جمہوریت کا سفر۔ ۔ ۔ عمل سے رویوں تک


سب سے پہلے تو تمام اہل وطن کو مسلسل تیسری مرتبہ عام انتخابات کے انقعاد پر مبارک باد۔
تمام اساتذہ، پولنگ ایجنٹس، سیاسی ورکرز اور ان کی حفاظت پہ مامور پولیس اور فوج کے جوانوں کوسلام۔
ہمارے ملک کے سب سے بہترین ادارے کو خاص سلام کیونکہ مسلسل تیسری مرتبہ الیکشن پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوئے ہیں۔

یہ الیکشن مالی طور پر ملک کو اکیس ارب میں پڑا۔ اوراس کے دوران ایک ایک نشست کے لئے مذہب کا کارڈ استمال کرکے نفرت کی جو آگ بھڑکائی گئی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ آگ کسی کا خون پیے بغیر بجھ جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کو وفاق اور خیبر پختونخوا میں واضح برتری حاصل ہے۔ جبکہ صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون سے زیادہ پیچھے نہیں ہے اور وہاں بھی حکومت بنانے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ الیکشن کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ نئے پاکستان کو بنانے کے لئے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل شروع ہونے والی جوڑ توڑ اور خریدوفروخت ابھی بھی پرانے طریقے سے جاری ہے۔ امید اور دعا ہے کہ اس سب کا جو بھی نتیجہ نکلے وہ ملک کے لئے بہترین ہو۔

پچیس جولائی کو تحریک انصاف کی برتری واضح ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کافی دلچسپ تحاریر دیکھنے کو ملی۔ ایک پوسٹ جو زیادہ تر تحریک انصاف کے سپورٹر شیئر کر رہے تھے اس میں کچھ ایسی ہدایات کی فہرست تھی کہ۔

سڑکوں اور گلیوں میں کچرا نہ پھینکیں
دیواروں اور کرنسی نوٹوں پر کچھ مت لکھیں
کسی کو گالی نہ دیں اور بے عزتی نہ کریں
پانی اور بجلی بچائیں
ٹریفک قوانین پر عمل کریں
خواتین کی عزت کریں
ایمبولینس کو راستہ دیں
وغیرہ وغیرہ

اس کے علاوہ کچھ ایسی پوسٹس جن کا خلاصہ یہی ہے کہ ملک میں تبدیلی لانے کے لئے اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

یہ سب دیکھ کر پہلے تو تھوڑا افسوس ہوا کہ کیا یہ سب کرنے کے لئے ہم اپنی پسندیدہ جماعت کے الیکشن جیتنے کا انتظار کر رہے تھے؟ کیا پہلے یہ ملک ہمارا نہیں تھا؟ کیا کسی ناپسندیدہ جماعت کے دور میں یہ سب ہماری ذمہ داری نہیں تھی؟ کیا ہم نے پاکستان بنانے والوں کی محنت اور قربانیوں کو بھلا دیا؟ اور چونکہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے اس لئے ہم نے اس کی قدر نہ کی؟

تھوڑی دیر لگی پھرایک بات سمجھ میں آئی کہ ان لوگوں نے اپنی پسندیدہ پارٹی کی حمایت میں محنت کی ہے۔ اپنے گھر والوں رشتے داروں اور دوستوں کو منانے کی کوشش کی ہوگی بحث و تکرار بھی ہوئی ہوگی۔ الیکشن والے دن گرمی اور حبس کے موسم میں شاید کوئی مشکلات یا ضروری کام پس پشت ڈال کر ووٹ ڈالنے گئے۔ اس سب میں ان کی محنت شامل ہے۔ اور جو چیز محنت سے ملے اس کی قدر ہوتی ہے۔ پھر ملکیت کا اصل احساس جاگتا ہے۔ یہ جمہوریت میں ہی تو ممکن ہے۔ جب عوام اپنے ووٹ سے اپنے حکمران چنتے ہیں۔ کوئی آمر آ کر مسلط ہو جائے تو یہ احساس کیونکر بیدار ہو سکتا ہے۔ پھر تو آمریت ہوتی ہے اور اس کا خوف۔

سماجی کارکن محمّد جبران ناصر نے کچھ دن پہلے اپنی الیکشن کمپین میں ایک بہت اچھی مثال دی۔ اگر کچھ لوگ کہیں باھر بیٹھے ہوں اورکسی گاڑی کو ٹکر لگنے کی آواز آئے تو سب چونک جائیں گے۔ چار پانچ لوگ کھڑے ہو کر دیکھیں گے لیکن بھاگ کر وہی جائے گا جس کی گاڑی ہوگی۔ پھر وہی نقصان کا اندازہ لگائے گا اور مرمت کا کام بھی اس کی ہی ذمہ داری ہوگا۔
یہی تو ہے ملکیت کا احساس۔ جو اب جاگا ہے یا اگر پہلے سے تھا تو مزید مضبوط ہوا ہے۔ یہ ایک جمہوری عمل سے گزر کر ممکن ہوا ہے۔

جمہوریت کی اور بھی اچھی باتیں ہیں لیکن ابھی کے لئے یہی کافی ہے۔ اور جمہوریت ٹھیک ہے یا غلط وہ بھی ایک الگ بحث ہے۔ فی الحال تو ہمارے ملک کے آئین کے مطابق پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جس کی بنیاد پارلیمانی جمہوریت ہے۔

اور جہاں اچھی باتیں ہوتی ہیں وہاں بری بھی ہوتی ہیں۔ یہ بات ویسے بری نہیں ہے لیکن اکثر کولگتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جمہوریت میں صرف ایک جماعت نہیں ہوتی۔ ایک سے کافی زیادہ ہوتی ہیں۔ اور جب جماعتیں ہوں تو ان کے حامی بھی ہوتے ہیں۔ اور چونکہ ہر جماعت کی تھوڑی الگ سوچ ہوتی ہے تو ان حامیوں کی رائے بھی باقی جماعتوں کے حامیوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ ایوان میں بھی ایک حکومتی اتحاد ہوتا ہے اور ایک اپوزیشن اتحاد۔ ان دونوں کا کردار بہت اھم ہوتا ہے۔ حکومت ملک کے مفاد میں کام کرے اور اپوزیشن اس کو اس نیک مقصد سے ہلنے نہ دے۔

اب چونکہ آج کل ہمارا پسندیدہ موضوع سیاست بن چکا ہے۔ کوئی بھی محفل ہو، ہر عمر کے لوگ سیاست پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ایک اچھی بات ہے لیکن کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے بارے میں تھوڑی معلومات لی جائیں۔ جمہوریت کے دو اھم جزو ہیں۔ سب سے پہلے عوام کی اطلاعات تک رسائی ہے۔ تمام خبریں عوام تک غیر جانبداری سے پہنچائی جائیں۔ اس سلسلے میں آج کل کے حالات میں ہم کچھ خاص نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ جو صحافی ہماری پسند کے مطابق خبر نہ دے ہم اس کو لفافہ کہہ دیں۔

دوسرا اہم جزو ہے آزادی اظہار رائے۔ ہر جماعت کے حمایتی کی رائے دوسری جماعتوں کے حمایتیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ہی جماعت کی حمایت کرنے والے سب افراد کی رائے میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن بھی کہا جاتا ہے۔ جب مجھے سیاست کا بلکل بھی علم نہیں تھا تب یہ بات بہت بری لگتی تھی لیکن اب سمجھ آتی ہے۔ اس کی مثال بھارت کے مشہور اردو شاعر جاوید اختر کی ایک نظم ”نیا حکم نامہ“ سے لی جا سکتی ہے جس میں انہوں نے گلستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ،

کسی کو کوئی یہ کیسے بتائے
گلستان میں کہیں بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے
کبھی ہو ہی نہیں سکتے
کہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں

گویا ایک گلستان کی خوبصورتی اس میں موجود مختلف رنگوں سے ہے۔

بس آخر میں ایک درخواست ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت کرنا سیکھیں۔ کسی کو اس کی رائے مختلف ہونے پر خود سے کم تر مت سمجھیں۔ اس کے لئے اپنا دل برا نہ کریں۔ اختلاف ضرور کریں لیکن اخلاقیات میں رہتے ہوئے۔ کبھی کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی۔ ایسا ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد کسی کی رائے آپ کے مطابق ہوجائے یا آپ کی رائے ان کے مطابق۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سوہیرا شہباز کی دیگر تحریریں
سوہیرا شہباز کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں