سائنسی تدریس اور سماج: مسئلے کے خدوخال


aasimاس  مفروضے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں  کہ  کسی بھی زیرِ نظر سماجی مسئلے کے خدوخال  اور اس  کے تفہیمی مباحث  مخصوص سماجی   تناظر میں ہی  بامعنی ٹھہرتے ہیں۔  آپ کسی بھی  سماجی مسئلے پر بحث کا آغاز کیجئے تو   لازم  آئے  گا کہ ایک مخصوص سماجی تناظر  میں رہتے ہوئے ہی کلام کا آغاز کریں۔ مثال کے طور پر  تعلیم و  تدریس سے متعلقہ مسائل پوری دنیا میں ہی بحث کا موضوع  ہیں  لیکن  امریکہ  ، ناروے اور پاکستان  کے لئے ایک ہی سماجی تناظر قائم کرنا ناممکن ہے۔  بالفرض اگر ایسا کوئی تناظر  قائم کرنے پر اصرار کیا بھی جائے تو  تینوں ممالک  کی سماجی صورت حال اس حد تک مختلف ہے کہ  ایک ہی جیسے مفروضے  نہ صرف  ایک لاینحل ابہام پیدا کریں گے بلکہ    یکساں مفروضوں پر اصرار کے باعث مسئلے کے خدوخال مرتب کرنا  ہی ناممکن ہو جائے گا۔ عمومی طور پر یہ دیکھا  گیا ہے کہ ہمارے  ہاں مخصوص سماجی تناظر میں رہتے ہوئے  کسی بھی مسئلے کی نشاندہی کرنے والوں کو نقادوں کی ایک ایسی یلغار کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زیرِ نظر مسئلے   کے خدوخال پر تو کچھ خاص سوال نہیں اٹھاتی لیکن اس کے اطراف میں گھومتے ہوئے نشاندہی کرنے والے  کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ہمارا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مسئلے کی نشاندہی کرنے والا کچھ مخصوص تعصبات نہیں رکھتا  لیکن    سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ تعصبات مسئلے کے خدوخال پر اس طرح اثرانداز ہو رہے ہیں کہ  ہمارے مخصوص سماجی تناظر میں  اسی مسئلےکی کوئی متبادل تفہیم ممکن ہو؟  دیکھا یہ گیا ہے کہ نقاد حضرات تنقید کی نظری جہت میں تو بہت دلچسپی رکھتے ہیں لیکن تنقید کی عملی جہت   سے کوئی سروکار نہ رکھنے کے باعث مسئلے کی کسی ایسی  متبادل سماجی تفہیم   کی جانب قدم نہیں بڑھاتے  جو ممکنہ حل کی  جانب راستے کھول سکے۔ اگر کوئی ایسی متبادل سماجی تفہیم پیش کی بھی جاتی ہے تو وہ اتنی مبہم ہوتی ہے کہ مزید تجزئیے کا عمل ناممکن ہوتا ہے۔

                کسی پچھلے مضمون میں  اشارتاً یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیاطبیعات اور مابعد الطبیعات کے درمیان موجود  ایک ناگزیرفاصلے کو تعلیمی نظام میں اس طرح زیرِ  بحث لا نا ممکن ہے  کہ جستجو  کے دائرے پر ہر قدغن مشترکہ طور  پر  غیرمعقول  مانی جائے؟ یہ سوال یقینا عالمگیر طور پر اہم ہے لیکن ہماری رائے میں  ایک مخصوص سماجی تناظر کو فرض کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس مخصوص سماجی تناظر پر  اتفاق پیدا ہو نے کے بعد ہی یہ دیکھا جائے گا کہ  اگر تدریسی نظا م میں سائنسی منہج علم  کو طبیعاتی جستجو  کا  نمائندہ  مظہر مانا جا سکتا ہے تو مابعدالطبیعات  کے لئے نمائندہ مظہر  کیا ہے؟ ادب و  شاعری، مذہبی علوم، سماجیات، معاشیات اور  فلسفہ تمام اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ مابعدالطبیعاتی مفروضے رکھتے ہیں  جو اگر  واضح ہوں تو پھر ہماری بحث کی ایک جہت تو  سائنس کی بنیادوں میں کچھ مابعدالطبیعاتی مفروضوں کو ظاہر کرنا ہے اور دوسری جہت  ان علوم کے دائرے اس طرح  وضع کرنا ہے کہ  ایک کے نتائج کی زد دوسرے پر نہ پڑے۔ چونکہ بظاہر یہ  اتنا  آسان نہیں اور تمام دنیا میں یہ بحث جاری ہے لہٰذا ہم اس  وقت کچھ مخصوص سماجی فوائد حاصل کرنے کے لئے یہی کر سکتے ہیں کہ  ان تمام علوم کو ان کے اپنے مناہج  کے اصولوں کی کسوٹی پر ہی پرکھا جائے اوراپنی مخصوص  ترجیحات و  تعصبات کے باوجود کسی بھی منہج کو دوسرے پر اس طرح فوقیت نہ دی جائے کہ  ایک تکلیف دہ  کشمکش کی سی صورت حال پیدا ہو اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ نظر نہ آئے۔   اس صورت میں  ہمیں کچھ بنیادی  سوالات اس طرح اٹھانے کی ضرورت ہے کہ تنقید  کی عملی جہت  اس کی نظری جہت پر قربان نہ ہو۔

                سائنسی تعلیم و تدریس اور اس  سے منسلک  مسائل پر  تنقید  کے ضمن میں پروفیسر ہود بھائی کا  اہم  ترین تصنیفی کام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ مذہبی حلقوں میں ان کی شہرت ایک مذہب بیزار شخص کی ہے  لیکن ہمارا مشاہدہ یہی کہتا ہے کہ مذہب کے بارے میں ان کے ذاتی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں،  مذہب ان کی تنقید کا ہدف  اسی وقت بنتا ہے جب   سماج  کے مذہب پسند عناصر  مابعدالطبیعات اور طبیعات میں موجود ایک ناگزیر فاصلے  کی  نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ان کےجواب میں ان کے نقاد ہمیشہ  سماجی تناظر میں ان کی تنقید کی عملی جہت  سے صرفِ نظر کرتے ہوئے    یا تو فوراً مسئلے کی بے وقعتی ثابت کرنے میں اپنی قوتیں صرف کر دیتے ہیں یا پھر ردعمل میں   مزید ابہام پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔  سات مئی کو ڈان اخبار میں  لکھے گئے ایک انگریزی  کالم  Is it Science of Theology? پر آنے والا  متنوع  مثبت و منفی ردعمل اس  تنقیدی ماحول کی ایک شاندار مثال ہے۔  جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا  ہودبھائی صاحب  کے مفروضے   رتی برابر ابہام بھی نہیں رکھتے ، اس لئے ان سے اتفاق یا اختلاف کرنا بہت آسان ہے۔ اس کالم میں بھی وہ تین اہم  دعوے کرتے نظر آتے ہیں : اول،  مذہب کا تعلق ایمانی مسائل سے ہے  اور مذہبی تناظر میں اہم ترین  مقام آخرت کو حاصل ہے جب کہ سائنس  کا تعلق اس دنیا اور اس کے مسائل سے ہے؛ دوم ،سرکاری اسکولوں  کی  نصابی کتابیں (جن میں سے فزکس اور بیالوجی  کے کچھ حوالے مذکورہ کالم میں دیکھے جا سکتے ہیں)  ایک چوں چوں کا مربہ ہیں جس میں  سائنس، مذہب    اور تاریخی  حوالوں کو ملا جلا کر ایک مبہم سا ملغوبہ طالبعلم کے آگے رکھ دیا گیا ہے اور سوم،  یہ ملغوبہ مجموعی طور پر سائنس کے علمی منہج ، سائنسی  طریقۂ کار اور سائنس کی تاریخ ِ فکر وغیرہ  سے لیس ایک خرد افروز  ذہن تیار کرنے کی بجائے  جستجو کے آزادانہ عمل کے آگے دیواریں کھڑی کرتا ہے۔

ہماری رائے میں ہودبھائی صاحب یہاں ہرگز فی نفسہِ  مذہب پر کوئی تنقید نہیں کر رہے  بلکہ ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ سائنس کی  تدریس کے عمل میں مذہب کو  بالکل علیحدہ رکھا جائے کیوں کہ(ہودبھائی صاحب کے مطابق) ان کے درمیان مقاصدی مناسبت پیدا کرنا ناممکن  ہے، لیکن جس عجیب و غریب تنقیدی ماحول کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے اس میں  یہ صورت حال عمومی  طور پر دیکھی گئی ہے کہ  متن سے آگے بڑھ کر  کچھ اندازے قائم کئے جائیں اور پھر  کچھ  خود ساختہ تعریفوں اور اپنے اپنے تعصبات پر مبنی مفروضوں کے لئے دلائل تراشے جائیں۔  ہم مزید بحث  سے پہلے  اس مضمون کے ردعمل میں  آنے والے تبصروں  میں سے  دونوں قسم کے پانچ پانچ تبصرے پیش کرتے ہیں  جو ہماری رائے میں سماج میں قطبین پر موجود   دو مختلف طبقہ ہائے فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

قطبِ  یسار

۱۔سائنس ہمیں تجزئیے  کے لئے دیومالائی کہانیوں کی بجائے حقائق  تک براہِ راست پہنچاتی ہے۔

۲۔ عمومی فلسفہ بھی الٰہیات سے بہت  برتر ہے کیوں کہ وہ عقلی  بنیادوں پر استوار ہونے کی وجہ سے  کبھی رائج سائنس کی مخالفت  نہیں کرتا۔

۳۔ مذہب  اٹل حقائق کے ماننے پر اصرار کرتا ہے جب کہ سائنس تجربات و مشاہدات  کے بعد  اپنی رائے تبدیل بھی کر لیتی ہے۔

۴۔  یہ  نصابی کتب  اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تذبذب کو ظاہر کرتی ہیں کیوں کہ  وہ مضامین جو  خدا اور  مذہب  کے بارے  میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں ریاست کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

۵۔ مذہب ذہن کو منجمد کر دیتا ہے، صرف سائنسی مزاج ہی  کسی بھی سماج کی ترقی کی ضمانت ہے۔

قطبِ یمین

                ۱۔ سائنسی معلومات نہایت ابتدائی درجے کی ہیں  اور ان  کی مقدار و  نوعیت کی بنیاد پر  کائنات کے بارے میں کوئی حتمی نظریہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

                ۲۔ سائنس ہمیں حقائق کا علم نہیں دیتی ۔

                ۳۔ ہود بھائی صاحب  جیسے سائنسدان  ا پنے تعصب کی بنیاد پر نہ تو سائنس کو جانتے ہیں اور نہ ہی مذہب کو۔

                ۴۔ سائنس کا علم ظنی ہے لیکن یہ سائنسی ملاؤں کو کون سمجھائے۔

                ۵۔ قطعی علم صرف وحی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

                ہم یہاں ہرگز یمین و یسار کے  ان دس  دعووں یا مغالطوں  کے رد و قبول میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ یہ بحث مؤخر کرتے ہوئے  کہ سائنس اور مذہب  کی تعریف کیا ہے اور  اس تعریف کی رو سے دونوں اپنے اپنے علمی منہج کے اندر رہتے ہوئے علم کی کسی مشترکہ تعریف پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہاں ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ پروفیسر ہود بھائی صاحب کو ہمارے سماج کے ایک نمائندہ سائنسی ذہن  کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کے زاویۂ نظر  تک رسائی ممکن بنائی جائے  جس کے بعد ہی ان  پر کسی بھی قسم کی تنقید بامعنی  اور سائنسی تدریس سے جڑے کسی بھی مباحثے کے لئے سود مند ہو سکتی ہے۔

                لہٰذا سائنسی فلسفے  کے  تناظر میں فی الحال اس  سوال سے قطع نظر کہ سائنس کیا ہے، ہمیں  یہ نسبتاً غیرفلسفیانہ سوال زیادہ دلچسپ محسوس ہوتا ہے کہ  ایک سائنسی ذہن کی ماہیت کیا ہے اور  کسی بھی   درجے میں سائنسی تحقیق  و تدریس سے منسلک ا فراد کے لئے کسی قسم کا سائنسی طرزِ فکر   ناگزیر ہے۔ یہ فرد پانچویں جماعت کا طالبعلم بھی ہو سکتا ہے اور  جامعہ میں   کسی سائنسی  مضمون کا پروفیسر بھی۔اس طرزِ فکر کی بنیادی   جہتیں متعدد ہیں لیکن  مسئلے کی پیچیدگی واضح کرنے کے لئے ہم   صرف ایک اہم ترین جہت کو مثال کے طور پر پیش کرنے پر اکتفا کریں گے۔ یہ جہت مفروضہ بندی   (hypothesis framing)سے تعلق رکھتی ہے اور  کسی بھی سطح کے سائنسی نصاب کی وضع کے پیچھے یہ ایک بنیادی مقصد تصور کیا جاتا ہے کہ طالبعلم  کو  بتدریج خالص سائنسی استدلال کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ   اس قسم کے معقول  مفروضے قائم کر سکے جو تجربہ گاہ میں  جانچ پڑتال کے قابل ہوں۔اگر فلسفیانہ تناظر میں دیکھا جائے تو یہ مفروضے  پیشِ نظر حقیقت کے کسی غیرمرئی ، غیرمادی  تصور کو  پیش قیاس کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے کیوں کہ اعتقاد پر  متبادل طریقوں سے اصرار حقیقت  کو پرکھنے کی جستجو کو ایک ایسی تسکین فراہم کر دیتا ہے جو سائنسی طرزِ فکر  کی موت ہے۔ یہاں  سائنسی طرزِ فکر  لازماً  علل و آثار کہ ایک ایسے سلسلے کو فرض کرتا ہے جو  اگرتصوراتی بھی  ہوتا ہے تو ریاضیاتی طور پر  اس طرح پرکھے جانے کے قابل ہوتا ہے کہ ایک نیم مادی قسم کا یقین حاصل ہو جائے۔ کسی بھی مضمون  کی طرح  سائنس کا ایک طالبعلم بھی اپنے استاد  کی’’  خبرِ صادق‘‘ پر ایک اعتماد رکھتا ہے لیکن اس اعتماد کا درجہ بنیادی طور پر     استاد کے   سائنسی استدلال کی پیش کی گئی صورت پر منحصر ہوتا ہے۔ سائنسی تدریس میں استاد کا بنیادی مقصد سائنسی استدلال کے ذریعے  طالبعلم کو اس طرح  یقین  کی منزلوں  پر لے کر چلنا ہے کہ  طالبعلم  کو بتائے گئے حقائق  اور معلومات پر نہیں بلکہ  سائنسی استدلال کی ماہیت اور اصولوں  پر اعتماد ہو جائے اور وہ اسے اپنے اندر اتار کر جستجو کے سفر میں مزید آگے بڑھ سکے۔ لہٰذا پوری دنیا کی  نصابی کتب وضع کرنے میں یہ مقصد پیشِ نظر رکھا جاتا ہے کہ مختلف طریقوں سے  طلباً کو سائنسی استدلال،سائنسی  تجزئیے، مسائل کی سائنسی وضع اور ان کے سائنسی حل  میں بتدریج مہارت  حاصل ہو۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ استدلال، تجزئیے، وضع اور حل  وغیرہ کا یہ تمام عمل خالصتاً سائنسی ہے اور اسے نیم سائنسی یا نیم اعتقادی طوپر پر پیش کرنا تدریس کو بے معنی اور بے مقصد بنانے کے مترادف ہے۔

                 مفروضہ بندی کا یہ عمل بھی اصولوں پر اعتماد کی حد تک   نیم اعتقادی  تو ضرور ہوتا ہے لیکن ہر گز اعتقادی طور پر  اٹل نہیں ہوتا۔ ہم اسے نیم اعتقادی اس لئے کہہ رہے ہیں کہ یہاں بنیادو ں میں یہی  اعتقاد موجود ہوتا ہے کہ  حقائق کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس اعتقاد کے بغیر تو کسی  قسم کی سائنسی عملیت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ سائنسی منہجِ علم  کبھی اپنے مفروضوں اور ان کی بنیادوں میں موجود اصولوں پر اس طرح اصرار نہیں کرتا کہ متبادل امکانات کی نفی کر  دی جائے اور  پیشِ نظر مسئلے کو حتمی طور پر حل تصور کر لیا جائے۔  ایسے دعوے ممکن ہیں لیکن  عموماً ان غیرمعمولی دعووں کے لئے اتنے ہی غیرمعمولی شواہد بھی درکار ہوتے  ہیں۔ ریاضی کی ایک مستقل شاخ ان مسائل  سے تعلق رکھتی ہے  جن کے بارے میں یقین  سے یہ دعوی کیا  جا چکا ہو کہ وہ لاینحل ہیں، لیکن پھر بھی جستجو کا عمل جاری رہتا ہے اور ریاضی دان  حل کی تلاش میں رہتے ہیں۔   یوں مسلسل جستجو ،  نظری طور پر  غیر محدود امکانات، معقول مفروضوں کی وضع اور جانچ پڑتال باہم منسلک ہو کر ایک   مربوط سائنسی طریقۂ کار کو ممکن بناتے ہیں۔مثال کے  طور پر  ہمارا روزمرہ  کا مشاہدہ ہے کہ انسان  کی موت کے ساتھ  ہی اس کے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے۔ یہاں ایک طرف تو  علل و آثار  کے سلسلے میں کچھ لازمی مفروضے قائم کئے جاتے ہیں جو استقرائی ہوتے ہیں  یعنی   اس مفروضے کا انحصار  صرف انسانوں کے اس وسیع مشاہدے پر ہے کہ آج تک کوئی ایسا انسان نظر نہیں آ سکا  جس کا دل  ساکت ہو اور پھر بھی وہ زندہ ہو۔ غیرسائنسی طرزِ فکر   اپنے ارد گرد موجود کئی حقائق کی طرح دل کو   بھی ایک حقیقت مان کر  مزید جستجو میں دلچسپی نہیں رکھتا۔   اس کے برعکس سائنسی طرزِ فکر  انسانی ذہن کو اس جستجو پر ابھارتا ہے کہ دل کو مزید غور سے دیکھا جائے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ تفہیم کی یہ کوشش بنیادی طور پر نظامِ علل کی دریافت سے عبارت  ہے اور فلسفۂ سائنس سے ماہیتِ علل  کے نظریات مستعار لیتی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ  بہت کم سائنسدان( عملی)  سائنس کی بنیادوں میں موجود  فلسفیانہ نظریات اور بحثوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔  نظریہ علل کے متعلق یہ سوال کہ کیا  دل کی دھڑکن رکنے سے موت واقع ہوتی ہے یا موت  بذاتِ خود  جسمانی اعضاء کے ساکت ہو جانے کی علت ہے زیادہ تر  عملی سائنسدانوں کے لئے ایک دلچسپ سوال نہیں  کیوں کہ ان کا اثباتیت پسند  مزاج اس  سوال میں موجود ابہام سے اباہ کرے گا اور  انہیں جستجو کے ایسے میدان کی طرف  جانے سے روکے گا جہاں کچھ غیر مادی اعتقادی  نظریات  کو عمومی منظرنامے میں جگہ دینا لازم  ہو۔ ظاہر ہے کہ یہاں یہ اعتقادی نظریہ موت کی کوئی ( غیرسائنسی)بامعنی تعریف ہے۔

                 ہم سائنس کی اقداری جہت سے  جان بوجھ کر صرفِ نظر کر رہے  ہیں  کہ  سائنسی ذہن اپنی جستجو کی تسکین کے لئے کسی مسئلے کا انتخاب کیوں کر کرے، مثلاً کیا دل  کی فعلیت کو مزید سمجھنے سے دل  کی بیماریوں کے علاج کی جانب نئی راہیں متوقع ہیں؟ کیا  مصنوعی دل کی تخلیق ممکن ہے؟ ایک انسان کے دل کی دوسرے انسان کے جسم میں پیوندکاری ممکن ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔  مقاصد کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن مختلف ادوار  اور مختلف علاقوں میں سائنسی اذہان کی جستجو انسانیت کے مشترکہ علم میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس سادہ سی مثال سے صرف یہ  ظاہر کرنا مقصود ہے کہ کسی بھی قسم کے اعتقاد  کے ذریعے یقیناً اس  جستجو کی تسکین ممکن ہے  لیکن اگر سماج میں بڑے پیمانے پر  اس طرح جستجو کی تسکین کو ممکن بنایا جائے تو اس سماج میں سائنس خود بخود  دم توڑ دے گی۔ سائنس کے دم توڑنے کا مطلب یہی ہے کہ  سماج میں سائنسی منہج علم  کسی بھی دوسرے  اعتقادی منہجِ علم  کے بالمقابل  اپنے حتمی درجے میں ایک غیر ضروری  یا غیر اہم انسانی کاوش سمجھا جانے لگے گا۔ ہمار ے تیزی سے بدلتے ہوئے  سماج میں  اعتقادی ذہن اور سائنسی ذہن  کی کشمکش  کا بنیادی میدان یہی ہے ۔ اس کی بنیادوں میں یورپ کی تنویری تحریک کی وہی اولین  طلسم ربائی (disenchantment)  شامل ہے  جو ’نامعلوم‘ کے گرد ایک سحر کا دائرہ  توڑنے پر اصرار کرتی ہے اور   ’معلوم‘ کے امکانی دائرے کو وسیع کرتی ہے۔  ہماری رائے  میں ایک بار طلسم ربائی کا یہ عمل ہو جانے کے بعد سائنسی طرزِ فکر سے مذہبی یا نیم مذہبی اعتقادی طرزِ فکر کا مطالبہ کرنا  کسی بھی سماج میں اگر منفی نہیں تو کم از کم  ایک غیردلچسپ امر ضرور ہے۔ اگر سما ج میں سائنسی تدریس  کا مقصد  سائنسی طرزِ فکر کے حامل افراد پیدا کرنا ہے تو پھر  اس طلسم ربائی پر سمجھوتہ لازمی ہے   جو  مسلسل جستجو  کے لئے ناگزیر ہے۔ ہودبھائی صاحب کے  وہ سنجیدہ نقاد جو   کسی اعتقادی منہجِ فکر پر مستحکم  کھڑے ہیں یا(راقم کی طرح)   اعتقادی منہجِ فکر اور سائنسی منہجِ فکر کے درمیان  رابطوں کو اس طرح ممکن سمجھتے ہیں کہ ان کی کشمکش کا  بنیادی میدان سماج کی بجائے  انفرادی انسانی ذہن اور نفسیات ہو، انہیں پہلے خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا  ایک سائنسی طرزِ فکر سے اس  طرح   تعقلی اور غیرجذباتی مناسبت پیدا کرنے کے قابل ہیں کہ بات آگے بڑھ سکے؟


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi