نئے پاکستان میں پرانے پاکستانیوں کی پریشانی


پی ٹی آئی کے الیکشن جیتنے کے بعد ہر طرف نئے پاکستان کا غلغلہ ہے۔ عمران کی حکومت بننے میں اگرجہ ابھی دو چار سخت مقام سد راہ ہیں تاھم نئے پاکستان کے رسیا اور عشاق شہر در شہر جشن فتح منانے میں مصروف ہیں۔ کوئی پرانے پاکستان اور پاکستانیوں کو کو ستے ہوئے یوں گویا ہو رہا ہے۔
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

دوسری طرف سے ذوق و شوق اور نئے ولولے میں ڈوبی ہوئی آواز آتی ہے۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

امیدیں ہیں، آرزوئیں ہیں، امنگیں ہیں اور سنہرے مستقبل کے خوشنما سپنے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ خواب دیکھنے والوں کو روشن تعبیر ملے اور بقول فراز کچھ مدت بعد خواب دیکھنے والوں کو کف افسوس ملتے ہوئے یہ نہ کہنا پڑے کہ:ھم خوابوں کے سوداگر تھے پر اس میں ہوا نقصان بہت
ادھر پرانے پاکستان کے لوگ انگشت بدنداں، حیرت و پشیمانی میں ڈوبے ڈرے، سہمے نئے پاکستان کے تیور دیکھ رہے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہرزمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے

تمہید کچھ لمبی ہو گئی ورنہ یہاں کچھ پرانے پاکستانیوں کی نئی پریشانی کا ماتم کر کے نئے پاکستان والوں کو ان کی مدد کے لیے آمادہ کرنا مقصود تھا۔ نئے پاکستان کے آغازھی میں فوجی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے 104سکولوں اور دو عدد کالجز کے اساتذہ کو اپنی رہی سہی عزت اور روزگار کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی چشم کشابھی ہے اورعبرت انگیز بھی۔ ایک دن اچانک ایم ڈی صاحب کو بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں اس لیے ان میں کمی کرنا ضروری ہے۔ پہلے توانہوں نے اساتذہ کو معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جبری ریٹائر کرنا شروع کیا۔ سروس کم ہونے کی وجہ سے جن پر یہ چھری نہ چلی ان کے لیے ایک نیا انتہائی شرمناک معاہدہ تشکیل دیا جس کے مطابق سکول کے استاد کو 17ھزار اور کالج کے پروفیسر کو 19 ہزار پر کام کرنے کی پیشکش کی گئی۔

یاد رہے یہ اس ادارے کا حال ہے کہ جہاں کے ایم ڈی صاحب ماہانہ 30 لاکھ سے زائد تنخواہ مراعات سمیت لیتے ہیں۔ راقم نے 22سال قبل بطور لیکچرار فوجی فاؤنڈیشن کالج جوائن کیا تھا اور آج جبکہ جوانی کے قیمتی سال اس کالج کو خون جگر سے سینچا تو اھل چمن اس ذلت سے یہاں سے نکالنے پر تلے ہیں کہ آدم کو بھی خلد سے نہ نکالا گیا ہوگا۔ گرلز اور بوائز کالجز کے قریب قریب 90 پروفیسروں اور دو ہزارسے زائد اساتذہ اسی انجام سے دو چار ہونے والے ہیں۔ یہ سب کچھ ان اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے جو کئی سال سے فیڈرل بورڈ میں بہترین بلکہ امتیازی نتائج دے رہے ہیں۔

کاش ان جنرل صاحب کو کوئی یہ بتا دے کہ ایک بریگیڈیر صاحب کو تیس سال سروس کے بعد کیپٹن کے عہدے پر کیسے کام کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے؟ آئی جی صاحب کو ایس پی بنا کر ان کے رینک کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ ایسی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ الٹی گنگا بہنا سنا تو تھا مگر آج نئے پاکستان میں یہ بہتے ہوئے نظر بھی آ رہی ہے۔ یہاں ہم استاد کی عظمت اور تقدس کی بات نہیں کریں گے کہ ہماری اسلامی روایات اور دنیا کی قدیم و جدید تاریخ میں استاد کا مقام مسلم ہے۔

ہٹلر جیسے ظالم اور سفاک انسان نے بھی جنگ عظیم میں تعلیم یافتہ اور ہنرمند شہریوں کی بکثرت اموات پر کہا تھا کہ ہو سکے تو اساتذہ کوبچا لو۔ استاد زندہ رہیں گے تو ایسے ہزاروں ہنرمند اور پیدا ہوجائیں گے۔ ہم بصد احترام نئے پاکستان کے معماروں سے دست بستہ عرض پرداز ہیں کہ وہ فوجی فاؤنڈیشن ہیڈآفس کی تعلیم دشمن اور استاد کش کارروائیوں کا سنجیدگی سے نوٹ لیں اور نئے پاکستان میں پرانے قوم کے معماروں کو پریشانی سے بچائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

پروفیسر نعیم اختر کی دیگر تحریریں
پروفیسر نعیم اختر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں