لفظوں کی جلیبیاں اور قحطِ فکری


shadab murtazaمکرمی وجاہت مسعود صاحب کے مارکسزم سے انحرافی نکات کے جواب میں خاکسار کے کالم پر کچھ ناقدین نے طبع آزمائی کرتے ہوئے چند مزید انحرافی نکات اٹھا دیے. جی میں آئی کہ ایک فقرے کے فتوے نما دعوی جات کے جواب میں پورا کالم لکھنے کی بے سروپا مشقت کیوں کی جائے. بہتر ہوگا کہ جواب دہی کے ساتھ ساتھ اعتراض اٹھانے کا حق بھی استعمال کیا جائے.

دراصل اس اعتراف میں راقم کوئی جھجک نہیں سمجھتا کہ اسے کافی تگ و دو کے باوجود لفظوں سے جلیبیاں تشکیل دینا نہ آیا.  سادہ لفظوں میں سیدھے سادے انداز سے اپنی بات کہہ دینے سے خاکسار کے نزدیک ابلاغ زیادہ موثر اور وسیع تر ہوجاتا ہے. لیکن اس کلیے سے کسی اور کا متفق ہونا اس کا لازمی عنصر نہیں. مارکسزم اور اشتراکی ریاست کی زیل میں ایک نکتہِ اعتراض یہ ہے کہ سوویت یونین خلاء میں تو پہنچ گیا لیکن لوگ قحط سالی سے مرتے رہے. سو ایسی ترقی کس کام کی! یاد پڑتا ہے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے جب انڈیا نے اپنی سیٹیلائٹ کا تجربہ کیا تھا تو بعض لوگوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ جہاں کڑوڑوں لوگ بھوکے ہوں وہاں یہ ترقی منصفانہ نہیں. یہ اعتراض بالکل بجا ہے. لیکن خاکسار جواب دہی سے قبل ایک نکتہ اپنی جانب سے بھی بیان کرتا چلے کہ اشتراکی ریاست میں قحط کو مارکسزم کے سر منڈھنے اور غیر اشتراکی ریاست کے قحط کو “قدرتی آفت” قرار دینے کی سائنس کافی کوشش کے باوجود اس کے لیے ناقابلِ فہم ہی رہی. اس قحط سالی کے دو پہلو ہیں. اول یہ کہ اگر سوویت یونین میں کوئی “قحط”  آیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور دوئم یہ کہ غیر اشتراکی, سرمایہ دار ریاستوں کے قحط کے اسباب کیا ہوتے ہیں.

اول الزکر پہلو پر لب کشائی سے خاکسار اس وقت تک معذرت کرتا ہے جب تک کہ ایسے کسی قحط کا ٹھوس تاریخی حوالہ مدلل انداز سے کسی ناقدِ اشتراکیت کی جانب سے سامنے نہیں لایا جاتا گو کہ خاکسار واقف ہے کہ یہ حوالہ سوویت یونین میں یوکرین کے قحط کی نشاندہی پر ہی مبنی ہوگا. اگر ایسا ہوا تو بہت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگی جس کی دلچسپی کو فی الحال صیغہِ راز رکھا جاتا ہے.

 دوسرے پہلو پر خاکسار لفظی جیلیبیاں تیار کرنے کی شدید خواہش کے تحت کچھ “خوشہ چینی” کرنا چاہتا ہے گو اسے اس میں ناکامی کا پیشگی یقین ہے.

عرض یہ ہے کہ موخرالزکر قحط سالی کے دو اسباب ہیں. اول قدرتی اسباب اور دوئم سرمایہ دارانہ پالیسیاں. قحط کے قدرتی اسباب سے سب واقف ہیں سو خاکسار قدرتی اسباب کے نتیجے میں آنے والے قحط کو زبردستی مخاصمت میں کسی نظریے یا نظام کے سر ڈالنے کی بیہودہ کوشش کرنے کا فضول ارادہ نہیں رکھتا اور قارئین کی توجہ اس قحط سالی کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہے جس کا تعلق براہ راست سرمایہ دارانہ معاشی پالیسی, یعنی کھلی منڈی کی آزاد تجارت سے تھا. اس کے لیے تاریخ سے تین مثالیں پیشِ خدمت ہیں.

اول, انیس سو تینتالیس کا قحطِ بنگال جب کہ تاجِ برطانیہ انڈیا پر حکمران تھا. دوسری عالمی جنگ کا دور تھا. بنگال کے کسانوں سے فصلوں کو ضبط کر لیا گیا. وزیرِ اعظم چرچل کا منصوبہ یہ تھا کہ غلے کو یا تو فوج کی غزائی ضرورت پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جائے یا جنگ کی وجہ سے غزائی بحران سے فائدہ اٹھا کر مہنگے داموں کھلی منڈی میں فروخت کر کے دولت کمائی جائے. اس پر تحقیق کرنے والی انڈین ڈاکٹر اور محقق مدہرسری مکھرجی کہتی ہیں کہ قحط کے دوران امداد بھیجنے کا سوال باربار اٹھایا گیا  لیکن چرچل اور اس کے ہمنواؤں نے ہر منصوبے کو رد کردیا. ملکہ برطانیہ کی رسمِ تاج پوشی پر چرچل نے اندرا گاندھی سے اتنا ضرور کہا کہ “میں کبھی تم لوگوں سے نفرت کیا کرتا تھا”!  ہائے اس ذودپشیماں کا پشیماں ہونا!

دوسری مثال آئر لینڈ میں اٹھارہ سو چالیس کی دہائی میں واقع ہونے والے قحط کی ہے جس میں آلو کی فصل تباہی کا شکار رہی. آئر لینڈ سات سو سال سے بر طانیہ کا مقبوضہ علاقہ رہا ہے. آلو کے سوا آئرش کسان غلاموں کی تمام فصلوں کو برطانوی کمپنیاں آزاد تجارت کی پالیسی کے تحت برآمد کردیا کرتی تھیں. آلو کی فصل جراثیمی حملے کا شکار ہو کر تباہ ہوئی تو ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا. نتیجے میں بارہ لاکھ آئرش کسان غلام ہلاک ہوگئے. دس لاکھ بھوکے پیاسے جان بچانے کے لیے اردگرد کے علاقوں کو لپکے جن میں سے پانچ لاکھ بھوکے پیٹ سفری صعوبتوں اور بیماریوں میں جان سے گئے.

تیسری مثال امریکی ریاست کیلیفورنیا میں تیرہ سال سے جاری خشک سالی کی ہے جس میں پانی کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کا بھی بہت عمل دخل ہے. نیسلے واٹر کمپنی  کڑوڑوں گیلن پانی کیلیفورنیا کے زیر زمین آبی زخیرے سے حاصل کر رہی ہے اور اس پانی کو مہنگے داموں فروخت کر کے خوب منافع کما رہی ہے. کیلیفورنیا کے شہری واٹر کمپنیوں کی منافع خوری سے تیز تر ہوتی خشک سالی پر سراپا احتجاج ہیں لیکن نیسلے کی مینجمنٹ کا اصرار ہے کہ وہ نہ صرف پانی نکالنا جاری رکھیں گے بلکہ اس میں اضافہ بھی کریں گے. تاہم, آزاد منڈی کی معیشت پر مبنی ریاستی پالیسی میں ان کے مطالبات کی نہیں بلکہ کمپنیوں کے منافع کی شنوائی ہے.

برسبیلِ تذکرہ امریکہ میں ہی ایک بڑے قحط کا ذکر کرتا چلوں جو انیس سو چالیس کی دہائی میں شدید اقتصادی بحران سے جڑا ہوا ہے. بینکوں نے پانچ لاکھ کسانوں سے زمینیں ہتھیا لیں. اقتصادی بحران کے سبب حکومت نے امداد فراہم نہیں کی. غذا کا شدید بحران پیدا ہو گیا جس سے تینتیس شہر سخت متاثر ہوئے. ایک تحقیقی اندازے کے مطابق اس قحط کے نتیجے میں لگ بھگ ستر لاکھ افراد بھوک اور بیماریوں سے ہلاک ہوئے. قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب نہ بک سکنے والی غذائی اجناس کو تلف کردیا گیا. اندازا  چوالیس ملین ایکڑ کی فصلوں کو تلف کردیا گیا.

اخبار دی گارجین میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہر سال دو بلین ٹن غذائی اجناس کو ضائع کردیا جاتا ہے جو کہ غذا کی سالانہ پیداوار کا نصف حصہ ہے! جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق دنیا میں ہر سال بھوک اور غذائی قلت سے اکتیس لاکھ بچے ہلاک ہورہے ہیں. سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس معاشی نظام میں ایک طرف آدھی خوراک بک نہ پانے کی وجہ سے ضائع کی جا رہی ہو اور دوسری طرف لاکھوں افراد بھوک سے مر رہے ہوں اس معاشی نظام کے وجود کا اخلاقی, عقلی اور قانونی جواز کیا ہے؟ جس معیشت کا مقصد چند سرمایہ داروں کی منافع خوری اور دولت میں اضافہ ہو اس معیشت میں بھوک, غذائی بحران اور قحط کو روک پانا کیسے ممکن ہے؟ مارکسزم کے خلاف اس معیشت کا دفاع کر کے؟ اس انسان دشمن معاشی نظام کے خلاف مارکسزم اور اشتراکیت کے سوا کونسا جامع اور سائنسی متبادل ہے جو آج تک فکری و عملی سطح پر انسان کے سامنے آیا ہے, ہر چند کہ نئے پن, نئے راستے, نئی اصلاحات اور نئی تبدیلی کی خواہشات روز دوہرائی جاتی ہیں؟  اگر کوئی اور متبادل ہے تو آخر اسے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟ اب تک تو اشتراکی معیشت ہی وہ متبادل ہے جہاں پیداوار کا مقصد انسانوں کی ضروریات پوری کرنا ہوتا ہے چند افراد کی دولت میں اضافہ کرنا نہیں اور جہاں پیداوار پر ان لوگوں کا ہی کنٹرول اور ملکیت ہوتی ہے جو پیداوار کرتے ہیں.

اعتراض پر مبنی دو نکات اور بھی ہیں. ایک یہ کہ اشتراکی نظام طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا اور دوسرا نکتہ یہ کہ سوویت یونین پر مسلط حکمران “ٹولے” میں کتنے افراد مزدور طبقے سے تھے؟ ان اعتراضات کا جواب بھی اس وقت تک موخر کیا جاتا ہے جب تک کہ یہ اعتراض ٹھوس اور مدلل انداز سے سامنے نہیں لائے جاتے. وجہ پھر دوہرائے دیتے ہیں کہ ایک فقرے کے فتوی نما دعوے کے جواب میں پورا کالم لکھنے کی بے سروپا مشقت کیوں اٹھائی جائے؟

چلتے چلتے ایک چھوٹی کہانی سناتے چلیں. ایک بادشاہ نے منادی کرائی کہ جو اسے ناختم ہونے والی کہانی سنائے گا اسے زروجواہر میں تول دیا جائے گا. کئی آئے گئے لیکن کوئی کامیاب نہ ہوا. پھر ایک چالاک قصہ گو وارد ہوا اور چھا گیا. کہانی شروع کی کہ “میرے دادا کے پاس ایک پنجرے میں پچاس چڑیائیں تھیں”. بادشاہ نے کہا پھر؟ کہا “پنجرے میں ہاتھ ڈالتے چار چڑیوں کو نکال کر ہوا میں اڑا دیتے.” بادشاہ نے کہا, پھر؟ کہا “پھر دو چڑیوں کو پکڑکر واپس پنجرے میں ڈالتے اور تین چڑیوں کو نکال کر اڑدیتے اور پھر چار چڑیوں کو پکڑ کر واپس پنجرے میں ڈال کر پھر تین چڑیوں کو نکال کر اڑا دیتے…” اور اس طرح چڑیوں کو اڑانے اور پکڑنے کی یہ نہ ختم ہونے والی کہانی چلتی رہی. بادشاہ نے خوش ہو کر قصہ گو کو زروجواہر میں تول دیا!

 


Comments

FB Login Required - comments