سب زمین پر خدا کے نائب ہیں


یہ واقعہ اتنا پرانا نہیں ہے، کہ فیس بک پہ ہماری ایک دوست ہوا کرتی تھیں۔ موصوفہ زبان کی تھوڑی تیز تھیں، جو منہ میں آتا کَہ جاتیں۔ جیسا کہ فیشن سا ہو گیا ہے کہ مذہبی معاملات کو لے کر کے نا زیبا انداز میں اعتراضات کیے جاتے ہیں؛ موصوفہ بھی یہی کرتی تھیں۔ دوستی کے ناتے سے ایک دو بار سمجھایا کہ آپ جس معاشرے میں رہتی ہیں، وہاں مذہب پہ مناسب الفاظ میں کی گئی تنقید بھی برداشت نہیں ہوتی، کجا نا زیبا زبان استعمال کی جائے۔ خاتون ہو اور اس کی ”پوسٹ“ پر تبصروں کی بھر مار نہ ہو، یہ کم کم دیکھنے میں آیا ہے۔ چسکے لینے والوں کی کمی نہ تھی، اور وہ بھی ایسوں کو مایوس نہ کرتی تھیں۔ ایک روز کسی بات کو لے کر کے مجھ پہ ایسا بھڑکیں کہ ”بلاک“ کر دیا۔

کوئی اور دن تھا، کہ انھوں نے ایسا ہی کچھ نا زیبا کہا، اور ’فیض یاب‘ ہونے والوں نے ان پر فتوا لگا دیا کہ مقدس ہستیوں کی توہین کی مرتکب ہوئی ہیں۔ کسی رازدان نے ان کی ”دیوار“ کا اسکرین شاٹ لے کے مجھے بھیجا، ”یہ دیکھو تمھاری دوست توہین کی مرتکب ہوئی ہے“۔ جو ثبوت مجھے بھیجا گیا تھا، میری نظر میں توہین محترمہ نے نہیں، ان کو بھڑکانے والوں نے کی تھی۔ یہی جواب دیا کہ بابا غلطی ان ’مجاہدین‘ کی ہے، اب اسے کیوں کوس رہے ہو؟ جنونیوں کو مشوروں سے کیا واسطہ! محترمہ کے خلاف منظم طریقے سے تحریک بپا کی گئی۔ اس کے جواب میں ”ملزم گروہ“ نے تحریک اٹھانے والوں پہ اس سے بھی بد تر الزام دھرے دیے، کِہ اُلٹا ’مجاہدین‘ کو لینے کے دینے پڑ گئے۔

یہ پاکستان ہے، اور یہاں کتنا آسان ہے، کہ آپ کسی پہ کوئی بھی الزام لگا دیں، اور خصوصا مذہب کی توہین کا الزام لگا دیں، اور اسے دفاع کا موقع تک نہ دیں، اسے ناکردہ جرم کی معافی مانگنے پہ مجبور کریں۔ مشال خان کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا، وہ ہم سب نے دیکھا۔ پھر ایسے گھناونے فعل کی حمایت کرنے والے بھی ہمی سے ہیں۔ یہاں الزام لگانے والے بھی وہی ہیں، تفتیش کار بھی وہی، قاضی بھی وہی، جلاد بھی وہی۔ آخر میں وہ دن بھی آنا ہوتا ہے کہ ملزم بننے کی باری انھی کی آتی ہے، جو آج عدالت لگائے بیٹھے ہیں۔

ایک بار اپنے ایک سینیئر سے سوال کر بیٹھا کہ مجھے ادبی تنظیموں کا پتا دیجیے، ان محفلوں میں بیٹھ کے کچھ سیکھوں گا۔ فورا جواب دیا، خبردار! ان سے دور رہو۔ ادبی تنظیموں میں وقت برباد کرنے سے بہ تر ہے، کام کرو۔ میرا گمان یہ تھا کہ ادب سے وابستہ لوگ زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں، بہ نسبت ہم جیسے مراسی کہلانے والوں سے۔ وقت کے ساتھ میرا یہ خیال خام ثابت ہوا۔ جس طرح کی مخاصمت پڑھے لکھے باشعور کہلائے جانے والے گروہ کے بیچ میں ہے، وہ غیر شایستہ سمجھے جانے والے مراسیوں کے درمیاں کہاں۔

حال ہی میں جدید شاعری کی پہچان اور ”عشرہ“ جیسی صنف کے خالق ادریس بابر پہ جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے گئے، اور وہ بھی سوشل میڈیا پہ۔ پہلے ایک نوجوان نے اور پھر دو تین اور نے کہا، کہ ادریس بابر نے انھیں فلاں‌ فلاں موقع پہ جنسی طور پہ ہراساں کیا۔ اب سوشل میڈیا ہی پہ عدالت لگ گئی، اور خود ساختہ قاضیوں نے ساتھی شاعر ادیبوں سے مطالبہ کرنا شروع کیا کہ ادریس بابر کا بائے کاٹ کا جائے۔ کسی نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، الزام کی کوئی حقیقت ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے؛ ثبوت ہیں تو یہ ’ان باکس‘ کے اسکرین شاٹس، ایف آئی اے کو دیں؛ جنھیں آپ دیواروں پہ لگائے پھرتے ہیں۔ بس جس نے ایسا معقول مشورہ دیا نہیں، اسے ادریس بابر کا حامی سمجھ لیا گیا۔ ایسے میں اپنے آپ کو ادیب شاعر کہلانے والوں نے وہ وہ ”لفظیات“ ایجاد کیں، کہ کوئی بھی شریف پڑھ کے شرما جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ادریس بابر کی شاعری کو لے کر کے ان پہ بلاسفیمی کا الزام لگایا گیا تھا اور ان کے گھر پہ حملہ بھی ہو چکا ہے۔ لیجیے اب کر کے دکھائیے کوئی اصول کی بات؛ کسی کی ہمت ہے تو پوچھے، آپ کیوں کر اس انتہا پہ آ گئے ہیں، پھر پوچھنے والے کی خیر نہیں۔

حالیہ الزامات کے بعد ادریس بابر کی فیس بک پروفائل، اور اس کے حمایت میں بولنے والوں کی پروفائل سے ان کی اور ان کے بچوں کی تصویریں لے کر کے ایسے ایسے گھٹیا کیپشن دیے گئے، کہ انھیں یہاں شایع ہی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کیسے ”مظلوم“ ہیں کہ جس پہ ہراسانی کا الزام لگاتے ہیں، اسے سر عام ہراساں کرتے پھرتے ہیں؛ ادریس بابر کے پاس دُہری شہریت ہے۔ وہ پاکستان کے علاوہ ناروے کے شہری بھی ہیں۔ ان کے ہم درد مشورہ دے رہے ہیں، کہ آپ ناروے چلے جائیں۔ ادریس بابر کا کہنا ہے، ”میں جانتا ہوں اس ملک میں کیا مسائل ہیں؛ میں مانتا ہوں یہاں بہت گند ہے، لیکن میں اس گندے ملک میں رہنا چاہتا ہوں تو مجھے یہاں سے جانے کا کیوں کہا جا رہا ہے“؟

نہ جاو بھائی؛ یہیں جی مر لو؛ لیکن یہ خبر ہو کہ ریاست تم جیسوں کو تحفظ دینے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔ ریاست کے اپنے مسائل تھوڑے ہیں، جو وہ شہری کے مسائل کے لیے وقت نکال پائے۔ پھر ریاست ان لوگوں کا پیچھا کرنے میں مصروف ہے، جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اُس نے میٹنگ بلائی اور کہا
لوگ دن رات کنٹرول میں ہیں
ٹیپ منہ پر لگائی اور کہا
سب بیانات کنٹرول میں ہیں
اُس نے گولی چلائی اور کہا
سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں
سب زمین پر خدا کے نائب تھے
سب زمین پر خدا کے نائب ہیں
وہ جو اپنی رضا سے مارے گئے
وہ جو اپنی خوشی سے غائب ہیں

ادریس بابر

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 247 posts and counting.See all posts by zeffer-imran