تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھارا


muhammad-adil2

سن 1952 اس لحاظ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اس سال آزاد ہندوستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ بی۔ وی کیسکر نے آل انڈیا ریڈیو کے تمام سٹیشنز پر فلمی گانے چلانے پر بین لگا دیا۔ موصوف کو اس بات کا احساس ہوا کہ یہ فلمی گیت تو نری عشق معشوقی کے علاوہ تو کچھ ہیں ہی نہیں تو ان سے جواں سال، کچے ذہنوں پہ نہایت برے اثرات پڑیں گے۔ لہٰذا کیوں نا ’قوم کے وسیع تر مفاد میں‘ ان پر پابندی لگادی جائے۔ یہ وہ سال تھا جب موسیقارِ اعظم نوشاد کو ’بیجو باورا‘ کی موسیقی پر پہلے فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ شاید اس فلم کے گیت

تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھارا، ہو رہے گا ملن یہ ہمارا تمہارا

کی شاعری نے کچھ ایسے در وزیرِ موصوف کے کشادہ ذہن میں وا کیے کہ آپ خود کو یہ تاریخی قدم اٹھانے سے باز نا رکھ سکے، جس کی وجہ سے آج تک آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ ریڈیو پہ مفت سنے جانے والے ان گیتوں کو لوگوں نے ریکارڈز کی صورت میں خریدنا شروع کردیا۔ سچ ہے شوق کا کوئی مول نہیں۔

اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں گانوں، فلموں ڈراموں اور ڈاکومنٹریوں پہ وقفے وقفے سے بین لگتے رہے۔ ہر مرتبہ حکومتِ وقت پہلے یہ بین کرتی کہ فلاں پیس آف آرٹ نے قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، اس کو بین کردیا جائے۔ سچ ہے کہ یہ حکومتیں حقیقتاً عوامی مسائل سے بخوبی آگاہ تھیں۔

باادب، با ملاحظہ، ہوشیار پی ٹی وی سے چلنے والا ایک نہایت کامیاب ڈرامہ تھا۔ پہلی مرتبہ جب آمرانہ دور میں اس ڈرامے کی پہلی قسط نشر ہوئی تو بادشاہِ معظم اسے دیکھ کر نہایت رنجیدہ ہو گئے۔ یقیناً یہ ہی سوچا ہوگا کہ ’بھلا بادشاہ کبھی اتنے ظالم بھی واقع ہوئے ہیں۔ اس سے تو حکمرانوں اور خاص طور پہ بادشاہوں کے متعلق رعایا میں منفی سوچ پنپنے کا خطرہ بھی ہے۔ یہ ڈرامہ چلتا رہا تو عوام الناس کے جذبات مجروح ہونے یقینی ہیں۔ اتنی مشکل سے اِس قوم کو وی سی آر اور ہیروئن کے نشے کی لت ڈالی، کتنے پاپڑ بیلنے پڑے کہ لوگ ہاکی جیسے تیز کھیل کو چھوڑ کر کرکٹ کے نشے میں ڈوبے رہیں۔ ایسے ڈرامے خوابِ غفلت میں مبتلا قوم کے لئے اچھے نہیں۔ اسے بین ہونا ہی پڑے گا۔‘ ڈرامہ بین ہوگیا۔ لیکن برا ہو پیپلز پارٹی کا کہ اسے حکومت ملتے ہی یہ ڈرامہ پوری آزادی سے نشر کردیا گیا، اس سے بھی بڑا ظلم ’جنجال پورہ‘ جیسا ڈرامہ بناکر کیا گیا۔ توبہ، توبہ سرکاری ٹی وی اور اتنا بولڈ ڈرامہ۔ سچ ہے کہ پیپلز پارٹی نے کچھ ذیادہ ہی جمہوریت پسند ہونے کا ڈرامہ کیا۔

گزشتہ دو تین سالوں سے یہ بین بین کا ڈرامہ پھر سے کھیلا جارہا ہے۔ ایک طرف انٹرنیٹ، سوشل میڈیا جیسی سہولیات سے خیبر ایجنسی کے کسی دورافتادہ گاؤں میں بیٹھا تھری جی سہولیات استعمال کرتا قاری، سامع اور ناظر، اور دوسری طرف اخلاقیات کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی مجاز اتھارٹیاں۔ یہاں یو ٹیوب بین ہوتا ہے تو لوگ پروکسی سروسز استعمال کرتے ہیں، یعنی کہ بین ہونے اور بند ہونے میں کافی فرق ہے۔ کافی عرصہ پہلے ہوائیں، غلام گردش اور چاند گرہن میں سیاست دانوں کی کیا کیا تصاویر نہیں پیش کی گئیں، لیکن آج مالک پہ بین لگ گیا۔ سلسلہ، عیاش، ارتھ، اور انصاف کا ترازو جیسی فلمیں جن کے موضوعات میں ناجائز تعلقات سے لے کر عصمت دری تک سب کچھ شامل تھا، وی سی آر پہ اسی ’معصوم‘ عوام کے گھروں میں چلتی رہیں لیکن ’تارِ عنکبوت‘ پہ پابندی لگ گئ۔ اسی فہرست میں نیا اضافہ ڈرامہ ’اڈاری‘ کے ایک بولڈ سین کی وجہ سے اس پہ ممکنہ پابندی ہے، جبکہ دوسری طرف قندیل بلوچ جیسی شخصیات کے انٹرویوز نیوز چینلز کی رونق بنے ہوئے ہیں۔ بار بار بین ہونے کے بعد بھی نازک اور حساس موضوعات پہ بات کرنے سے باز ہی نہیں آتے، سچ ہے کہ ایسی فلمیں اور ڈرامہ بنانے والے نِرے جاہل ہیں۔

‘جب پیار کیا تو ڈرنا کیا‘ سے لے کر ’اوئے اوئے‘ جیسے گانوں پہ پابندی کی صدائیں ابھریں لیکن پھر انہی کانوں نے ’میرا پاؤں بھاری ہوگیا‘ اور ’میری شرٹ بھی سیکسی‘ جیسے گانے ناصرف سنے بلکہ انہیں مقبولِ عام ہوتے بھی پایا۔ فی زمانہ ظہور پذیر ہوتی تبدیلیاں ایک سیلاب جیسی ہیں۔ انہیں کہاں، کون رک پائے گا۔ لوگوں کی پروڈکٹس اور پروڈکشنز پہ پابندی اکثر اوقات انہیں اِن کی حیثیت سے ذیادہ مقبولیت اور کامیابی عطا کردیتی ہے اور پابندی لگانے والوں کو اکثر منفی جذبات اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن سچ ہے کہ بھینس کے آگے بِین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments