یومِ شہداء پولیس کے حوالے سے


(یہ بیٹے بھی دکانوں پر نہیں بکتے )
دروازے کی بیل بجی اور تھوڑی دیر بعد میرا ڈرائیور آئی جی پولیس کی طرف سے بھیجا گیا وہ دعوتی کارڈ تھما گیا، جو یومِ شہداء کے حوالے سے منائے جانے والے پروگرام سے متعلق تھا۔ اس دن کے آتے ہی ایک غیر محسوس طریقے سے ہمیشہ میری آنکھیں نم اور سینہ چوڑا ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی تو وہ دن ہے جو سارہ سال لمحہ لمحہ مجھ جیسے ناتواں کمزور اور بے بس شہری کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ ڈرنا نہیں گبھرانا نہیں کیونکہ تمھارے پیچھے فرض شناس بہادر اور دلیر جوانمردوں کی ایک ایسی طاقت کھڑی ہے جنھوں نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار نامی جملے کو ضربُ الا مثال کی بستی سے نکال کر حقیقت کی دُنیا میں منتقل کر دیا ہے۔

میں نے دعوتی کارڈ کھول کر دیکھا تو افتخار عارف کا شعر لکھا ہوا تھا،
مٹی کی محبت میں ہم آ شفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

مجھے لمحہ بھر کو ملک سعد شہید سے خورشید خان شہید تک بہت سے دوست اور شناسا یاد آئے اور وہ بھی یاد آئے جن سے میری کوئی شناسائی نہیں تھی لیکن میری اُداسی پر میرے فخر کا احساس غالب تھا، کیونکہ اپنی دھرتی ماں پر قربان ہونے والے دلیر بیٹوں میں سے کسی ایک کو بھی پیٹھ پر گولی نہیں لگی بلکہ سب کے سینے چھلنی تھے کسی کو بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا گیا بلکہ ہر ایک کو بڑھتے ہوئے پایا گیا۔

محسن نقوی کا ایک شعر زمانہ طالبعلمی میں بہت پسند تھا لیکن اس وقت یہ خبر ہرگز نہ تھی کہ آنے والے زمانے میں میرے جوان اس شعر کو مجّسم شکل میں ڈھال کر مجھے تحفے میں دیں گے اور اس تحفے پر میرے عقیدت کے پھول برستے رہیں گے اور ہاں وہ شعر یہ تھا،
زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے
عھدِ کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیں

اور پھر عہدِ کم ظرف کی کسی بات یا فیصلے کو خاموشی کے ساتھ مجرمانہ طور پر گوارا کرنا تو درکنار بلکہ اُلٹا اس کی طرف لپکے اور اسے بہت حد تک اُکھاڑ کر رکھ دیا اور وہ بھی ایک جنون خیز لیکن ایک قابلِ احترام جذبے کے ساتھ، نہ ستائش کی تمنّا، نہ صلے کی پرواہ۔

ایک تفاخر کے احساس کے ساتھ اکثر سوچتا ہوں کہ آنے والے زمانوں میں مورخ کس شان سے لکھے گا کہ جب ایک عھدِ کم ظرف میری زمین پر اُترا تھا، تو اس دھرتی کے دلیر بیٹے غضب کی دیوانگی اور کمال جذبے کے ساتھ لوگوں کی بستیاں اور اپنی قبریں یکساں طور پر آباد کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

چونکہ خیبر پختونخواہ نہ صرف قبائیلی پٹی سے متصل اور متعلق ہے بلکہ افغانستان کا بارڈر بھی چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اس لئے دوسرے صوبوں اور علاقوں کی نسبت دہشت گردی کی لہر یہاں زیادہ شّدت کے ساتھ محسوس کی گئی کیونکہ یہ نسبتًا آسان ٹارگٹ ہی تھا سو یہاں کی پولیس کو نہ صرف ذیادہ چوکس رہنا تھا بلکہ کہیں ذیادہ پر خطر صورتحال کا سامنا بھی تھا، لیکن آفریں ہے اس فورس پر جو اپنی لاشوں کی بجائے دشمن کی پسپائی اور اپنے بڑھتے ہوئے قدموں کو گنتے رہے۔

1965 ء کی جنگ میں فوج کے بہادر جوان ہندوستان کی یلغار کرتے ہوئے لشکر کے سامنے ڈٹ گئے تو صوفی تبّسم کا نغمہ
اے پُتر ہٹاں دیں نئی وکدے (یہ بیٹے دکانوں پر نہیں بکتے )

ریڈیو سے گونجتا رہا اور دلوں میں اُترتا رہا آج میرے پولیس کے جوان اس سے بھی ذیادہ سرکش دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں لیکن میں آج بھی اپنے لکھے ہوئے جملے کو اون کرتا ہوں جو پورا ایک سال پہلے سنٹرل پولیس آفس میں ایک اجلاس اٹینڈ کرنے کے بعد اسی دن کی مناسبت سے میں نے دوسرے دن اپنے اخباری کالم میں لکھا تھا اور جس کی گونج دیر تک باقی رہی اور وہ جملہ یہ تھا کہ یہ بیٹے بھی دکانوں پر نہیں بکتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں