قومی اسمبلی کے 49 حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کےمارجن سے زیادہ: 16 لاکھ 78 ہزار ووٹ مسترد کئے گئے


الیکشن 2018 میں ملک بھر میں سولہ لاکھ اٹھتر ہزار ووٹ مسترد کیے گئے جو 2013 کے الیکشن میں مسترد کیے جانے والے ووٹوں سے بھی زیادہ ہیں۔

فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018کے عام انتخابات میں سولہ لاکھ اٹھہتر ہزار سے زائد ووٹ گنتی میں شامل نہیں ہوئے، قومی اسمبلی کے 49 حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کےمارجن سے زیادہ نکلے، صوبائی اسمبلیوں کے ایک سو بیس حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کےمارجن سے زیادہ نکلے۔

2018  میں بلوچستان میں ووٹ مسترد کیے جانے کا تناسب دو ہزار تیرہ کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ رہا جب کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں تیس اعشاریہ چھ فیصد، سندھ میں سات فیصد اور پنجاب میں ووٹوں کو رد کرنے کا تناسب  دو ہزار تیرہ کے مقابلے میں چھ اعشاریہ چھ فیصد زیادہ رہا۔

فافن رپورٹ کے مطابق 2002 کے عام انتخابات میں مسترد ووٹوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار 720، 2008 میں 9 لاکھ 73 ہزار 694 اور 2013 کے انتخابات میں 15 لاکھ 2 ہزار 717 تھی جب کہ اس بار 16 لاکھ 78 ہزار سے زائد ووٹ مسترد ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں