پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں نو نکاتی معاہدہ ناقابل عمل ہے


عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان بنانے کے لئے تحریک انصاف اور متحدہ پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدہ پی ٹی آئی کے لئے تو ایک تحفہ ہے مگر اس میں ایم کیو ایم کے لئے کچھ نہیں اور جو اہم نو نکات معاہدے میں لکھے گئے ہیں وہ بھی قابل عمل نہیں ہیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ معاہدہ ایم کیو ایم کے لئے فیس سیونگ بھی نہیں ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم باہمی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حریف ہیں اور حکمراں جماعت کا نو نکاتی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ نو نکاتی معاہدہ حیران کن ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے جن نشستوں کامیابی حاصل کی ہے ان پر پہلے ایم کیو ایم کامیاب ہوتی رہی ہے اس طرح اگر دھاندلی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے تو وہ براہ راست پی ٹی آئی کی طرف جاتا ہے۔

معاہدے میں ایک نقطہ پولیس اصلاحات کا ہے جس میں پولیس کو غیر سیاسی ، غیر جانبدار اور بھرتیوں میں میرٹ کو بنیاد بنا نا اہم ہے مگر یہ وفاقی نہیں، صوبائی معاملہ ہے لہٰذا اس کے لئے سندھ حکومت وفاق کی ہدایات یا احکامات پر عمل درآمد کرنے سے معذرت کر سکتی ہے۔

جہاں تک کراچی آپریشن کا تعلق ہے تو کوئی بھی سیاسی جمات یا صوبائی حکومت یا کوئی دوسرا اسٹیک ہولڈر کیوں چاہے گا کہ آپریشن کے نتیجے میں اسامنے ٓنے والی صورتحال دوبارہ پہلی حالت میں واپس چلی جائے تو معاہدے کا یہ نکتہ بھی کسی بھی طور پر نہ صرف قابل عمل نہیں بلکہ ناقابل قبول ہے۔

ایک اور نقطہ جس میں انتخابی حلقوں میں الیکشن آڈٹ ہے یہ نہ صرف ناقابل عمل ہے بلکہ سمجھ سے باالا تر ہے کیونکہ آڈٹ کے نتیجے میں نقصان پی ٹی آئی کو ہوسکتا ہے جو ان نشستوں پر جیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان کا بیان ایک طرف بلکہ پی ٹی آئی کے وکلا ان باتوں کا شدت سے انکار کرتے رہے ہیں جس کی مثال این اے 131لاہور ہے جہاں خواجہ سعد رفیق شدید دباؤ ڈال رہے ہیں مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اسی طرح مردم شماری کا معاملہ ہے یہ بھی بالکل قابل عمل نہیں دکھتا۔

(طارق بٹ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں