جو ہوا سو ہوا، آگے کا سوچیں


بالآخر ہمارے کپتان عمران خان کی اُمید بر آئی اور میدان مارا بھی تو ایسی ناہموار پچ (Uneven Playing Field) پر جس پر مدمخالف اُمیدواروں کا ٹھہرنا مشکل ہو گیا اور تھرڈ ایمپائر کرتا بھی کیا جب نہ صرف اسکور کی گنتی نظر سے اوجھل ہو گئی بلکہ نتائج کی ترسیل کا نظام بھی معطل ہو گیا ۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دھاندلی دھاندلی کا شور اتنا مچا ہے کہ جیتنے والے کھسیانے ہوئے جاتے ہیں اور ہارنے والے صدمے سے بے حال۔ ایک معلق قومی اسمبلی میں کھینچ کھانچ کے تحریکِ انصاف کو آزاد اراکین کے ریوڑ اور منحنی جماعتوں کی مدد سے 172کے ہندسے تک پہنچانے کے جو جتن کیے جا رہے ہیں اور کیسے کیسے لوگوں کو ہانک ہانک کر جمع کیا جا رہا ہے، ایسے بھان متی کے کنبے کے ہوتے ہوئے بھلائی، سچائی اور صفائی کے تبدیلی کے ایجنڈے کے لئے کیا اخلاقی جواز بچ رہتا ہے۔

عمران خان کی حکومت ابھی بنی نہیں، اور اپوزیشن نے متحد ہو کر ’’صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد‘‘ کے لئے ایک وسیع ترین محاذ بنا لیا ہے۔ جبکہ ابھی تک بنی گالہ میں منتظر وزیراعظم اعداد جمع کر رہے ہیں اور اب تک وہ پنجاب، پختون خوا کے وزرائے اعلیٰ اور اپنی کابینہ کے ناموں کو حتمی شکل دینے میں جانے کن کن مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ پارلیمانی نظام کو بچائے رکھنے کی سوچ نے اپوزیشن کو وہ راہ لینے سے روک دیا ہے جو خود عمران خان نے گزشتہ پارلیمنٹ کے خلاف مسلسل دھرنوں کی صورت اختیار کی تھی۔ معلق قومی اسمبلی میں ایک اقلیتی یا بمشکل اکثریتی حکومت کبھی بھی کسی مسئلے پر لڑھک سکتی ہے۔ اور قانون سازی کے لئے موجودہ سینیٹ کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے لئے کسی طرح کا بل منظور کروانا ناممکن ہوگا، تاآنکہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مہربانی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بُرا ہو اس بدزبانی کا جس سے کسی بھی مخالف لیڈر کی پگڑی محفوظ نہ رہی۔ اب معافی تلافی سے بھڑکے ہوئے جذبات ٹھنڈے پڑ سکیں گے یا نہیں، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

عمران خان کو داد دینی چاہئے کہ اُنھوں نے 2008 کے انتخابات کے بعد سے کرپشن اور پرانی دو جماعتوں کی ناکارہ باریوں کے خلاف ایک نہ تھکنے والی مسلسل مہم چلائی اور نئی پود کو ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے خلاف ’’تبدیلی‘‘ کے لئے متحرک کیا۔ اس مہم میں اُنھوں نے ہر طرح کے حربے بغیر کسی حد و حساب کے استعمال کیے۔ اُنہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ جمہوری عبور پٹری سے اُترتا ہے یا پھر اپنی حیثیت کھو بیٹھتا ہے۔ 2013 کے انتخابات میں اچھی خاصی عوامی حمایت حاصل کرنے کے باوجود وہ فقط خیبرپختون خوا میں حکومت بنا سکے تھے۔ پھر وہ کرپشن مخالف مہم کے ساتھ ساتھ دھاندلی کے ٹرالر پر چڑھ گئے۔ ابھی دھرنے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ پردئہ غیب سے پانامہ کا دھماکہ کیا ہوا کہ اُن کے کرپشن مخالف محاذ کو زبردست مہمیز مل گئی۔ پھر کیا تھا، ابھی سابق وزیراعظم نواز شریف دھرنے کے ہاتھوں اپنے اقتدار کی ڈھیلی ہوئی چولوں کو پھر سے تگڑا کر کے کھڑا ہوا ہی چاہتے تھے کہ پانامہ کے بم نے اُن کے اوسان خطا کر دیئے۔ پھر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ خوب چلا کہ انصاف کی سبک رفتار قوتوں نے احتساب کا فریضہ عین انتخابات سے پہلے انجام دے کر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا بُرا بھلا جواب فراہم کر دیا۔

اب عمران خان کے سب سے بڑے حریف کے میدان سے باہر ہونے سے، کپتان کے لئے پنجاب میں میدان خالی تھا اور نواز شریف کے جانشین شہباز شریف مردِ میدان ثابت نہ ہوئے۔ اوپر سے مسلم لیگ ن کی ایسی منجھائی کی گئی کہ اسے جان کے لالے پڑ گئے۔ پھر کیا تھا؟ ہر طرف ’’اب کی بار عمران خان‘‘ کے ڈنکے بجنے لگ گئے اور لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی پرانے لیڈروں کو آزمانے کے بعد انہیں باری دینے پہ مائل نظر آئی۔

حالانکہ اس بار شرح ووٹنگ پچھلی بار سے کم تھی اور عمران خان کی سونامی 2013 کی سطح سے کچھ ہی پھیلی ہوگی، انتخابی نتائج نے اُن کے حامیوں کو بھی ششدر کر دیا۔ تحریکِ انصاف کے حق میں عوامی لہر اگر 14.95 فیصد بڑھی اور اُن کا ووٹوں میں تناسب تقریباً دوگنا ہو کر 31.87فیصد یعنی 16,884,266 ہو گیا (یعنی تقریبا 90 لاکھ ووٹوں کا اضافہ) تو مسلم لیگ ن کی عوامی حمایت میں 8.37 فیصد کمی ہوئی اور اس کے ووٹ پچھلے انتخابات کے مقابلے میں تقریبا 20 لاکھ کم ہو کر 24.40فیصد یعنی 12,930,117 رہ گئے۔ غالبا، کوئی بھی آزاد مبصر تحریکِ انصاف کی ایسی زبردست کامیابی کو سمجھنے سے قاصر ہے یا پھر سر پکڑ کر ہی بیٹھ سکتا ہے۔ لگتا ہے کہ مسالہ ذرا زیادہ ہی لگ گیا۔ اس سے بہتر تھا کہ کسی مخلوط حکومت کے لئے جگہ چھوڑ دی جاتی۔ گو کہ اس کے بنا چارہ نہیں یا پھر عدم استحکام کے بھنور میں پھنسی کپتان کی کشتی ہچکولے کھاتی رہے گی۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے، لیکن عمران خان کے مخلوط حصہ دار یا پاسدار بہت تگڑے ہیں اور خیر سے احتساب کا دائرہ کافی پھیلتا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کے لئے بھی اور آصف زرداری کے لئے بھی۔ لیکن اس سے بگاڑ بڑھے گا، معاملات سنوریں گے نہیں۔

بھلے اپوزیشن اپنی انتخابی شکایات پہ کیسا ہی غل مچائے جو اس کا جمہوری و قانونی حق ہے، اسے سوچنا ہوگا کہ آخر یہ کیا چاہتی ہے؟ کیا جمہوری عبور جو دس برس پہلے شروع ہوا، اسے پٹری سے اُتار دیا جائے؟ اس کا نقصان آج تحریکِ انصاف کو ہو گا تو اس کے منفی مضمرات سے اپوزیشن بھی کیسے محفوظ رہ سکے گی۔ اس نئی پارلیمنٹ میں تمام تر کمی بیشی، تطہیر یا اضافے کے باوجود تمام جماعتوں کو حاصل عوامی مینڈیٹ موجود ہیں۔ یہ آپس میں ٹکرائیں گے تو جمہوریت ہی کمزورہوگی ۔ یہ عمران خان کی حکومت کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کے لئے کھلے دل کا مظاہرہ کریں جیسا کہ خان صاحب نے اپنی اکلوتی تقریر میں کہا ہے۔ پارلیمنٹ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا سکتی ہے جو ہر طرح کی شکایت دور کرنے میں بااختیار ہو۔

پی ٹی آئی حکومت کو جو معاشی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز درپیش ہیں اُن کا سامنا کرنا فقط ایک پارٹی کے بس میں نہیں۔ ملک کو جو سنگین بحران آج درپیش ہے اس کا سامنا کرنے کے لئے ساری پارلیمنٹ کو متحد ہونا پڑے گا۔ اور یہ کام اداراتی بحران اور اداراتی عدم توازن کو دور کیے بنا ہونے کا نہیں۔ مرکز اور صوبوں میں حکومتوں کے قیام کے ساتھ ہی متعلقہ منتخب اداروں کو اپنے اپنے دائرے میں بیٹھنا ہوگا اور ستر سال پرانے عارضوں کے علاج کے لئے کوئی متفقہ راہ نکالنی ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو سیاسی بحران حد سے گزر کر معاشی و اداراتی بحرانوں کو ایسی ضرب لگائے گا کہ کسی کے بس میں نہیں رہے گا کہ اصلاحِ احوال کیسے کی جائے؟

لیکن اگر عمران خان اور اُن کے مددگاروں نے اپوزیشن کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ میڈیا کو دبائے رکھا اور آئینی دائرے سے ہٹ کر اداروں کی مداخلت کو بڑھایا تو سمجھیے کہ ہم ایک بڑے ہی خوفناک بحران کو بھڑکانے جا رہے ہیں۔ اس ملک کی تمام سیاسی قوتوں، اداروں اور دانش مندوں کو اپنے اپنے بند دروازوں اور متحارب دماغوں کو کھولنا ہوگا۔ وگرنہ، پھر نہ کہنا کہ دیر ہو گئی۔ عمران خان وزیراعظم ہونے کو ہیں۔ اب یہ اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو ایک اور تصادم کی طرف لے جاتے ہیں یا پھر سب لوگوں کو ساتھ لے کر موجودہ بحران کو قابو میں لانے کا جتن کرتے ہیں۔ یہ فقط فتح کے ڈونگرے برسانے کا وقت نہیں، سوچنے سمجھنے اور معاملہ فہمی کا ہے۔ وگرنہ دُعائے خیر کے لئے ہاتھ اُٹھائے جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 43 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam