نرگسیت آپ کی دشمن ہے، جناب!


mubashirمعاشرے بہت دلچسپ “اکائیاں” ہوتے ہیں۔ ان اکائیوں میں ہزاروں، لاکھوں رنگ ہوتے ہیں، اور مختلف حوالہ جات میں یہ رنگ کبھی یکجا محسوس ہوتے ہیں، کبھی الگ، اور کبھی کبھی مخالف، شدید مخالف! مثال، شاید موضوع کے پروٹوکول کے مطابق نہیں، مگر متنجن کو جاننے والے لوگ سمجھ جائیں گے کے مختلف رنگ بھلے دیکھنے میں الگ الگ محسوس ہورہے ہوں، مگر اپنی مٹھاس اور  ذائقہ کے حوالے سے وہ سب ایک ہی ہو جاتے ہیں۔ معاشروں میں بھی بھلے لال، ہرا، پیلا، گلابی وغیرہ الگ الگ نظر آتا ہو، مگر جب آپ معاشروں کو انکی Utility-based Branding  کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو وہ اک ہی اکائی محسوس ہوتے ہیں۔

مثال لیتے ہیں، صومالیہ کی، افغانستان کی، یمن ،شام، عراق، لیبیا کی۔ اپنی آنکھیں بند کیجیے اور ان ممالک کے بارے میں سوچیے۔ آبجیکٹو تھنکنگ کریں گے تو جانیں گے کہ ان معاشروں میں تمام افراد ہی جنگجو اور متشدد نہیں۔ چند ہیں، اکثریت آپ کی اور میری طرح کی پُر امن اور عام زندگی گزارنے کی خواہشمند ہی ہوگی، مگر ان معاشروں کا اک منطقی امپریشن ذہن میں کیا آتا ہے؟ جواب مجھے بھی معلوم ہے۔ اسی طرح، آپ ناروے، سویڈن، ڈنمارک، برطانیہ، امریکہ وغیرہ کی مثال لیں تو انکے معاشروں کا امپریشن، پہلے گروپ میں دئیے گئے ممالک سے الگ ہوگا۔ سوچئیے کہ ایسا کیوں ہے؟

اور اگر یہی مثال، پاکستان پر لاگو کی جائے تو آپ اور میں جتنا مرضی ہے کہتے رہیں کہ اکثریت پرامن لوگوں کی ہے، جو اپنی اپنی زندگی کی دوڑ میں کسی بھی دوسرے معاشرے میں موجود لوگوں کی طرح مصروف ہیں، مگر معاشرے کا اک Overall  امپریشن کیا ہے؟ اس سوال کا حقیقی جواب آپ کو معلوم ہے۔

صاحبو، معاشروں کے امپریشنز، ان اکائیوں میں موجود بہت ساری معاشرتی، سیاسی، مذہبی، معاشی، سماجی اور عمرانی (عمران خان والی نہیں) جزئیات سے بنتے ہیں۔ ان اکائیوں کا جو مزاج ہوگا، وہی اس معاشرے کا مزاج اور امپریشن بن جائے گا۔ میرا خیال ہے، غلط بھی ہو سکتا ہے، مگر سوچتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کی جزئیات کے مزاج جلدی کی جذباتیت، مذہبی تاریخ اور مسلمانوں کی شانداریت کے جھوٹ، قومی شناخت کے مسلسل بحران، سیاسی بےچینی، عمومی قومی معاشی ناکامی اور معاشرتی سٹیبیلیٹی کے فقدان نے،  تیزابی اور ردعمل پر استوار کر دئیے ہیں، اور اسی تیزابیت والے ردعمل میں نرگسیت، خودترحمی، سازشی نظریات کی  مسلس کیفیات ہے کہ جو چا ہی نہیں چُک رہیں۔

جن جزئیات کی بات کی جا رہی ہے، یہ انسانی تاریخ کے پہلے پہلے چیلنجز نہیں۔ درجنوں قومیں ان میں سے گزر چکی ہیں، ہم گزر رہے ہیں، مگر ایسے معاملات میں سے گزرتے ہوئے، سب سے اہم یہ ہوتا ہے کہ درست سمت میں ہی “گزرا ” جا رہا ہو، اور گزرتے ہوئے، آگے کی جانب بڑھا جا رہا ہو۔ بقول سر ونسٹن چرچل کے کہ: اگر تم جہنم میں سے بھی جا رہے ہوتو، چلتے ہی جاؤ۔ کیونکہ چلتے ہی رہنے سے یہ جہنم ختم ہو گا۔

مگر نجانے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا جہنم گویا اک دائرے کی صورت میں ہے، اور اپنی آخری حقیقت میں یہ سفر، دائرے کا ہی ہے۔  میں ایسے درجنوں لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی ذات اور معاشرت کے دائرے توڑ ڈالے، اور ذہنی آزادی کا مقام حاصل کیا۔ تنقید کا شعور حاصل کیا اور اس شعور کی بنیاد پر زندگی کے اصل حقائق پر آگے بڑھتے گئے اور مختلف اقسام کی نرگسیست سے چھٹکارا حاصل کیا۔ اپنی زندگی کے اور معکوس دائروں کو توڑ کر آگے بڑھنے والوں کے ساتھ، میں نے یہ بھی دیکھا کہ، خود انکے خاندانوں اور معاشرے نے کچھ زیادہ بہتر سلوک کا مظاہرہ نہ کیا، اور انکی  شانداریت، عام طور پر انکی ذات اور انکی ذات کے آس پاس کے چند اک لوگوں تک ہی محدود ہو گئی۔ معاشروں کے Overall  امپریشنز صرف اسی وقت ہی تبدیل ہوتے ہیں، جب یہ آزاد جزو، اک دوسرے کے ساتھ جڑنا شروع کرتے ہیں، اور آہستہ آہستہ اک بڑی اکائی کی تشکیل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔

اس مضمون کا مدعا اور مقصد، دوستو، صرف یہ ہے کہ سیاست، معاشرت، مذہبیت اور سماجیات کے جن  Ingredients کےساتھ پاکستانی معاشرہ بالخصوص، اور مسلم معاشرے بالعموم، پچھلی کئی دہائیوں سے زندہ ہیں (ویسے کیا زندہ بھی ہیں؟)، اگر تہذیبی ترقی کو ممکن نہیں بنا پا رہے ،تو ان Ingredients  کی تبدیلی کیا گناہ ٹھہرے گی؟ نرگسیت اور موجودہ زمانے میں معلوم پڑنے والی ماضی کی اک ہوائی شانداریت، صیغہءحال میں تو کچھ بھی کرنے سے قاصرہے۔ میں اپنی 45  سالہ زندگی میں تو یہی سیکھ اور دیکھ پایا ہوں۔ ابھی اپنی عمر سے چھوٹوں کو پیغام دئیے جاتا ہوں کہ اگر خودترحمی اور نرگسیت نے پاکستان کے پچھلے تقریبا 70 سالوں میں کچھ حاصل نہیں کیا،تو اگلے 70 میں بھی کچھ حاصل نہ کرپائیں گے۔

جس نرگسیت میں ہمارے معاشرے کی اکثریت زندہ ہے، وہ ہماری دشمن ہے۔ اور دشمن کبھی نہیں چاہے گی کہ آپ، میں، اور یہ معاشرہ ترقی کرے۔ کیا آپ نے اس دشمن کے ہاتھوں اسی کی چالوں میں کھیلنا ہے، یا آزاد فکری سے کوئی اپنی چال بھی کبھی چلنا ہے؟

میں مانتا ہوں کہ آپکے آباء سپرمین تھے، آپ کیا ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments