’دلدل میں پھنسا تھا کہ تین سٹار والے دوست مدد کو آئے‘

رویندر سنگھ روبن - بی بی سی پنجابی


انڈیا کی ریاست پنجاب جہاں حکومت منشیات کے جال سے نوجوانوں کو نکالنے کے لیے کوشاں ہے وہیں 23 سالہ ہربندر (تبدیل شدہ نام) کو ان کے 24 دوستوں کے ایک گروپ نے منشیات سے نجات دلانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

انھیں منشیات کی لت سے چھٹکارا دلانے کے لیے سرکاری طبی مرکز میں داخل کیا گيا ہے۔ ہربندر کے قریبی رشتہ دار نے انھیں منشیات کی عادت لگا دی تھی جس کی وجہ سے ان کا گھر تباہی کے دہانے تک آ گیا تھا۔

کسانوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ہربندر کو ان کے چچا نے ایک بار ہیروئن کی پیشکش کی تھی اور پھر اس کے بعد سے انھیں اس میں مزہ آنے لگا۔

ہربندر کو ہیروئن اس قدر پسند آئی کہ وہ رات میں اٹھ کر اپنے چچا کے پاس اس کی ایک خوراک لینے کے لیے بھاگے بھاگے جاتے جس چچا نے پہلی بار اسے مفت کی ہیروئن چکھائی تھی اب وہی تھوڑی سی ہیروئن دینے کے لیے 500 روپے کا مطالبہ کرنے لگے تھے۔ مقامی زبان میں وہ ہیروئن کی ایک خوراک کو ‘ناگ’ کہتے تھے جو کہ ایک دن کے لیے کافی ہوتی تھی۔

ہربندر نے بتایا: ‘میں نے میٹرک پاس کرنے کے بعد روزانہ اس کا استعمال شروع کر دیا۔ میں نے پیسے چرانے شروع کر دیے اور ٹرک چلانا چھوڑ دیا۔’

ہربندر کے والدین نے بہت کم عمر سے ہی انھیں ٹرک چلانے پر لگا دیا تھا جہاں وہ اپنے ماموں کی مدد کرتے تھے۔ ہربندر نے بی بی سی کو بتایا: ‘میں نے ٹرک پر پورے ہندوستان کا سفر کیا۔ جب راجستھان سے گزرتا تھا تو میں پوست کا استعمال کرتا تھا اور اسی دوران ٹرپل سٹار نامی ایک گروپ سے میرا رابطہ ہوا۔ یہ اچھے لوگ تھے اور انھوں نے مجھے منشیات سے باز رہنے کی بات کہی۔’

انھوں نے اپنی گردن پر ایک ٹیٹو دکھایا جس پر تین ستارے بنے ہوئے تھے۔ یہ نشان ان کے سارے 24 دوستوں کی گردن پر بنے تھے۔ جب انھیں پتہ چلا کہ ہربندر ہیروئن لینے لگا ہے تو انھوں نے ہربندر کو منع کرنے کی بہت کوشش کی۔ ہربندر نے بتایا: ‘اس کے بعد مجھے دوستوں سے نفرت ہونے لگی۔ میں نے ڈرائیونگ چھوڑ دی اور ہر دن ہیروئن لینے لگا۔’

انھوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل وہ نشہ آور شے نہ ملنے پر اس قدر بے چین ہو گئے تھے کہ انھوں نے اپنی ماں پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے بتایا: ‘ماں نے منشیات خریدنے کے لیے پیسہ دینے سے منع کر دیا۔ مجھے پتہ بھی نہیں کہ میں نے اسے کب مارا اور اس کے ہاتھ توڑ دیے۔ مجھے صرف صبح پتہ چلا کہ میں نے ان پر رات میں حملہ کیا تھا۔ مجھے صبح جب اپنی اس حرکت کا پتہ چلا تو بہت صدمہ ہوا اور میں روتا رہا۔’

‘اس کے بعد میرے تین سٹار والے دوست میری مدد کو آئے اور انھوں نے کہا کہ مجھے علاج کی ضرورت ہے۔ ان سارے دوستوں نے مل کر میری مدد کی کیونکہ میری مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں اپنا علاج بھی کروا سکتا تھا۔ اب میرا علاج جاری ہے اور مجھے امید ہے کہ میں معمول پر آ جاؤں گا۔’

دوستوں کے علاوہ امرتسر کے رکن پارلیمان گرجیت سنگھ اوجلا اور نائب پولیس کمیشنر کے ایس سنگھا نے بھی اس نوجوان کی منشیات کے دلدل میں پھنسنے کی داستان سن کر مدد کی پیشکش کی۔

رکن پارلیمان نے بتایا: ‘میں بھی اسے مالی اور دوسری طرح سے مدد کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس کے علاج کا خرچ اپنی جیب سے ادا کروں گا۔ ان کی کہانی پنجاب کے ان نوجوانوں کی کہانی ہے جو منشیات کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئے ہیں۔’ جبکہ مسٹر سنگھا نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اسے منشیات کی دنیا سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گی۔

ان کے دوست ستنام سنگھ (بدلا ہوا نام) 24 دوستوں کے گروپ کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہربندر کے علاوہ ان کے گروپ کے کسی بھی فرد نے کبھی منشیات کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ انھیں یہاں لائے ہیں اور اس کے علاج کے لیے پیسے جمع کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے دوست کو اس طرح برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ دوسرے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوست کو اس دلدل سے باہر نکال لائیں گے چاہے اس کے لیے کتنا بھی کیوں نہ خرچ کرنا پڑے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp