تبدیلی کی حرکیات


فرض کیجیے آپ کے پاس دو ایک جیسے برتنوں میں مختلف درجۂ حرارت پر گرم کی گئی پانی کی ایک جتنی مقدار موجود ہے۔ پہلے برتن میں موجود پانی کا درجۂ حرارت نوے جب کہ دوسرے برتن میں تیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ آپ دونوں برتنوں کو ایک ساتھ سرد خانے میں رکھ دیتے ہیں۔ کون سے برتن میں موجود پانی پہلے برف میں تبدیل ہو گا؟ صرف قیاس کی بنیاد پر جواب دیا جائے تو یقیناً دوسرے برتن میں موجود پانی پہلے جمے گا۔ لیکن تجربے کے صورت میں ہمیں یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ گرم پانی زیادہ تیزی سے برف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

ارسطو کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت زمانۂ قدیم ہی سے لوگوں کو معلوم تھی۔ بعد میں راجر بیکن اور دیکارت نے بھی اس کا ذکر کیا۔ لیکن زمانۂ جدید میں یہ حقیقت اس وقت مشہور و معروف ہوئی جب تنزانیہ کے ایک ہائی اسکول میں تیرہ سالہ بچے ایراسٹوس ممبا نے اپنے دوستوں کے ساتھ آئس کریم بناتے ہوئے اس کا مشاہدہ کیا۔ ممبا ابلتے دودھ میں چینی ملا چکا تھا اور اب اسے اس محلول کے سرد ہونے کا انتظار کرنا تھا تاکہ اسے سرد خانے میں رکھا جا سکے۔ چونکہ خانے میں میں جگہ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر دستیاب تھی، لہٰذا دوسرے بچوں سے بازی لینے کی خاطر ممبا نے اپنا محلول شدید گرم حالت ہی میں اندر رکھ دیا۔

وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ اس کی آئس کریم سرد خانے میں رکھے دوسرے برتنوں کی نسبت پہلے تیار ہو گئی۔ اس نے اپنے فزکس کے استاد سے اس کی وجہ جاننی چاہی تو استاد نے یہی کہا کہ اسے کوئی غلطی لگی ہے اور اس قسم کا مشاہدہ ناممکن ہے۔ اسی سال کچھ عرصے بعد اس کی ملاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی جو کسی اور قصبے میں آئس کریم بناتا رہا تھا۔ استفسار پر دوست نے اس کے مشاہدے کی تصدیق کی۔ مزید معلومات سے پتہ چلا کہ شہر کے تمام آئس کریم والے تیز تر انجماد کی خاطر گرما گرم محلول ہی سردخانوں میں رکھتے ہیں۔

اس کے بعد کی کہانی طویل، دلچسپ اورکسی نہ کسی صورت میں آج بھی جاری ہے۔ اپنے اساتذہ کے ساتھ ممبا کا بحث مباحثہ جاری رہا اور اسکول میں ”ممبا کی سائنس“ اور ”اصل سائنس“ کے نام سے ایک تفریحی زمرہ بندی کے چرچے رہنے لگے۔ ایک دو سال بعد ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر آس بورن اسکول میں آئے تو ان سے بھی اس مشاہدے کا ذکر کیا گیا۔ وہ توجیہ تو بیان نہ کر سکے لیکن بعد میں اپنی تجربہ گاہ میں کچھ تجربوں کے بعد اس مشاہدے پر مہر ثبت کر دی۔ تجربات جاری رہے اور پانچ سال بعد 1969ء میں ڈاکٹر آس بورن اور ممبا نے ”ممبا ایفیکٹ“ پر ایک چھوٹا سا مشترکہ مقالہ بعنوان ”یخ“ تحریر کیا۔

یہ سوال کہ کیا ٹھنڈے کی بہ نسبت گرم پانی زیادہ تیزی سے جمتا ہے آج بھی بحث و تحقیق کا موضوع ہے۔ دونوں طرف سے دلائل کی آمدورفت جاری ہے۔ مختلف متغیرات پر مبنی کئی طبیعیاتی ماڈل وضع کیے جا چکے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں تشنگی اب بھی باقی ہے۔ آپ تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں لیکن اگر مجھ سے پوچھیں تو اس سوال کا جواب فوراً نہیں دینا چاہیے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ مجھے نہیں معلوم۔ دونوں صورتیں ہی ممکن ہیں۔ ہمیں اس سوا ل کو یوں اٹھانا چاہیے کہ اگر کچھ مشاہدات بظاہر ناممکن ہوں لیکن بالفرض ظہور میں آ جائیں تو کیا ان کی تمام علتیں تلاش کرنا ممکن ہوتا ہے؟ اگر پانی کی برف میں تبدیلی جیسا عمومی بلکہ عالمگیر مشاہدہ بھی اپنی پراسرار علتی تہوں کو باآسانی ظاہر کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تو مجرد تبدیلی کی حرکیات پر کس حد تک یقین سے خاکہ بندی کی جا سکتی ہے؟ یوں کہہ لیجیے کہ تبدیلی کس حد تک پراسرار ہے؟

سماجیات کا تناظر بھی طبیعیات سے کچھ خاص مختلف نہیں۔ راقم کی رائے میں انقلابی تبدیلی کے رومانوی نعروں پر تمام تر تنقید کے باوجود تبدیلی کے لیے عوامی امنگوں کو محض سادہ لوحی قرار دینا خودایک سہل فکری ہے۔ سماجی منظرنامےپر ایک سرسری نظر بھی یہ دکھانے کے لیے کافی ہے کہ ہمارے ہاں تنقید کے زیادہ تر مظاہر محض ردِّ عمل سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ تنقید یا تجزیہ نہیں بلکہ ایک رائے کے بالمقابل دوسری متبادل رائے کے حق میں استدلال ہے۔ ردِّ عمل کی یہ فضا عموماً جذباتی پیشین گوئیوں، ذاتی ترجیحات کے مدلل بیانیوں اور فریقِ مقابل کے تضادات ظاہر کرنے کا ایک ایسا اکتا دینے والا ملغوبہ ہے جس میں تفہیم اور مکالمے کی نئی راہیں مفقود ہیں۔ گمان ہے کہ تبدیلی کی بحث محض استعارے کے اسلوب سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔

کل ایک دوست کا یہ تبصرہ پڑھنے کو ملا کہ اب تو تبدیلی لانی ہی ہو گی، دو چار دنوں میں نہیں تو دو چار سالوں میں لیکن تبدیلی کا یہ وعدہ پورا کرنا ہی ہو گا۔ ان سے عرض کی کہ یہ تو ایک مستقل پروسث ہےاور اگر مختلف جماعتوں کے تیس چالیس فی صد نئے چہرے بھی پارلیمان میں پہنچے ہیں تو بھلا اور تبدیلی کیا ہو گی؟ کیا تبدیلی ایک مسلسل سفر کا نام ہے یا کوئی منزل؟ سیاسی سرحد کے دوسری جانب کھڑے تجزیہ کار وہی پیش پا افتادہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ اگر تبدیلی آ چکی ہے تو انہیں نظر کیوں نہیں آتی؟ نئے پاکستان میں سب کچھ پرانے پاکستان جیسا ہی کیوں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

مباحثے کا یہ منظرنامہ یقیناً کچھ نہ کچھ افادیت بھی رکھتا ہو گا کہ تنقید کے یہ عمومی زاویے بہرحال رائے عامہ میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کی نیت کے ساتھ ہی قائم کیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا ان سے رائے عامہ واقعی تبدیل ہوتی ہے؟ کیا اس سے زیادہ دلچسپ اور اہم سوال یہ نہیں کہ خود رائے عامہ کی ماہیت کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک فرد کی رائے میں تبدیلی کی حرکیات کا فہم ممکن ہو سکے گا تو ہی عمومی تناظر میں کچھ کہنا ممکن ہو گا۔ ہماری رائے میں اگر فرد خود اپنی رائے کی داخلی حرکیات سے واقف ہو گا تو خود بخود سماجی اضطراب میں کچھ نہ کچھ کمی آئے گی۔

ہم یہ سوال یوں اٹھا سکتے ہیں کہ کسی بھی سماج کے فعال ارکان کس طرح بکھراؤ سے ربط کی جانب بڑھتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ہمارے درمیان افراد کے مختلف گروہ کچھ نہ کچھ مشترکہ عوامل مثلاً ثقافتی مظاہر، زبان اور ذہنی رجحانات وغیرہ پر تو کسی کم سے کم درجے میں اتفاق رکھتےہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انفرادی صورت میں پیشِ نظر ہر سوال پر کوئی نہ کوئی رائے بھی رکھتے ہیں۔ یوں سماجی منظرنامہ متغیرات کے ایک ایسے جال کی صورت سامنے آتا ہے جہاں مختلف فعال ارکان بہت سی نسبتوں میں محرک ہوتے ہیں۔ ان کی یہ حرکت جن عوامل کےزیرِ اثر ہوتی ہے ان میں زیادہ تر مختلف عصبی شناختوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ انفرادی رائے کی تبدیلی کے تناظر میں بیچوں بیچ ایک مضبوط مرکز ہوتا ہے جس کے اندر موجود آراء کو اپنی جگہ سے سرکانا نہایت مشکل ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ کسی سیاست دان کے شخصی سحر میں مبتلا ہیں تو اس سحر کو زائل کر دینا ممکن نہیں۔ لیکن مرکز کے اردگرد ایک وسیع علاقے میں آراء کا ایک ایسا مجموعہ بھی ہوتا ہے جو نسبتی جال میں علتی اثراندازی کے باعث مسلسل تبدیلی سے گزرتا رہتا ہے۔ یہ اثراندازی دلیل یا نئی معلومات کی بنیاد پر بھی ہو سکتی ہے اور اس کا محرک کچھ نفسیاتی تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
لہذا تبدیلی کو موضوع بنانے والے تمام تجزیوں کو اس حرکیات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے جس کے مشمولات وہ متغیرات ہیں جو رائے کے مرکزی دائرے اور اس دائرے کے اردگرد کے مبہم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ متغیرات ہی دراصل اس پراسرار سرحدی خط کو کھینچتے ہیں جس کو عبور کرتے ہی تبدیلی امکان سے بڑھ کر امرِ واقع بن جاتی ہے۔ نقطۂ انجماد سے گزرتے ہی پانی یک لخت برف میں ڈھل جاتا ہے لیکن پانی کے برف میں تبدیل ہونے کی کُل حرکیات صرف اس ایک نقطے پر نہیں بلکہ گزشتہ زمانی سلسلے اور متعدد دوسرے داخلی اور خارجی عوامل پر منحصر ہوتی ہیں۔

مجرد تصور ہونے کے باعث پچھلی دوتین دہائیوں میں تبدیلی کی حرکیات اب شماریاتی طبیعیات کے تناظر میں زیرِ بحث ہے۔ سوالات دلچسپ سے دلچسپ تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہٹ دھرم اور اپنی رائے میں اٹل اقلیتی دھڑے کس طرح جمہوری معاشروں میں رائے کی حرکیات تبدیل کر سکتے ہیں؟ دو قیمتی ماڈل اور سہ قیمتی ماڈل فرض کرنے سے یہ حرکیات کیسے تبدیل ہوتی ہیں؟ کیاکوئی سرگرم، جوشیلا، کسی آدرش سے مجنونانہ قربت رکھنے والا فردِ واحد نظری اعتبار سے لامتناہی ووٹروں کی رائے تبدیل کر سکتا ہے؟ کسی معاشرے میں اجتماعی رائے کی تبدیلی کا نقطۂ انتہا یعنی وہ سرحد کہاں ہے جس کے بعد ایک مکمل ہجوم نہایت سرعت سے اپنی رائے تبدیل کر لے؟ کیا پچاس فی صد یا پھر پچیس فی صد؟ کیا ایک تبدیلی جو چوبیس فی صد پر بھی خارج از امکان ہوتی ہے وہ صرف ایک فی صد مزید بڑھنے کے بعد فوراً واقع ہو جاتی ہے؟

یہ تمام سوالات دلچسپ ہیں اور یقیناً منفرد تجزیاتی خاکہ بندیوں کی دعوت دیتے ہیں۔ کون جانے ان خاکہ بندیوں کے نتیجے میں ہم پر واضح ہو کہ ہم سب اپنی اپنی رائے میں ایک دوسرے سے اتنے فاصلے پر نہیں جتنا گمان تھا۔ تجربہ کر کے دیکھنے میں کیا حرج ہے!شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ایک مردہ تکرار سے اوپر اٹھ کر ان خاکہ بندیوں کی جانب توجہ دیں۔ یہ شاید وہ سب سے اہم اور فوری تبدیلی ہے جس کے لیے کوئی سیاسی تحریک چلانے کی ضرورت نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 74 posts and counting.See all posts by aasembakhshi