔ چیف کورٹ گلگت میں کچھ آسامیاں خالی تھیں اور ان کو پُر کرنے کے لئے موزوں امیدواروں سے درخواستوں طلب کی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی تحریری امتحان کی تاریخ کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اہل امیدواروں کی شرائط کو پڑھنے کے بعد ہم بے حد خوش ہوئے کہ ہم بھی اس امتحان میں شریک ہوکر اسے عظمت اور اعزاز بخش سکتے تھے۔ اپنے آپ کو لائق اور قابل پاکر ہمارا سینہ اور بھی چوڑا ہوا۔ ہمارے پر نکل آئے اُڑے ہم آسمانوں میں۔ اور دروازے پر دستک کی آواز سن کر ہم حقیقت کی دنیا میں لوٹ آئے۔

ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ خبر خفیہ ہی رہے تاکہ ہمارے انتخاب میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ مگر شومیِ قسمت کہ ہماری خواہشات کے برعکس بہت سارے لوگ اس خبر سے متعلق آگاہ ہوچکے تھے۔ جوں توں کر کے متعلقہ ادارے کے نام درخواستیں بھیجی گئیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے گاؤں سے کتنے لوگوں نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تھا۔

کچھ دنوں بعد بُلاوے کا خط آگیا۔ تحریری امتحان کے لئے آئندہ منگل کا دن مقرّر کیا گیا تھا۔ اور گلگت شہر میں قائم چیف کورٹ کی عمارت کوہی امتحانی مرکز قرار دیا گیا تھا۔ گلگت شہر، گلگت بلتستان کا دارالحکومت ہے اور بے شک سب سے جدید شہر بھی ہے۔ اس کے بعد سکردو کی باری آتی ہے۔ سکردو شہر میں ہم حصولِ علم کے سلسلے میں کئی سالوں تک مقیم رہے تھے۔ مگر گلگت کی جانب یہ ہمارا پہلا سفر تھا۔

پیر کے روز ہم اپنی کامیابی کے خواب دیکھتے ہوئے گھر سے روانہ ہوئے۔ ہمارا قافلہ تین لوگوں پر مشتمل تھا۔ بڑے بھائی علی صاحب، ایک قریبی عزیز احمد صاحب اور ہم جناب اس عظیم الشّان کارواں کا حصہ تھے۔ اس زمانے میں گاؤں کے لوگ کرائے کی گاڑیوں میں دربدر ہونے کے بجائے مفت گاڑیوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ اکثر روڈ سے گزرنے والے ہمدرد اور مہربان مسافر ان کو بھی اپنے دل اور گاڑی میں جگہ دیتے تھے۔ اس عمل سے ایک تو کرائے کی بچت ہوتی اور سفر بھی آرام دہ کٹتا تھا۔ ہم نے بھی اپنی طالب علمی کا ادراک کرتے ہوئے اس سہولت سے مستفید ہونے کا فیصلہ کیا۔ پکی سڑک پر آتے آتے دوپہر کا ایک بج رہا تھا۔ سردی کا موسم تھا اور ہلکی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ لہذا روڈ پر کھڑے رہنے میں کوئی دقّت پیش نہ آئی۔ اب ہم ایک ایسے مہربان کا انتظار کرنے لگے جو ہمیں اپنی گاڑی میں بلا کرایہ گلگت پہنچا دیتا۔

روڑ میں کھڑے ہوکر اولاً ہم نے انتخابی پالیسی اپنائی۔ یعنی اگر کوئی پرائیویٹ گاڑی آجاتی تو ہم ہاتھ کے اشارے سے عرضِ مدّعا کرتے اور اگر کوئی کرائے کی گاڑی آتی تو ایسا ظاہر کرتے ہم گلگت کے بجائے دوسری طرف جارہے ہیں۔ یہ آنکھ مچولی کافی دیر تک جاری رہی مگر نتیجہ صفر۔ کافی دیر تک کوئی کامیابی نہ ملی تو ہم نے امتیازی سلوک کو چھوڑ دیا اور فیصلہ کیا کہ چاہے کرائے کی گاڑی ہی کیوں نہ ملے ہم اس میں سوار ہوں گے۔

چونکہ اگلے دن تحریری امتحان کا انعقاد ہونا تھا۔ اس لئے شام تک ہمیں ہر حال میں گلگت پہچنا تھا۔ بارِ دیگر مصیبت یہ پیش آئی کہ کرائے کی تمام گاڑیاں گزر چکی تھیں۔ فضا میں شام کے آثار نمایاں ہورہے تھے۔ گھڑی سہ پہر چار بجا رہی تھی۔ ہماری پریشانی میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ آخر میں تھک ہار کر ہم نے ہر آنے والی گاڑی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی طور پر ایک ٹرک ہماری فریاد پر رُکا۔ بڑے بھائی نے ہم تینوں کو دنیا کے مجبور ترین افراد ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اور درخواست کی کہ ہمیں گلگت تک پہنچا کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ ٹرک والے نے صاف انکار کیا۔ شاید ہماری بے چینی ان کی نظروں میں ہمیں مشکوک بنا گئی اور ان کو لگا کہ شکلوں سے تو یہ بڑے عجیب لگتے ہیں، کہیں ان کا لوٹ مار کا ارادہ تو نہیں؟

ٹرک والے کی بے رخی اور انکار سے ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔ دل میں مختلف قسم کے خدشات جنم لینے لگے۔ چند ساعتوں بعدایک مزدا (منی ٹرک) آرکا۔ ہم نے فوراً اپنی خواہش کا اظہارکیا۔ اس مرتبہ قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور ہم اس منی ٹرک کی ٹرالی (باڑی) میں بیٹھ کر گلگت کی جانب روانہ ہوئے۔

دانا حضرات کہتے ہیں کہ انسان کو ہر چیز کا تجربہ ہونا چاہیے۔ تجربہ آخر تجربہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ کرکٹ کھیلنے کا ہو، تاج کھیلنے کا ہو، گدھے کی سواری کا ہو، لوگوں کی ٹانگ کھینچنے کا ہو، یا لوگوں کو ٹانگ مارنے کا ہو۔ ہمیں بھی اس معاشرے کے فرد ہونے کی حیثیت سے کئی تجربات حاصل ہیں۔ لیکن ایک ٹرک میں سوار ہوکر اتنا لمبا سفر طے کرنا، وہ بھی کڑک سردی کے موسم میں، پہلی بار تجربہ حاصل ہو رہا تھا۔

گلگت بلتستان میں سردی کا موسم نہایت سخت ہوتا ہے۔ ٹھنڈی اور گرد آلود ہوائیں انسان کا جینا دوبھر کردیتی ہیں۔ ایسے حالات میں گاڑی کی آرام دہ سیٹ پر بیٹھ کر سفر کرنا بھی بہت دشوار ہوتا ہے۔ باہر کھلی ہوا میں سفر کرنے والوں کی حالتِ زار کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے دیگر منصوبوں میں ناکامی کے بعد شائبہ تقدیر سمجھ کر اس سواری کو قبول کیا اور اپنے آپ کو متوقع آلام کے لئے تیار کیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عقیل نواز کی دیگر تحریریں
عقیل نواز کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں