متحدہ کا نیا بھائی اور پرانی قسمت


متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی ہماری ٹی وی پر چلنے والی سیاست کی ایک اہم کھلاڑی رہی ہے۔ جب نجی چینلوں کا راج ہوا تو ان کو حکم ملا کہ الطاف بھائی کی تقریر لازمی دکھائی جائے۔ الطاف بھائی کی تقریر تقریباً اتنی ہی طویل ہوتی تھی جتنی چوہدری نثار کی پریس کانفرنس۔ لیکن یہ بات بہرحال ماننی پڑے گی کہ الطاف بھائی کی تقریر چوہدری صاحب کی پریس کانفرنس کی طرح بورنگ نہیں ہوتی تھی۔ اس میں خطابت، لطافت، گلوکاری اور اداکاری یعنی سب ہی نگینے جڑے ہوتے تھے۔ لیکن یہ نگینے رابطہ کمیٹی کے لئے کچھ پریشانی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے تھے۔

الطاف بھائی کی تقریر ہوتی۔ اس میں رابطہ کمیٹی کا رول تقریباً وہی ہوتا جو دیسی فلموں میں ہیروئن کی جانثار سہیلی کا ہوا کرتا ہے۔ یعنی جب ہیروئن جذبات سے مغلوب ہو کر بات بگاڑ دیتی تو اس سہیلی کی ذمہ داری ہوتی کہ شعلوں پر پانی ڈالے۔ بھائی تو جوش خطابت میں کچھ بھی بول دیتے اور اس کے ساتھ ہی رابطہ کمیٹی کی اڑی اڑی سی رنگت والے اراکین ٹی وی پر آ کر بتانا شروع کر دیتے کہ نہیں آپ غلط سمجھے ہیں، بھائی نے تو ایسا نہیں ویسا کہا تھا۔ اگلے دن بھائی بھی یو ٹرن لے لیتے۔ پھر بھائی ہر مہینے میں دو مرتبہ قیادت سے استعفے دینے کا اعلان بھی کر دیتے اور اس موقعے پر رابطہ کمیٹی کا فرض ہوتا کہ وہ ”نہیں بھائی نہیں“ کی گردان اس وقت تک کرتے رہیں جب تک الطاف بھائی کارکنوں کے پرزور اصرار پر اپنا استعفے واپس نہ لے لیں۔

لیکن رابطہ کمیٹی کی پرفارمنس سے بھائی مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ کم از کم رابطہ کمیٹی کے حاسدین تو یہی بتاتے تھے۔ کبھی الزام لگاتے کہ فلاں رکن کو نائن زیرو پہنچنے میں پانچ منٹ کی دیر ہو گئی تو سکول کے بچوں کی طرح سزا دی گئی اور دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑا کر دیا گیا۔ کبھی یہ خبر اڑا دی جاتی کہ الطاف بھائی نے غضب میں آ کر رابطہ کمیٹی پر کارکنوں سے کفش کاری ہی کروا دی۔ پھر الطاف بھائی نے اگست 2016 والی بدنام زمانہ تقریر کر ڈالی اور رابطہ کمیٹی اپنے ”منزل نہیں راہنما چاہیے“ والے نعرے سے محروم ہو گئی۔

الطاف بھائی کیا گئے رابطہ کمیٹی کی بھائی گیری ہی ختم ہو گئی۔ اب اس الیکشن میں ہی دیکھ لیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی چار سیٹیں جیتی ہیں اور تحریک انصاف چودہ سیٹیں لے اڑی ہے۔ اگر تحریک انصاف کو پانچ برس کام کرنے کا موقع مل گیا تو وہ پیپلز پارٹی کی طرح حماقت کا ثبوت نہیں دے گی بلکہ کراچی کو فل فوکس کرے گی اور ایم کیو ایم سے یہ باقی ماندہ چار سیٹیں بھی جیتنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

یعنی کراچی میں اب دو جماعتیں حریف ہیں۔ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم والے بنی گالہ گئے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت میں شمولیت کا اعلان کر بیٹھے ہیں۔ ایسا نہیں کہ انہوں نے کوئی سودا نہیں کیا۔ رابطہ کمیٹی کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کے دو ہی اہم مطالبے تھے۔ پہلا یہ کہ صاف پانی دے دیں، دوسرا یہ کہ گندا پانی نکال دیں۔

اس کے علاوہ کراچی پیکیج، ترقیاتی منصوبوں اور میٹرو یعنی ماس ٹرانزٹ کی فرمائش کی ہے۔ یہ سب کچھ تو تحریک انصاف ویسے بھی اپنا ووٹ بینک بنانے کے لئے فراہم کرے گی تاکہ باقی کی چار سیٹیں بھی متحدہ سے ہتھیا لے۔

اہم چیز یہ ہے کہ رابطہ کمیٹی نے یہ جان لیا ہے کہ اب اگست 2016 میں اپنا پرانا بھائی کھونے کے بعد اسے ایک نیا بھائی چاہیے تھا جو خدائے بزرگ و برتر نے اسے عمران بھائی کی صورت میں عطا کیا ہے۔ کراچی میں اب دوبارہ ایک بھائی کا راج ہو گا۔ اور رابطہ کمیٹی اس کے بیانات کا اسی جی جان سے دفاع کرتی دکھائی دے گی جیسے وہ الطاف بھائی کے بیانات کا کیا کرتی تھی۔ رابطہ کمیٹی بھی سوچتی ہو گی کہ ہمارے بھی کیسے نصیب ہیں، بھائی تو نیا ہے لیکن قسمت وہی پرانی ہے۔ یہ نیا بھائی بھی یو ٹرن والا نکلا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar