برصغیر میں اسلحہ کی نئی اور خطرناک دوڑ کا آغاز


editپاکستانی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سی حال ہی میں مختلف قسم کے میزائل سسٹم ، نیو کلیئر صلاحیت والی سب میرین اور طیارہ بردار جہاز پر جدید آلات کی تنصیب جیسے اقدامات برصغیر میں طاقت کے توازن کے لئے سخت خطرہ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک مذاکرہ میں پاکستان کے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلطان نے کہا کہ بھارت کی جنگی تیاریوں کے نتیجے میں پاکستان کو بھی اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس طرح خطے میں اسلحہ کی دوڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ پاکستانی ماہرین کا موقف ہے کہ بھارت نے گزشتہ ماہ نیوکلیئر صلاحیت والی K-4 آبدوز سے بلاسٹک میزائل داغنے کا تجربہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس تجربہ کے بعد نیوکلیئر صلاحیت کی حامل آبدوز کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ اس طرح بھارت بحر ہند کو نیو کلیئر زون بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کے یہ اقدامات ”حملہ کے متبادل انتظامات“ کے ضمن میں آتے ہیں۔ یعنی اب بھارت اپنے جوہری ہتھیار ناکارہ ہو جانے کی صورت میں متبادل صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت Second Strike Capability کہا جاتا ہے۔ یہ رویہ جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کو بھی اس کے مقابلے میں تیاریاں کرنا پڑیں گی۔

پاکستان بھارت کی فوجی تیاریوں اور خطرناک عزائم سے پوری طرح آگاہ ہے۔ بھارت کی طرف سے جس طرح پاکستان کے خلاف جارحیت اور عدم مفاہمت کے رویہ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اس کی روشنی میں پاکستان کے پاس بھی ان تیاریوں کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ پاکستان بھارتی بحریہ کی وسعت اور قوت میں اضافہ کا تدارک کرنے کے لئے 2012 سے پاک بحریہ کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اگر بھارتی بحریہ میں توسیع کا اصل مقصد سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت حاصل کرنا ہے تو پاکستان بھی ایسی ہی صلاحیت حاصل کرنے کے لئے اقدامات کرے گا۔ اس طرح خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس مقابلے بازی میں اس خطے میں ایک ایسے وقت میں جوہری ہتھیاروں کے فروغ کے لئے کام کیا جا رہا ہے جبکہ دنیا کے باقی ملک جوہری ہتھیاروں کو تلف اور محدود کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال دونوں ملکوں کے درمیان مواصلت کی کمی اور مذاکرات کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔ آزاد دنیا کا لیڈر کہلانے والا امریکہ جیسا ملک بھی اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔ امریکہ کے زیادہ تر مفادات اب بھارت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی لئے دونوں ملکوں کے درمیان ہر سطح پر تعاون میں اضافہ ہوا ہے جس میں جوہری توانائی کے شعبہ میں تعاون بھی شامل ہے۔ امریکہ ایک طرف بھارت کے حجم اور آبادی کی وجہ سے اسے اپنی تجارتی ضرورتوں کے لئے اہم سمجھتا ہے تو اس کے ساتھ ہی خطے میں چین کی قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی امریکہ بھارت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے منصوبہ بندوں کی خواہش ہے کہ بھارت چین کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت کے علاوہ اس کے لئے فوجی لحاظ سے بھی چیلنج بن سکے۔ اس طرح امریکہ اور مغرب کو چین کی ترقی پذیر معیشت اور جدت پذیر عسکری قوت سے جو اندیشے لاحق ہیں، ان کا تدارک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اسی جوش میں واشنگٹن کے منصوبہ ساز یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت کی فوجی تیاریوں کا اصل ہدف پاکستان ہے اور پاکستان بھی مسلسل بھارت کو اپنے وجود کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ اور پاکستان اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی روشنی میں یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کے تعلقات کی نزاکتوں کو سمجھے گا اور بھارت کو غیر ضروری طور پر طاقتور بننے میں مدد دیتے ہوئے وہ پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کا خیال بھی رکھے گا۔ لیکن امریکہ پاکستان سے افغانستان میں امن اور دہشت گردی کے عالمی عفریت کا مقابلہ کرنے کے لئے تو فوجی ، سیاسی اور سفارتی تعاون اور امداد کی توقع کرتا ہے لیکن بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی پریشانی اور تشویش کو سمجھنے اور دور کرنے کی کوئی قابل ذکر کوشش دیکھنے میں نہیں آتی ہے۔ اس طرح امریکہ گو کہ دنیا کی سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے لیکن ایک بڑی طاقت کو غیر جانبداری اور توازن کا جو رویہ اختیار کرنا چاہئے، وہ اس سے قطعی طور سے محروم ہے۔

امریکہ نے پہلے یک طرفہ طور پر بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کا معاہدہ کیا اور پاکستان کے احتجاج کے باوجود نہ تو اس پر عملدرآمد ترک کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کر کے توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ اب بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو زیادہ موثر اور بامقصد بنانے کے لئے لاجسٹک سپورٹ ایگریمنٹ LSA کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ پاکستان ، امریکہ اور بھارت کے اس اشتراک کا بغور مطالعہ کر رہا ہے۔ اس دوران واشنگٹن میں بھارتی لابی کو امریکی کانگریس میں بہت زیادہ دسترس حاصل ہوئی ہے۔ اسرائیلی لابی کے بعد بھارتی لابی کو امریکی معاملات پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے سب سے موثر اور طاقتور سمجھا جا رہا ہے۔ اس کا مظاہرہ حال ہی میں دیکھنے میں آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے پاکستان کو فروخت کئے جانے والے 8 ایف 16 طیاروں کی قیمت کی ادائیگی کے لئے 430 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ 700 ملین ڈالر کی خریداری کے اس معاہدہ کے تحت یہ طے پا چکا تھا کہ پاکستان 270 ملین ڈالر ادا کرے گا جبکہ باقی ماندہ 430 ملین ڈالر امریکہ کی طرف سے مختلف مدات میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد میں سے ادا کئے جائیں گے۔ لیکن سینیٹ کی مداخلت کی وجہ سے امریکی حکومت اپنے ہی معاہدے سے انحراف پر مجبور ہے۔ کل ہی امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان کو فوجی امداد کے طور پر ملنے والے 450 ملین ڈالر روکنے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ کانگریس صرف اس صورت میں اس ادائیگی کی اجازت دے گی اگر پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی کرے گا۔ امریکی سیاستدانوں کے موقف اور طرز عمل میں یہ تبدیلی بھارتی لابی کے اثر و رسوخ کا شاخسانہ ہے۔

ماہرین نے یہ بات بھی نوٹ کی ہے کہ اس دوران بھارت پاکستان کے لئے خارجی لحاظ سے ہی خطرہ کا سبب نہیں بن رہا بلکہ جاسوسی نیٹ ورک اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے اندر تخریب کاری کی سرپرستی کر کے پاکستانی افواج کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاک فوج کو ایک طرف سرحدوں پر چوکس اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اندرونی محاذ پر دشمن کے ایجنٹوں کو تلاش کرنے اور تخریب کاری کا سامنا کرنے کے لئے بھی مستعد رہنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بداعتمادی کی اس فضا کو دور کئے بغیر خطے میں اسٹریٹجک استحکام کی بات کرنا خام خیال ہو گی۔ بھارت کی تازہ ترین تیاریوں سے پہلے اگرچہ دونوں ملکوں کی عسکری قوت میں عدم توازن موجود تھا لیکن وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی یکساں صلاحیت رکھتے تھے۔ اس لحاظ سے حجم اور قوت کے فرق کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان ایک برابری کی سطح موجود تھی۔ بھارت نے گزشتہ کچھ عرصہ میں اس توازن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کے جارحانہ عزائم اور دونوں ملکوں کے درمیان متعدد حل طلب مسائل کی وجہ سے بھارت اگر بحر ہند میں بحری قوت کے ذریعے حملہ کی متبادل صلاحیت حاصل کرے گا تو پاکستان بھی ایسی ہی صلاحیت حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔

اس سے پہلے بھارت نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن COLD START DOCTRINE کے تحت پاکستان کو موبائل نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے پر مجبور کیا تھا۔ کولڈ اسٹارٹ حکمت عملی کے ذریعے بھارت نے پاکستان پر اچانک پوری قوت سے حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس منصوبہ بندی کے تحت اپنی افواج کو سرحدوں پر تعینات کیا ہے۔ پاکستان کی فوج اس قسم کی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، اس لئے اس نے جوہری متبادل کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لئے چھوٹے موبائل جوہری ہتھیار تیار کئے گئے ہیں جو بھارت کی طرف سے کولڈ اسٹارٹ آپشن استعمال ہونے کی صورت میں اس کی پیشقدمی روکنے کے لئے استعمال ہوں گے۔ یہ موبائل جوہری ہتھیار تیزی اور آسانی سے ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر منتقل ہو سکتے ہیں اور انہیں چھوٹے میزائل سسٹم کے ذریعے دشمن پر داغا جا سکتا ہے۔

امریکہ اس قسم کے جوہری ہتھیار تیار کرنے پر پاکستان سے احتجاج کرتا رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ پاکستان اس پروگرام کو ختم کر دے۔ لیکن وہ بھارت کو کولڈ اسٹارٹ حکمت عملی ترک کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب اس صورتحال کو متبادل حملہ کی صلاحیت کے طریقہ کار کے تحت مزید پیچیدہ اور مشکل بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ پاکستان بھارتی تیاریوں کا جواب دے گا اور کوئی ایسی حکمت عملی یا ہتھیار تیار کرے گا جن کے ذریعے بھارتی عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔ پاکستان کے لئے اس خطے میں بھارتی تسلط اور اسے واحد ملٹری قوت کے طور پر قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز اور مسائل کا حل بے حد ضروری ہے۔ بھارت کی انتہا پسند حکومت مسلسل بات چیت سے گریز کر رہی ہے۔ واشنگٹن کے مفاد پرست لیڈر نئی دہلی کی ہر بے ادائی کو قبول کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali