جو جان کی امان چاہتے ہو تو لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو



ہندوستان میں اقلیتی برادری کو دن بہ دن نشانہ بنایا جارہا ہے چاہے وہ آبادی کی مناسبت سے اقلیتی ہو یا حق اور انصاف پر چلنے والے امن و انصاف پسند برادری ہو اقلیت میں ہی ہیں کیونکہ ایسے بہت کم گنے چنے افراد ہیں جو ملک کے امن و سلامتی کے لئے عوامی یکجہتی کے لئے ہمہ وقت فکرمند ہیں۔ ملک کے کسی بھی شعبہ کو اگر دیکھا جائے تو وہ شعبہ اس وقت کی حکومت کے اشارہ پر چلتا ہے یا پھر اس کے دباؤ میں ہوتا ہے۔ کہنے کو تو ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے لیکن گزشتہ کہی دہائیوں سے جو ظلم اقلیتی برادری پر کیا جارہا ہے وہ ظاہری طور پر ہو یا خفیہ ہو ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے۔ جس کا سب سے زیادہ شکار ہندوستان کے مسلمان ہوئے ہیں۔

کانگریس کے دور اقتدار میں انہیں صرف خوبصورت خوب دکھائے گئے۔ اور ان کا استعمال کیا گیا۔ اس کے پیچھے منصوبہ بند سازش ہے ہندوستان میں مسلمانوں کو کس طرح کمزور کیا جائے تعلمی معاشی۔ سیاسی۔ میدان ہو ہر لحاظ سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سنگھیوں نے کھل کر دہشتگردی شروع کردی اور اس کے پیچھے موجودہ حکومت کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے بلا جھجک تشدد کیا جارہا ہے۔ جو لوگ آج اقتدار میں ہے وہ کوئی عام سیاسی جماعت کے لوگ نہیں ہے یہ سنگھی تنظیموں کے رہنماء ہیں جو اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کئی معصوم جانوں کا لہو بہایا ہے۔ ان میں اکثر گجرات فسادات کے مجرم ہیں۔

اسی کے ساتھ ملک کے جمہوری نظام کو ختم کرنے کے لئے ان کی تنظیمیں کئی دہائیوں سے کام کررہی ہیں۔ یہ لوگ سسٹم کو چلا رہے ہیں۔ اپنے اقتدار و منصب کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہے اور ان گنے چنے انصاف پسند افراد کو ٹارگیٹ کر رہے ہیں جو ملک کے جمہوری نظام کو درہم برہم ہونے سے روکنا چاہتے ہے۔ جیسے عدالتوں میں مظلوموں کو برسوں تک انصاف نہ ملنا۔ بے گناہ ایماندار ہیمنت کرکرے جیسے کو جان سے مارنا اور اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دینا۔ گوری لنکش جیسی ایماندار صحافی کا انکاونٹر کرنا۔ یہاں تک کے جو بھی اگر ملک کی جمہوریت کی حفاظت کے لئے آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہیں ایسے افراد کو جھوٹے الزامات میں جیلوں میں قید کردیا جاتا ہے۔

صحافت جسے جمہوریت کا تیسرا ستون کہاں جاتا ہے۔ ملک کے ایسے شعبہ کو بھی ٹارگیٹ کیا جاتا ہیں جس کا کام سچائی عوام تک پہنچانا ہے۔ جو حکومت کے غلط فیصلوں پر حکومت کو متوجہ کرتی ہیں ایسے ادارے کو بھی پوری طرح سے خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ اور مٹھی بھر انصاف پسند بباک صحافیوں پر دباؤ بنایا جاتا ہے اور انہیں اپنے منصب سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاتا ہیں یا پھر ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے جمہوری نظام کے لئے خطرہ کی علامت ہے۔

سنگھیوں نے اس ملک میں ایسی تنظیمیں تیار کرلی ہے جو وقت آنے پر ایمرجنسی کا نفاذ کر کے حکومت کا تختہ الٹ کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔ آج ملک کی عوام کو ضرورت اس بات کی ہے کے وہ قومی یکجہتی آپسی بھائی چارگی کو بڑھاوا دے کر ان دہشت گرد عناصر کو دو ٹوک جواب دے ایسے لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے لئے سڑکوں پر آئے جو لیڈران معصوم بچوں کے لاشوں پر کرساں سجا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جو خون کی ہولی کھیل کرسیاست کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کے اپنی قیادت کو مضبوط کریں اپنی ایمانی غیرت کو جگائیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے اپنی قوم کے اندر بیداری پیدا کریں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں کے یہ خون خوار درندے بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ذوالقرنین احمد، مہاراشٹر، ہندوستان کی دیگر تحریریں
ذوالقرنین احمد، مہاراشٹر، ہندوستان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں