تذکرة النسائے نادری۔ ایک نایاب کتاب


yasmeen hameedاردو ادب کے سرمائے میں بے شمار ایسے مخطوطات اور نادر کتابیں موجود ہیں جنھیں تحقیق و تدوین کے بعد شائع کرنے کی اہمیت سے ہم سب واقف ہیں۔اسی مقصد کے لیے گرمانی مرکز زبان و اَدب، لَمز نے تحقیقی سلسلے کا آغاز کیا ہے۔ تذکرة النّساے نادری اِس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔

اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی میں لکھے گئے بیش تر تذکرے مرد شاعروں کے لیے مخصوص تھے، خواتین شاعروں کا ذکر اُن میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ میر کے نکات الشّعرا کے 104 شاعروں میں ایک بھی خاتون موجود نہیں۔ اِسی طرح قائم چاند پوری کے مخزنِِ نکات کے 128 شاعروں میں بھی کسی خاتون کا نام نہیں، حال آںکہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت خواتین شعر نہیں کہتی تھیں۔ میر تقی میر کی تو اپنی بیٹی بھی شاعرہ تھیں جن کا ذکر پیش نظر کتاب میں اور رنج کی بہارستانِِ ناز میں بھی آیا ہے۔ البتہ مصطفی خاں شیفتہ کے تذکرے گلشنِِ بے خارکے 671 شاعروں میں چار خواتین بھی شامل ہیں ۔اردو میں لکھنے والی خواتین شاعروں کے الگ تذکروں کی تعداد بھی کم ہے اور ان مےں سے اکثر انیسویں صدی کے اواخر میں مرتب کیے گئے۔ فصیح الدین رنج کے مرتبہ خواتین شاعروں کے تذکرے بہارستانِِ نازمیں اُنھوں نے سببِ تالیف میں بھی لکھا ہے کہ اُس وقت تک ایسے تذکرے دستیاب نہیں تھے ۔ رنج کا تذکرہ، جو اس سلسلے میں اولیت رکھتا ہے، پہلی مرتبہ1864 ءمیں اور پھر1869 ءاور1881 ءمیں شائع ہوا۔ درگا پرشاد نادرکا تذکرہ پہلی مرتبہ1876 ء میں اور تیسری مرتبہ 1884 ء میں شائع ہوا۔ کتاب کے تینوں نسخوں کی تفصیلات مقدمے میں بیان کی گئی ہیں۔ بہارستانِِ نازتو مجلس ِ ترقی ادب نے 1965 ءمیں دوبارہ شائع کر دیا تھا لیکن تذکرة النّساے نادری کی 1884 ء کے بعد یہ پہلی اشاعت ہے۔
اس کتاب میں ایک مخصوص عہد کی خواتین کا کلام تو جمع کیا ہی گیا ہے، اس کے علاوہ کچھ روایات اور مشاہدات کا بیان بھی قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہونا چاہیے۔ایک خاص بات مولف کا لب و لہجہ ہے، جس سے برصغیر کی سماجی زندگی اور خواتین سے متعلق عمومی رویوں کا پتا چلتا ہے ۔ ایک طرح سے یہ کتاب برصغیر کی ذہنی اور سماجی تاریخ کے ایک مخصوص رخ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ کس طبقے کی خاتون کے لیے کس طرح کی زبان استعمال کی گئی، اس سے کیا توقعات وابستہ تھیں، یہ سب باتیں ایک زیریں لہر کی طرح کتاب کے متن کو متاثر کرتی ہیں اور پڑھنے والے کے لیے غور و فکر کا سامان فراہم کرتی ہیں۔

tazkraگرمانی مرکز زبان و ادب، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے شعبہ سماجی علوم کا حصہ ہے۔ یہ مرکز 2010ءمیں قائم ہوا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد، اردو، فارسی اور عربی زبانوں اور ان کے ادب کی تدریس و ترویج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیائی خطے کی مقامی زبانوں کی تدریس اور اِس علاقے کے ادبی سرمائے پر تحقیقی کام بھی مرکز کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ اِس مرکزسے تحقیقی مجلّہ ’بنیا د‘ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ لمز میں تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔اس کے لیے سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں اور انتظامیہ کا تعاون بھی۔

اردو کے کلاسیکی ادب کی تحقیق و اشاعت کی اہمیت کے پیش نظر گرمانی مرکز نے 2014 ءسے کلاسیکی اردو ادب کا تحقیقی و اشاعتی سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ایسے قدیم متون، صحت و تحقیق کے ساتھ مرتب کر کے شائع کیے جائیں گے جو اردو ادب میں تاریخی اور معیاری اعتبار سے اہم ہےں۔اِس سلسلے کا ایک مقصد اردو زبان و ادب کے نادر ذخیرے کو محفوظ کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور اس کے علاوہ اُردو اَدب کے علما، ناقدین و قارئین اور خاص طور پر طالبِ علموں کے لےے اس خطے کی اہم اور قدیم کتابوں کے مستند متن فراہم کرنا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اِس سلسلہ¿ کتب میں ایسی کتابیں شامل کی جائیں جن کا مطالعہ، مستند متن اور تحقیقی تجزیہ اُردو کے علمی اور اَدبی سرمائے میں اضافے کا باعث ہو اور علما اور اَدب کے طالب علموں کے لیے استفادے کا ذریعہ بھی۔

اِس کتاب کے مرتب رفاقت علی شاہد صاحب گرمانی مرکز کے فاضل محقق ہیں۔ انھوں نے اِس کتاب کو تیار کرنے میں بہت محنت اور عرق ریزی سے کام کیا ہے۔کتاب میں اصل متن سے متعلق حواشی، تشریحات الفاظ و ترا کیب و اصطلاحات، فرہنگ اور اختلافات نسخ بھی شامل ہیں۔

ہم بہت شکر گزار ہیں محمد سلیم الرحمن صاحب اور مظہر محمود شیرانی صاحب کے بھی جن کی رہنمائی نے اِس کتاب کی تدوین میں مدد فراہم کی۔


Comments

FB Login Required - comments