مان اپنے بچوں کو دودھ پلائے تو اس میں کیا برائی ہے؟


وہ انتہائی ضروری اور جائز کام جو کھلے عام سرانجام  دینا انتہائی نا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیوں؟ مشرقی ممالک میں عوامی جگہوں پر بچوں کو ماں کی چھاتی سے دودھ پلائے جانا نامناسب تصور کیا جاتا ہے۔ توقع کی جاتی ہیں کہ عورتیں اپنا جسم ڈھانپیں اور کسی بند کمرے میں نومولود بچے کو چھاتی سے دودھ پلائیں۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں سات اگست سے ’بریسٹ فیڈنگ ویک‘ منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ماں کی چھاتی کا دودھ بچے کی زندگی کا بہترین آغاز ہے اور ترقی پذیر ممالک میں تو یہ بہت زیادہ ضروری ہے کہ ماں بچے کو چھاتی سے دودھ پلائے۔ تاہم بھارت جیسے ملک میں آج بھی خواتین کا عوامی جگہوں پر بچوں کو دودھ پلانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ایک شادی شدہ جوڑا اب اس رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیہا اور انیمیش رستوگی نے اپنے نومولود بچے اویان کے نام سے دہلی ہائی کورٹ میں اس حوالے سے پٹیشن درج کرائی ہے۔ نیہا کا کہنا ہے کہ وہ جہاز پر بنگلور جا رہی تھی، اس سفر میں ان کے ساتھ مرد مسافر بیٹھے ہوئے تھے اور نیہا کا ان کے سامنے اپنے بچے کو دودھ پلانا بہت مشکل تھا۔ نہیا کہتی ہیں کہ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ جہازوں اور ہر عوامی جگہ پر دودھ پلانے والی ماو¿ں کے لیے الگ جگہ مختص کی جانی چاہیے جہاں وہ سکون سے اپنے بچے کو دودھ پلا سکیں۔ توقع ہے کہ اس کیس کے ذریعے شاید خواتین کے لیے آسانی پیدا ہوسکے۔ اس کیس کی پہلی سماعت 28 اگست کو ہوگی۔

دوسری جانب بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ ضروری یہ ہے کہ مردوں کا اس بارے میں رویہ اور سوچ تبدیل ہو۔ ان کی نظر میں عوامی جگہوں پر ماں کا چھاتی سے دودھ پلانا معیوب ہے اور وہ اسے جنسی نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی ریاست کیرالا میں جیلو جوسف نامی ایک اداکارہ نے ایک بچے کو اپنی چھاتی سے دودھ پلاتے ہوئے فوٹو شوٹ کروایا۔ اس فوٹو شوٹ کا مقصد بھارتی خواتین اور مردوں میں یہ آگاہی پھیلنا تھا کہ بچے کو چھاتی سے دودھ پلائے جانے میں کوئی شرمندگی نہیں ،خواتین کو ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لیکن اس فوٹو شوٹ کے بعد جیلو کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ایک شخص نے اس حوالے عدالت سے بھی رجوع کر لیا۔ عدالت نے اس شخص کی پٹیشن قبول نہیں کی۔ جیلو کا کہنا ہے،”ہمارے معاشرے میں مرد ہر چیز کو سیکس کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ انہیں میری تصویر سے اس لیے مسئلہ ہے کیوں کہ ان کے لیے عورت کا جسم تو صرف سیکس کے لیے ہے۔“

کچھ سماجی کارکنان کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشرے کی جانب سے اس پابندی کے باعث بچہ پیدا کرنے کے بعد بہت سی خواتین گھر سے باہر نہیں نکلتیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں