بنگلہ دیش کے دہشت گردوں کا غم


amir kakazai2آج کل ہر کوئی ایک ایسے دہشت گرد کے لیے، غم کے سمندر میں غرق ہیے جس سے ہمارا نہ کوئی تعلق نہ کبھی ان لوگوں نے ہمارے دُکھ میں دو ہمدردی کے بول ہی بولے ہوں۔ بس کبھی ان لوگوں نے اپنے مفاد کے تحت ہمارے ایک ادارے کے لیے اپنے لوگوں کا قتلِ عام کیا تھا۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بنگلہ دیش ایک ازاد اور خود مختار ملک ہیے۔ اس طرح جیسے ہم ہیں۔ کیا ہم یہ بات برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی ملک یا اس کے لوگ اٹھ کر ہمارے دہشت گردوں کو سپورٹ کریں اور ہمیں ملامت کریں کہ ہم ان کو کیوں پھانسی پر چڑھا رہے ہیں؟ اسی طرح اگر بنگہ دیش اپنے دہشت گردوں کو سزا دے رہا ہے تو ہمیں ان پر تنقید کرنے کا کیا حق ہیے؟ جہاں تک یہ بات کہ اُدھر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو ریے تو کیا ہم اپنے دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا نہیں دے دیے؟ کیا فوجی عدالتیں انصاف کا تقاضہ پوری کرتی ہیں ؟ کیا ہم نے یورپی یونین کی پھانسی ختم کرنی کی بات مانی ہیے؟ اب دوسرا ملک کچھ بھی کہے لیکن ہمارے لیے اس وقت کی ضرورت یہ فوجی عدالتیں ہیں۔

اب آیے اس طرف کہ ان کو چالیس سال بعد کیوں اچانک خیال آیا کہ اپنے دہشت گردوں کو سزا دینی چاہیے؟ ارے بھائی، یہ تو عظیم قوموں کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے دہشت گردوں، جنہوں نے ان کے معصوم لوگوں کا قتلِ عام کیا، نہیں بھولتے۔ اور ان کو ہر حالت میں سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری طرح نہیں کہ ایک حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو شایع کرنے کی ہمت نہیں ہوئی کچھ کہ ہم کسی کو سزا دیتے اتنے بڑے بلنڈر کی۔ ہم تو اپنے ملک کے قاتلوں کو بڑی عزت سے توپوں کی سلامی دے کر رخصت کرتے ہیں۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ کیا بنگال کے جماعتیوں نے پاکستان کی محبت میں اپنی قوم کا قتلِ عام کیا؟ تو یہ بات بھی بلکل جھوٹ ہیے۔ ان لوگوں نے جو کچھ بھی کیا اپنے مفادات کے لیے کیا۔ 1971 گے بعد تو یہ سب لوگ بنگلہ دیش سے فرار ہو کر دوسروں ملکوں میں چلے گۓ تھے۔ یاد ریے کہ ان دوسرے ملکوں میں پاکستان یرگز بھی شامل نہیں۔ اگر ان لوگوں کو پاکستان سے محبت ہوتی تو یہ سب پاکستان آ جاتے۔ اور پھر واپس نہ جاتے۔ مگر جونہی 1975 میں ان کی جماعت سے پابندی ہٹی اور حالت سازگار ہوۓ یہ لوگ واپس آ گۓ۔ اور پھر ان لوگوں نے پورے پروٹوکال کا مزا لیا اور حکومت میں بھی شامل ہوۓ۔ 1991 سے لے کر 2006 تک نظامی سمیت کافی جماعتیوں نے وزارت کے مزے لوٹے۔ یہ سب ان لوگوں نے اپنے مفادات کے تحت کیا نہ کہ کسی ملک کی محبت میں۔ اسی طرح ہمارے ملک کے جماعتیوں نے بھی اپنے مفادات کے لیے ہر ڈکٹیٹر کا ساتھ دیا۔

مزے کی بات کہ بنگلہ دیش کے اپنے عوام نے ان جماعتیوں کو مسترد کیا اور 2008 کے الیکشن میں صرف، جی ہاں صرف دو سیٹیں ملیں، 300 ممبران کی پارلیمنٹ میں۔ اورہم لوگ پاگل ہوۓ ہیں ان لوگوں کے اپنے مسترد شدہ لوگوں کے لیے۔ کبھی سول حکومت کو کوستے ہیں اور کبھی جنرل شریف کو ان پر ایٹم بم گرانے کا حکم دیتے ہیں۔ آخر ہم امہ، اور اس آمہ جس نے اج تک ہمارے لیے دو ہمدردی کے بول نہ بولے، کے لیے کب تک اپنے اپ کو پیٹتےاور تباہ کرتے رہیں گے؟

ہماری قوم پر، جو ہر وقت امہ کی عظمت کے خمار میں مبتلا ریتی ہیے، ایک ظلم ترکی نے کر دیا، اپنا سفیر واپس بلا کر، مزے کی بات کہ ترک حکومت نے اپنا سفیر واپس بھی بلایا اور بنگلہ دیش حکومت کو اس بات کی افیشلی اطلاع بھی نہیں دی ۔ ویسے بھی آج کل ترک کے صدر پر امہ کا لیڈر بننے کا بخار چڑھا ہوا ہیے۔ اُسی طرح جیسے ہمارے ایک امیر لمومنین کو چڑھا تھا اور ہمارے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا۔ دوسری طرف ترکی کا بھی ڈبل سٹندرڈ، جب سعودی گورنمنٹ نے ایک شیعہ عالم اور 47 لوگوں کو پھانسی دی تو یہ کہہ کر ترکی حکومت نے بات ختم کی کہ یہ سعودی حکومت کا اپنا داخلی مسئلہ ہے، کوئی ان سے یہ پوچھے کہ کیا یہ بنگلہ دیش کا داخلی مسئلہ نہیں ہیے؟

آخر میں صرف ایک بات کہ ہمیں صرف پاکستان کے ہر حصے کا خیال رکھنا ہیے۔ ہر پاکستانی کے لیے انصاف اور زندگی کی ہر بنیادی ضرورت پہنچانے کی کوشش کرنی ہے ۔ ہمارا ماضی افسوسناک مگر مستقبل روشن ہیے۔ ہمیں بھی بنگلہ دیش سے سبق سیکھ کر اپنے ان ظالموں کو سزا دینی چاہیے نہ کہ ہر غلطی کو قومی مفاد کا نام دے کر قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کرنی چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments