آپ کے تعلیم یافتہ ہونے کی افادیت کیا ہے



آپ کے تعلیم یافتہ ہونے کی افادیت کیا ہے؟
مسلمانوں کے مسلکی اختلافات؟
مولوی ملا نے قوم کو الجها رکها ہے!
مسلمانوں کے اپنا اخبار اور ٹی وی چینل نہیں ہیں؟
مولوی ملا نے اس طرف توجہ نہیں دی!
مسلمانوں میں اعلیٰ درجہ کے وکلا کا فقدان ہے؟
مدرسوں میں ماڈرن ایجوکیشن نہیں دی جاتی!

اپنی ہر خامی کو یہ کہہ کر جواز نہیں، آپ فرار کا راستہ اختیار کر رہے ہیں. دین اسلام میں ذات برادری کا تو اولاً تصور ہی نہیں ہے مگر بر صغیر، ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں غیر مسلموں کی تہذیب سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے بهی اعلی اور ادنی کی درجہ بندی کردی ہے. جس طرح ہندوؤں میں برہمن شودر ویسیہ اور کشتری/چهتری کی طرز پر اشراف اور ارذال کی کیٹیگری ہے مسلمانوں میں بهی سید شیخ ملک پٹهان جولاہے دهنیے کی کیٹگری ہے. مگر یہ سماجی حیثیت اور شادی بیاہ تک محدود ہے. دین اسلام میں یہ نہیں ہے کہ فقط سید ہی مذہبی رسومات ادا کرائے گا جس طرح ہندوؤں میں ہے کہ برہمن ہی دینی کتابیں پڑھ سکتا ہے اور پیدا ہونے سے لے کر مرنے کے بعد تک تمام مذہبی رسومات برہمن ہی ادا کرا سکتا ہے. یا عیسائیوں کے لئے جس طرح ویٹیکن سیٹی سے فرمان جاری ہوتا ہے، مسلمانوں کے لئے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ یا کوئی اور مرکزسے فرمان جاری نہیں ہوتا ہے.

اسلام میں ان مقامات کا تقدس عبادت کے نقطہ نظر سے ہے. اسلام میں سب سے زیادہ مقدس مقامات ہیں:
1- بیت اللہ شریف جو مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔
2- مسجد نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام جو مدینہ منورہ میں واقع ہے۔
3- بیت المقدس جو فلسطین کے یروشلم شہر میں واقع ہے.
آپ خود بهی اپنے نومولود بچے کے دونوں کانوں میں اذان کے کلمات پہنچا سکتے ہیں، اپنے بچوں کا بحیثیت ولی عقد کرا سکتے ہیں اور نماز جنازہ پڑها سکتے ہیں۔ اسی طرح تمام اسلامی شعائر آپ خود بھی ادا کر سکتے ہیں؛ کسی سید/ ملا /مولوی پیر فقیر بابا کی ضرورت نہیں ہے. اسلامی تعلیمات اور رہنمائی کے لیے قران و احادیث اتھارٹی ہیں. اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے اپنے آخری خطبہ میں اعلان کردیا کہ جب کبهی تمہیں الجهن پیش آئے تو تم کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور سنت رسول اللہ یعنی احادیث نبویہ کی طرف رجوع کرنا اور تاکید کی:
“فلیبلغ الشاهد الغائب”
یعنی جو اس خطبہ کو سن رہے ہیں اس مجلس میں حاضر ہیں وہ ان تک یہ حکم پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں گویا یہ حکم قیامت تک کے لئے ہے اور اسی طرح سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہے گا.

جب اسلام کا نظام معاشرہ کسی قسم کی تفریق کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا کسی کی افادیت اور اہمیت کسی طبقہ یا برادری کے ساتھ مخصوص نہیں ہے تو آپ جس طرح دنیاوی امور میں انڈیپنڈنٹ ہیں اسی طرح دینی امور میں بهی اپنی مستقل حیثیت کا مالک بنیں؛ جہاں سمجھ میں نہ آئے ویاں معتبر علما کرام سے سمجھیں، لیکن اندهی تقلید نہ کریں۔ ان کے فرمان کو قرآن و حدیث کا درجہ نہ دیں. آپ کا عقیدہ دین اسلام ہے اور آپ کی کسی بزرگ ہستی سے محبت اور ان کے مقام کا احترام آپ کی عقیدت مندی ہے اس عقیدت مندی کو عقیدہ پر غالب نہ آنے دیں.

اب وقت وہ نہیں رہا کہ وضو کیسے کرنا ہے کلائی تک ہاتھ کیسے دهونا ہے؛ یہ سب کسی مولوی صاحب سے پوچھیں. الحمد للہ اب ہر شخص تعلیم یافتہ ہے اور دینی کتابیں ہر زبان میں کاغذی بھی اور ڈیجیٹل بهی (آڈیو اور وڈیو بهی، یعنی اگر پڑھنا نہ آتا ہو تو سن کر مستفید ہوسکتے ہیں) انگلیوں کے پوروں پر ایک کلک کی دوری پر ہیں. انفارمیشن ٹیکنالوجی انٹرنیٹ جہاں ایک لعنت ہے کہ اس نے بچے جوان بوڑھے مرد اور عورت ہر ایک کو لایعنی مشاغل اور فحش تصویروں کا گرویدہ بنا دیا ہے؛ وہیں ایک نعمت بهی ہے کہ قرآن مجید اور اس کی مختلف تفاسیر، احادیث نبویہ علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی تشاریح، فقہی مسائل مسالک اربعہ اور بے شمار مفید معلومات یعنی علم کا سمندر اب انڈکس اور ریفرنس کی سہولیات کے ساتھ موجود ہیں. ان سے استفادہ جتنا عام ہوگا متعصب مولویوں کی اہمیت اتنی ہی کم ہوتی چلی جائے گی. بس شرط یہ ہے کہ آپ معتبر سائٹس پر جائیں اور معتبر علما کے حوالہ جات اور ان کی مدلل رائے سے مستفید ہوں.

دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ جب کسی مسجد یا مجلس میں فقہی یا مسلکی جزئیات اور فروعی اختلافات پر کوئی بحث شروع کرے اور دوسرے مسلک والوں کے لیے توہین آمیز بات کرے تو اسی وقت چند نوجوان کهڑے ہو کر روک دیں اور کہیں کہ ان کا معاملہ ان کے ساتھ ہے؛ آپ اپنے اعتبار سے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیانت داری کے ساتھ جو صحیح سمجھتے ہیں اس پر عمل کریں. پہلے زمانہ میں بڑے بڑے امام یہ کہتے تھے کہ میں نے قرآن و احادیث کی روشنی میں اس مسئلے کا استخراج اس طرح کیا ہے، مگر یہ خطا کے امکان سے خالی نہیں ہے اور فلاں امام نے اس کا استخراج اس طرح کیا ہے اور وہ صواب کے احتمال سے خالی نہیں ہے یہ طریقہ کار تها ہمارے اسلاف کا.

تعصب اور انانیت سے دور اس لئے کہ ان کی نظر ہمیشہ “کلمة الله هي العليا” پر رہتی تهی. وہ دین کی سربلندی چاہتے تھے نا کہ اپنی ذات اور مسلک کی. اس ضمن میں ہم سب کی بهی ذمہ داری ہے کہ اپنے علما سے تحقیق کریں کہ بہت سی جزئیات پر اس قدر اصرار کیوں ہے؟ اور اختلاف نے مخالفت کی جگہ کیوں لے لی ہے؟ کیا واقعی ان جزئیات کا تعلق ہمارے عقیدے سے ہے؟ اب ہمیں بیدار ہونا ہوگا. آپ کسی حضرت کا اتنا ہی عقیدت مند بنیں جس سے آپ کا اصل عقیدہ متآثر نہ ہو.
عقیدت مندی کو عقیدہ پر حاوی نہ ہونے دیں.
اختلاف کو مخالفت نہ بننے د یں

قبر میں آپ سے پوچها جائے گا : تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارے نبی کون ہیں؟ یہ نہیں پوچها جائے گا کہ تم وہابی /دیوبندی ہو یا بریلوی؟ اہل حدیث / سلفی غیر مقلد ہو یا مقلد؟ سنی ہو یا شیعہ؟ صحابہ کرام پر تنقید کرنا درست تها یا ان کو تنقید سے بالا تر ماننا؟ یزید کو رضی اللہ عنہ لکھنا درست تها یا نہیں؟ حق پر کون تهے حنفی شافعی مالکی یا حنبلی؟

مدارس دینیہ کے فارغین نے ان بحثوں میں قوم کو الجھا رکها ہے اور قوم العوام کالانعام کے مصداق، ان متعصب دینی قیادت کے پیچهے بهیڑ کی طرح چل رہی ہے. جب تک عوام بیدار نہ ہوں گے اور جواب طلب نہیں کریں گے، کسی مثبت تبدیلی کی توقع دیوانے کا خواب ہے. ان دینی مدارس کے پروڈکٹس کے غلط تصرفات کی وجہ سے ابهی ملا بیزاری ہے اللہ وہ دن نہ دکهائے کہ ملا بیزاری دین بیزاری کی شکل اختیار کر لے.

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں