بڑھاپےمیں بھی رومانوی مسائل ہوتے ہیں: مانچسٹر یونیورسٹی کی تحقیق


بڑھاپے اور سیکس کے بارے میں اکثر زیادہ بات نہیں کی جاتی ہے اور اس بارے میں الجھن بھی پائی جاتی ہے کہ فلاحی سینٹرز یا کیئر سینٹرز میں رہائش پذیر ان افراد کی رومانوی زندگی سے کیسے نمٹا جائے۔ ایڈم ویمتھ نے عمر رسیدہ افراد کی جنسی زندگی کو درپش مسائل کے بارے میں بات کی ہے۔

عمر گزرنے کے ساتھ جنسی تعلقات پر بات نہیں کی جاتی ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ عمر کے اس حصے میں لوگ سیکس نہیں کرتے ہیں۔ مانچسٹر یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 70 برس کی عمر سے اوپر 54 فیصد مرد اور 31 فیصد خواتین جنسی تعلقات کے لیے فعال ہوتے ہیں۔

ملکی سطح پر کیےگئے اس سروے میں 80 برس سے زائد عمر کے افراد کو شامل کیا گیا اور اس سے معلوم ہوا کہ رویے کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں اور تاریخی طور پر عمر رسیدہ افراد کی جنسی ضروریات کو کس طرح دیکھا جاتا تھا۔ رائل کالج آف نرسنگ ڈان گریت کے مطابق’اس میں بارے میں آگاہی پیدا ہو رہی ہے کہ یہ کس طرح نقصان دے رہا ہے۔ جنسی تعلق اور سیکس کی ضرورت انسان کا بنیادی فعل رہا ہے۔

رائل کالج آف نرسنگ کی سال 2010 کی تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد کی رہائش کے فلاحی سینٹرز میں سیکس اور تعلقات کی ضروریات کا خیال رکھنا ترجیحات میں نہیں رہا اور ان سینٹرز کا عملہ بھی عام طور پر اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ناخوشی کا اظہار کرتے ہیں یا اس کے بارے میں ان کو کوئی علم نہیں ہوتا ہے اور یا ان کے پاس مدد کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ہے۔ تربیت کے دوران اس موضوع کے بارے میں بتایا بھی نہیں جاتا ہے اور یہ سینٹرز اکثر اوقات تعلقات کو سہولت دینے اور رہائشیوں کو تنہائی فراہم کرنے اور ڈبل بیڈ دینے میں ناکام رہتے ہیں۔‘

سیکس اور عمر کے موضوع پر کام کرنے والی پرفارمنس آرٹسٹ اور کوئین میری یونیورسٹی لندن میں پروفیسر لوئس ویور کے مطابق’ہم عمر کو رسوائی سمجھتے ہیں اور ہم ان لوگوں سے ایسا سلوک نہیں کرتے جیسا کہ بڑوں سے کرنا چاہیے بلکہ ہم ان سے سلوک کرتے ہیں کہ جیسے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں۔‘

لوئس ویور نے عمر رسیدہ افراد کے سینٹرز میں رہائش پذیر افراد کے ساتھ کافی کام کیا ہے اور اس بارے میں انھوں نے تھیٹر کے لیے ایک ڈرامہ تیار کیا ہے جس کا عنوان ہے کہ’ ٹیمی کو عمر بڑھنے اور سیکس کرنے کے بارے میں کیا جاننے کی ضرورت ہے‘۔ اس ڈرامے کا مقصد عمر رسیدہ ہونے اور سیکس کرنے کے بارے میں پائی جانے والی منفی رائے عامہ کو ختم کرنا ہے۔

60سالہ لوئس ویور کے مطابق انھیں بتایا گیا تھا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ سیکس کرنے میں دلچسپی کم ہونا ناگزیر ہوتا ہے تاہم ویور کے مطابق انھوں نے اس رائے کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ’ان کی خواہشات اور ترغیبات مختلف ہوتی گئیں۔‘ فلاحی اداروں کے معیار کو جانچنے والے ادارے کیئر کوالٹی کمیشن نے اب اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے اقدامات شروع کیے ہیں۔

ادارے کے چیف انسپکٹر اینڈریو سپکلیف کے مطابق’جانچ پڑتال کے دوران دیکھی جانے والی چیزوں میں سے ایک یہ ہوتی ہے کہ جب حساس معاملات جس میں لوگوں کے جنسی اور قریبی تعلقات کی بات تو ان سے عزت و احترام سے پیش آیا جائے، اس کے علاوہ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ سینٹرز چلانے والے اپنے عملے کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ تربیت فراہم کریں تاکہ وہ کیئر سینٹرز میں رہنے والے لوگوں کی جنسی خواہشات، ان کے تعلقات اور برابری کا خیال رکھ سکیں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4900 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp