کرشن چندر اور لاہور


mehmudul hasanکرشن چندر نے جس قدر محبت سے لاہور کو یاد کیا ہے، شاید ہی کسی دوسرے لکھنے والے نے ایسی شدید محبت محسوس کی ہو۔ اُن کے ہاں مرنے سے قبل لاہور دیکھنے کی تمنا نے بہت شدت اختیار کر لی تھی۔ احمد ندیم قاسمی کو کرشن چندر نے اپنے آخری خط میں لکھا: ”لاہور کا ذکر تو کجا، اس کافر ادا شہرکے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ “

اختر جمال اپنے مضمون ”میرے بھائی….کرشن جی“ میں بیان کرتی ہیں: ”وہ لاہور سے آنے والے کو ایسے رشک سے دیکھتے کہ ان کا بس چلتا تو آنکھوں سے لاہور کی سڑکوں، گلیوں، مکانوں اور درختوں کی تصویریں حاصل کر لیتے…. بار بار لاہور کی باتیں سن کر ان کا جی نہیں بھرتا تھا…. جب وہ لاہور کی اور لاہور کے لوگوں کی تعریف سنتے تو ان کا چہرہ کِھل جاتا تھا، آنکھیں چمکنے لگتی تھیں۔ لاہور کی تعریف اُن کی تعریف تھی۔ ان چند سالوں میں جب بھی اُن سے ملاقات ہوئی اُنھوں نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ”مرنے سے پہلے ایک بار جی چاہتا ہے، پاکستان جاﺅں، لاہور دیکھوں۔ “ انھوں نے ”نقوش“ میں میرا خاکہ ”راکھی“ بہت پسند کیا اور مجھے خط لکھا۔ یہ ان کا آخری خط ہے۔ اس میں بھی لاہور آنے کی خواہش ظاہرکی ہے۔ “

کرشن چندر نے حمید اختر کو خط میں لکھا:

پیارے اختر

”کہاں ہوں تم، کیسے یاد کیا، کیوں کیا؟ لاہور میری کمزوری ہی نہیں، میں نے لاہور میں مرنے کا خواب دیکھا ہے، کسی کونے میں، کسی کوچے میں، کسی چھوٹے سے گندے غلیظ چوک کے کنارے پر۔ اب کے ماسکو میں دو تین ایسے دوستوں سے ملاقات ہوئی جنھیں اس برصغیرکے سارے شہروں میں صرف لاہور پسند تھا، بس پھرکیا تھا۔ وہ باتیں ہوئی ہیں گھنٹوں، انھیں لاہور کا وہی ماحول پسند تھا جو ہمیں ہے اور لاہور سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ “

1977ء میں معروف تاریخ دان اشتیاق احمد نے اسٹاک ہوم سے کرشن چندر کی ایک کہانی جس میں موہنی روڈ کا ذکر آیا تھا، پڑھ کر انھیں خط کے ذریعے لاہور آنے کی دعوت دی تو کرشن چندر نے جوابی خط میں جو انگریزی میں تھا، لاہور سے اپنی شیفتگی کو بڑے موثر پیرائے میں بیان کیا ہے۔

KrishanChander with his Wifeزاہدہ حنا نے اپنے مضمون”ہائے میرا لاہور، ہائے میرا لاہور “ میں لکھا ”کیا کوئی اپنی محبوبہ کویاد کرے گا، جس تڑپ سے وہ لاہور کو یاد کرتے تھے….ستمبر65 ء میں پاکستان اورہندوستان کے درمیان لڑائی چھڑی توبقول سلمیٰ آپا وہ بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپتے تھے ۔ جب پہلے روزخبرآئی کہ ہندوستانی طیاروں نے لاہور پربم گرائے ہیں توانھوں نے سارا دن نہ کچھ کھایا نہ پیا، بس دل تھامے فرش پرلیٹے”ہائے میرالاہور۔۔۔ ہائے میرا لاہور“ کرتے رہے۔“

کرشن چندر لاہور میں مختلف جگہوں پر رہے، لیکن تحریروں میں سب سے زیادہ موہنی روڈ اور ہندو ہاسٹل میں ان کے قیام کا ذکر آتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے تعلق استوار ہونے کے بعد ایک روزکرشن چندرسے پوچھا کہ وہ رہتے کہاں ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: ”تمھارے داتا کے سائے میں۔ “ بقول احمد ندیم قاسمی: ”وہ دراصل داتا دربار کے عقب میں موہنی روڈ کے ایک مکان میں رہتا تھا اور جب داتا دربار کے قریب سے گزرتا تو یہ ضرور کہتا تھا کہ ”ایک عقیدت مند ہندو کا سلام قبول فرمائیے داتا مہاراج!“

موہنی روڈ پر کرشن چندر کے مکان کا ذکر میرزا ادیب نے کچھ یوں کیا ہے۔ ”میں لاہور کے اس حصے میں رہتا تھا جس کا نام موہنی روڈ ہے۔ میرا مکان اس حصے کے آخری کونے میں ہے، کم وبیش روزانہ مین روڈ سے گزرنا پڑتا ہے اور اس سڑک پر ایک چھوٹا سا مکان ایسا بھی ہے جس کے قریب پہنچ کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور ایک دم یوں احساس ہوتا ہے جیسے میرے سینے کی گہرائیوں میں ایک معطر روشنی جھلملا اٹھی ہے اور کانوں میں رس گھلنے لگا ہے۔ اس مکان میں کرشن چندر رہ چکا ہے۔ اردو کا کرشن چندر۔ لاکھوں انسانوں کا کرشن چندر۔ میرا دوست کرشن چندر۔ “ میرزا ادیب کی ایک اور تحریر میں ہندو ہاسٹل کا حوالہ موجودہے، جہاں وہ پہلی بار کرشن چندر سے ملے تھے۔

1937ءمیں شائع ہونے والا کرشن چندرکا پہلا طبع زاد ڈراما ”بیکاری“ ہندو ہاسٹل میں بیتے دنوں کا احوال سناتا ہے۔ گوپال متل نے بھی اپنی کتاب ”لاہور کا جو ذکر کیا“ میں کرشن چندر کے ہندو ہاسٹل میں رہنے کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”کنھیا لال کپور، کرشن چندرکا اکثر مذاق اڑایا کرتے تھے کہ یہ کمیونسٹ ہونے کا مدعی ہے لیکن جو کریم استعمال کرتا ہے، اس پر بورژوا لکھا ہوا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ زیادتی بھی تھی کیونکہ کرشن چندر ان دنوں بورژوا زندگی ہرگز بسر نہیں کر رہے تھے اور ان کا قیام ہندو ہوسٹل میں تھا جس میں کم استطاعت کے لوگ ہی رہتے تھے۔ “

13020295_1060167697404525_1901857368_nہندو ہاسٹل میں قیام کے دوران ہی کرشن چندر کی کنھیا لال کپور سے دوستی ہوئی۔ کنھیا لال کپور اور کرشن چندر کا کمرہ ساتھ ساتھ تھا لیکن وہ ایک دوسرے سے شناسا نہیں تھے۔ دونوں کے متعارف ہونے کا پُرلطف قصہ کنھیا لال کپور کی زبانی سنیے۔ ”یہ اکتوبر 1936ءکا ذکر ہے، میں ان دنوں بیکار تھا اور ایک سستے بورڈنگ ہاﺅس (ہندوہوسٹل، لاہور) میں رہا کرتا تھا۔ میرے کمرے کے دائیں طرف ایک اسکول ماسٹر بترا صاحب رہتے تھے اور بائیں طرف ایک نوجوان کہ جس سے میری صاحب سلامت تک نہیں تھی۔ “ یہ نوجوان جن کا کنھیا لال ذکر کر رہے ہیں، کوئی اور نہیں کرشن چندر تھے۔ کنھیا لال کپور کا ایک روز لائبریری جانا اور ادھر ”ہمایوں“ کے تازہ شمارے پر ان کی نظر پڑنا کرشن چندر سے اٹوٹ تعلق کی بنیاد بن گیا۔ آگے کی کہانی پھر سے کنھیا لال کپور سے سنیے۔ ”ہمایوں کی ان دنوں ادبی دنیا میں بڑی دھوم تھی اور اس کا شمار چوٹی کے رسالوں میں ہوتا تھا۔ میں اس میں ایک شائع شدہ مضمون پڑھنے لگا۔ عنوان تھا: ”لاہور سے بہرام گلہ تک“ اور مضمون نگار تھے کرشن چندر، جن کا نام میں نے پہلی بار سنا تھا۔ مضمون کا ابتدائی حصہ مجھے اتنا پسند آیا کہ میں نے اسے آخر تک پڑھنے کا فوراً فیصلہ کر لیا۔ دو چیزوں نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ پختہ اور خوبصورت نثر اور طنز و مزاح کی چاشنی۔ مضمون ختم کرنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ایک ستارہ آسمان ادب پر طلوع ہوا ہے جو بہت جلد ماہ کامل بنا چاہتا ہے۔ میں جلد از جلد ہوسٹل پہنچنا چاہتا تھا کہ بترا صاحب سے اس نئے مضمون نگار کا ذکر کروں۔ اتفاق سے وہ اپنے کمرے میں موجود تھے۔ میں نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”بتراصاحب! آج ایک نئے مضمون نگار کا پتا چلا ہے۔ بخدا نثر لکھتا ہے کہ جادو جگاتا ہے۔ اس کا مضمون ”ہمایوں“ میں چھپا ہے۔ اگر آپ نے نہیں پڑھا تو ضرور پڑھیے۔

”لیکن وہ ہے کون؟ “

”کوئی نووارد ہے۔ نام ہے کرشن چندر۔ “

”کہیں آپ اس کے مضمون ”لاہور سے بہرام گلہ تک“ کا ذکر تو نہیں کر رہے؟ “

”تو آپ نے یہ مضمون پڑھا ہے؟“

”مضمون بھی پڑھا ہے، مضمون نگار کو بھی جانتا ہوں۔ “

”آپ مذاق تو نہیں کر رہے؟ “

”میرا تو خیال ہے آپ بھی اسے جانتے ہیں۔ “

”تو گویا آپ مجھے بنا رہے ہیں۔ “

”ارے بھئی نہیں۔ وہی تو کرشن چندر ہے جو آپ کے ساتھ والے کمرے میں رہتا ہے۔ “

”آپ کا مطلب ہے وہ پراسرار خوش پوشاک شخص جو کسی سے بات چیت نہیں کرتا۔ “

”ہاں ہاں۔ بالکل وہی۔ “

”تعجب۔ “

”آیئے آپ کا اس سے تعارف کرا دوں۔ “ قصہ مختصر یہ کہ کرشن چندرکا کنھیا لال کپور سے تعارف ہوگیا اور وہ گہرے دوست بن گئے۔

اختر جمال کے مضمون سے جو حوالہ ہم نے اوپر نقل کیا ہے، اس سے، اور حمید اختر کے نام خط کا اقتباس پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرشن چندر کے خوا ب و 13233382_1060167680737860_1004510122_nخیال میں تو لاہور رہتا ہی تھا، اس کے بارے میں بات چیت کرکے بھی انھیں حقیقی مسرت حاصل ہوتی۔ تقسیم کے ہنگام بھی لاہور کی صورتحال کے بارے میں وہ مضطرب رہے۔ اس کڑے وقت میں یہ جاننے کے لیے کہ یاران لاہور کس حال میں ہیں، لاہور آنا چاہا لیکن حالات نے اجازت نہ دی۔ یہ تو رہیں کرشن چندر کے ہندوستان میں رہ کر لاہور شہر کو رہ رہ کر یاد کرنے سے متعلق چند باتیں۔ اب تھوڑا جائزہ اس عہد کا بھی لے لیں، جس میں سانس لینے کے باعث آخری سانس تک، وہ اس شہر کی محبت میں تڑپتے رہے۔

لاہور میں کرشن چندر نے ایف سی کالج سے ایف ایس سی اور بی اے کے بعد 1935ء میں ایم اے انگریزی کیا۔ کالج میگزین کے انگریزی حصے کے ایڈیٹر رہے۔ ایم اے کرنے پر انھیں فخر کا احساس ہو گا، اسی لیے اپنے نام کے ساتھ ایم اے لکھتے رہے، جس پر منٹو ان کا خوب تمسخر اڑاتے اور طنزاً انھیں ”کرشن چندر ایم اے“ کہا کرتے۔ مشتاق احمد یوسفی نے ”آب گم“ میں لکھا : ”1947ء تک کرشن چندر بھی اپنے نام کے ساتھ ایم اے کا دم چھلا لگاتے تھے۔ اور اس کے بغیر ان کا نام بالکل ننگ دھڑنگ بلکہ کسی اور کا محسوس ہوتا تھا۔ “ کرشن چندر جوانی میں بڑے خوش لباس تھے اور کالج بہت بن ٹھن کر جاتے۔ ان کے بھائی مہندرناتھ کے بقول: ”وہ کالج میں سوٹ اور ٹائی کے بغیر نہ جاتے تھے۔ شروع میں کچھ dandy بننے کا شوق تھا، لیکن ایم اے کرنے کے بعد dandyism ختم ہو گیا۔ “ کالج کے زمانے میں کرشن چندرکے ایک بارکلکتہ جانے کی خبر مظفر حسین شمیم کے چراغ حسن حسرت پرمضمون سے ملتی ہے۔ ان کے بقول ”ایک زمانے میں ایک بارکرشن چندر اپنے گھرمیں اطلاع دیے بغیرلاہور سے کلکتے چلے آئے۔ اس دورمیں وہ فورمین کرسچین کالج میں تعلیم پاتے تھے۔ یہاں وہ ہم لوگوں کے ساتھ مقیم ہوئے۔ اس دورمیں انھیں ادب سے کہیں زیادہ سیاست سے دلچسپی تھی اوران کے والد صاحب حسرت کے وطن پونچھ میں ڈاکٹرتھے۔ عام طور پر کرشن دن کوحسرت کے ساتھ عصرجدید کے دفترمیں چلے جاتے تھے اورشام کومیرے ساتھ کرزن پارک جایا کرتے تھے۔ یہاں ہم دنیا جہاں کے مسئلوں پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ اسی بیچ میں حسرت صاحب نے ان کے والد کو ایک خط لکھ کر کلکتے میں ان کی آمد کی اطلاع دے دی۔ یہ خط پا کر ان کے والد نے حسرت صاحب کولکھا کہ وہ انھیں فوراً لاہور روانہ کر دیں، چنانچہ کرشن کوسمجھا بجھا کرلاہور بھیج دیا گیا۔ “

13214993_1060165867404708_311639006_oتعلیمی اداروں سے باہر بھی کرشن چندر خاصے سرگرم رہے۔ 1928ء میں سائمن کمیشن لاہور پہنچا تو ریلوے اسٹیشن پر لالہ لاجپت رائے کی قیادت میں زبردست احتجاج ہوا۔ ”سائمن گو بیک“ کے نعرے لگانے والوں میں کرشن چندر بھی شامل تھے۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج ہوا تو ایک لاٹھی کرشن چندر کو بھی سہنی پڑی، شام کو موری گیٹ پر لالہ لاجپت رائے نے جلسے سے خطاب کیا تو سامعین میں وہ بھی تھے۔ ”کالوبھنگی“ جیسے عمدہ افسانے کے یہ خالق بھنگیوں کی انجمن کا صدر بھی رہے اور ان کے مسائل سے گہری دلچسپی بھی انھیں رہی۔ بی اے کے دوران بھگت سنگھ کی انقلابی پارٹی کا حصہ بنے۔ جیل گئے۔ سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ یہ سرگرمیاں زیادہ لمبا عرصہ نہ کھنچ سکیں اور کرشن چندر نے خود کو صرف ادب کے لیے وقف کر دیا۔ ادب سے ہٹ کر کرشن چندر کی صحافیانہ سرگرمیاں بھی رہیں۔ ”ٹربیون“ میں وہ مضامین لکھتے رہے۔ پروفیسر سنت سنگھ کے ساتھ مل کر ”دی نادرن ریویو“ نام کا پرچہ نکالا، جو گیارہ ماہ جاری رہا۔ فیشن میگزین ”دی ماڈرن گرل“ میں انھوں نے ادارت کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ایک برس لاہور ریڈیو اسٹیشن پر پروگرام اسسٹنٹ کی حیثیت میں کام کیا۔

 کرشن چندر نے لاہور کو اگر یاد کیا تواس کی ایک وجہ تو اس شہر کا وہ ماحول ہے، جس نے ان جیسے کتنے ہی ادیبوں کو اس کی یاد آفرینی پر مجبور کیا۔ شمیم حنفی کے بقول، برصغیر کے لوگوں نے لاہور جتنی محبت سے کسی دوسرے شہرکو یاد نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ کرشن چندرنے برصغیرمیں ایک زمانے میں جو بے پناہ مقبولیت حاصل کی، جس میں کسی دوسرے فکشن نگار کو ان کا ہمسر قرار نہیں دیا جا سکتا، اس کی بنا لاہور میں پڑی، ان کا پہلا افسانہ ”سادھو“1929ء میں ایف سی کالج کے میگزین ”فولیو “میں شائع ہوا، کئی شاہکارافسانے، جنھوں نے انھیں دنیائے ادب میں معتبر مقام دلایا، انھوں نے اس شہر میں بیٹھ کر لکھے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”طلسم خیال“ 1939ء میں مکتبہ اردو لاہور نے شائع کیا۔ ایک سال بعد افسانوں کی دوسری کتاب”نظارے“ بھی ”ادبی دنیا“ لاہور سے چھپی۔ اس مجموعے میں شامل کرشن چندرکا افسانہ ”دو فرلانگ لمبی سڑک“ ان کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ اردو میں کم ہی افسانوں نے اس افسانے کے جتنے اثرات پڑھنے والوں، اور ان سے بڑھ کر لکھنے والوں پر مرتب کئے۔ محمد حسن عسکری کے بقول: ”یوں تو کرشن چندرمقبول ہونے سے کئی سال پہلے لکھ رہے تھے، لیکن جس چیزنے انھیں پڑھنے والوں کے ایک وسیع حلقے سے متعارف کرایا اورانھیں فوری مقبولیت بخشی وہ تھی دو فرلانگ لمبی سڑک۔ “ آگے چل کرلکھا کہ ”یہ افسانہ اردوادب میں ایٹم بم کی طرح آیا تھا۔ “ افسانے میں جس دوفرلانگ لمبی سٹرک کا ذکر ہے، وہ بھی لاہور کی ایک سڑک ہے۔ کرشن چندر کے مضامین کا پہلا مجموعہ ”ہوائی قلعے“ بھی لاہور سے چھپا۔

img196اردوفکشن نگاروں میں جس قدرمحبت کرشن چندرکے حصے میں آئی، اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گی۔ ان کی شخصیت میں جو ایک طرح کی محبوبیت تھی، اس نے انھیں پڑھنے والے ہی نہیں، سینئر ادیبوں، ہم عصروں اورنئے لکھنے والوں کی آنکھ کا تارا بھی بنا دیا تھا۔ اور تو اور پبلشروں سے بھی، جن سے عام طور پر مصنفین کا خدا واسطے کا بیر رہتا ہے، کرشن چندر کے مراسم دوستانہ نوعیت کے رہے۔ ادبی کیریئر کے آغازمیں جن سینئرز نے لاہور میں ان کا حوصلہ بڑھایا، ان میں مولانا صلاح الدین احمد پیش پیش تھے۔ ”ذرے “ کا تفصیلی پیش لفظ ان کی کرشن چندر کے فن سے گہری دلچسپی کی خبردیتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، جس سے اس محبت کا اندازہ ہوجاتا ہے جو امتیازعلی تاج کو کرشن چندر سے تھی۔ احمد ندیم قاسمی جس زمانے میں دار الاشاعت پنجاب میں کام کررہے تھے ادھر ایک روزکرشن چندرآئے اور کہنے لگے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ”نئے زاویے“کے عنوان سے جو انتھالوجی مرتب کر رہے ہیں، اس میں امتیازعلی تاج کا بھی کوئی ڈراما ہو، وہ خود ان سے متعارف نہیں تھے، اس لیے احمد ندیم قاسمی کی مدد چاہتے تھے۔ امتیازعلی تاج کو جب بتایا گیا کہ کرشن چندرآئے ہیں توان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں”میں نے جب امتیازصاحب کو بتایا کہ کرشن چندرآپ سے ملنے آئے ہیں توانھوں نے اتنی مسرت کا اظہارکیا کہ میں حیران رہ گیا۔ کچھ لکھ رہے تھے مگرقلم رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ ”کہاں ہیں کرشن چندر! بلائیے انھیں۔ پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ انھیں ساتھ ہی کیوں نہیں لے آئے؟ “میں کرشن چندر کو لے آیا توامتیازصاحب اس سے اتنی محبت اوراپنائیت سے ملے کہ کرشن کا ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا۔ میں نے امتیازصاحب سے کرشن چندر کی آمد کا مقصد بیان کیا۔ انھوں نے کہاکہ ”وہ نئے زاویے“ کے لیے ڈراما ضرور لکھیں گے۔ اس کے بعد وہ کرشن کے افسانوں کی تعریف کرنے بیٹھے تویوں معلوم ہوتا تھا جیسے ایک ندی ہے جو گلپوش جھاڑیوں سے لدی ہوئی ایک وادی میں حد نظرتک بہے جارہی ہے۔ “یہ توایک مشہورومقبول ادبی شخصیت کے کرشن چندرسے تعلق خاطرکی بات ہے اب ذرا اس زمانے میں ادبی میدان میں نووارد محمد خالد اخترکا بیان بھی سن لیں ” ایک دن ندیم (احمد ندیم قاسمی) نے مجھے ایک نوجوان مصنف کے بارے میں بتایا، ماسٹرآف آرٹس نوجوان جس نے ”ادب لطیف“میں اپنی پہلی ایک دو کہانیوں سے ادبی دنیا کو ایک ہی ہلے میں سر کر لیا تھا اور ہر کوئی اس کی باتیں کر رہا تھا۔ اس طرح ہم کرشن چندرسے اس کے داتا دربار کے قریب واقع اخباری دفترمیں جا ملے۔ ایک ہندو بیوہ خاتون نے انگریزی میں ایک ماہوارفیشن میگزین کی اشاعت کا آغاز کیا تھااوراس کی ادارت کے فرائض غالباً پچھتر روپے ماہوار مشاہرے پر کرشن چندرکو سوپنے گئے۔ اس بوٹے سے قد، سرمگیں مفکرانہ آنکھوں والے خوبصورت نوجوان کو میں نے پسند کیا۔ اس کی گفتگو دھیمی، سلجھی ہوئی اوردلچسپ تھی۔ “

072c1cde92ddایف سی کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد والد کی خواہش پر بادل نخواستہ کرشن چندر نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی تو کر لیا مگر وکالت کرنے پران کی طبیعت مائل نہ ہوئی تو انھیں علامہ اقبال کی شاعری پر ڈاکٹریٹ کا خیال سوجھا، جس کو پنجاب یونیورسٹی نے پذیرائی نہ بخشی۔ یاد رہے کہ فیض احمد فیض جس زمانے میں ایم اے اوکالج امرتسرمیں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے پڑھارہے تھے، تو ان کا بھی جدید اردوشاعری پر ڈاکٹریٹ ارادہ بنا تھا، اوراس سلسلے میں انھوں نے تحقیقی مقالے کا خاکہ بھی جمع کرایا، مگر پنجاب یونیورسٹی کو گوارا نہ ہوا کہ وہ ”ڈاکٹر“ بنیں۔ کرشن چندرکے ڈاکٹر بننے کی راہ میں معروف اسکالر داﺅد رہبر کے عالم فاضل والد رکاوٹ بنے۔ کنھیا لال نے ان کے ساتھ کرشن چندر کے مکالمہ کو موقع کے گواہ کے طور پر یوں بیان کیا ہے۔

” انھیں بتایا گیا کہ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد اقبال، صدرشعبہ فارسی اورینٹل کالج لاہور ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ایک دن وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر ڈاکٹر محمد اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ بڑی بے رخی کے ساتھ پیش آئے۔ فرمایا:

”ریسرچ کے معنی ہوتے ہیں، گمشدہ کی تلاش۔ اقبال کے متعلق ایسے کون سے واقعات ہیں، جن کو آپ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ “

کرشن چندر بولے:میرا موضوع ہو گا، ”اقبال بحیثیت شاعر۔ “

”اس پر تو آپ سے پہلے کئی لوگ لکھ چکے ہیں۔ “

”میں اپنے نقطہ نظرسے لکھنا چاہتا ہوں۔ “

”آپ کا نقطہ نظرکیا ہے؟ “

”اقبال فطرتاً ترقی پسند شاعر ہیں۔ “

”لیکن انھوں نے کبھی ترقی پسند شاعرہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ “

”اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ “

”فرق کیوں نہیں پڑتا۔ یہ تومدعی سست اورگواہ چست والی بات ہے۔ “

بعض اوقات شاعراپنی عظمت سے واقف نہیں ہوتا۔ آپ شیکسپیئرکی مثال لے لیجئے۔ “

یہ آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا کہ اقبال اپنی عظمت سے واقف نہیں۔ “

”خود اقبال نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ “

”کہاں؟ “

”ان کا یہ مصرع آپ کی نظرسے گزراہوگا

اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے

اور پھر ان کا وہ شعر

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبال اپنے آپ کو

آپ ہی گویا مسافرآپ ہی منزل ہوں میں

”وہ توشاعرانہ تعلی ہے۔ خیرآپ کی فارسی کی استعداد کتنی ہے؟ “

”خاصی ہے۔ “

”خاصی سے کام نہیں چلے گا۔ “

”کیا آپ کو صرف یہی اعتراض ہے؟ “

”یہ بھی ہے۔ لیکن سب سے اہم اعتراض یہ ہے۔ اقبال ابھی تک زندہ ہیں اورہم کسی زندہ شخصیت پرکسی شخص کو تھیسز لکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ “

کرشن چندرکو ڈاکٹرمحمد اقبال کے آخری فقرے سے کافی رنج پہنچا۔ کئی دن وہ اس ذہنیت کو کوستا رہا۔ ”ہم بھی عجیب مردہ پرست واقع ہوئے ہیں۔ جب تک کوئی ادیب اللہ کو پیارا نہ ہوجائے اسے ادیب ہی نہیں سمجھتے۔ “

14553592906_d2b37fcf70_b علامہ اقبال کو ترقی پسند تحریک کے سرکردہ افراد نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کسی نے انھیں فاشسٹ قراردیا توکسی نے رجعت پسند۔ نمایاں ترقی پسندوں میں فیض احمد فیض کے بعد کرشن چندر وہ ادیب ہیں، جنھوں نے اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف، اس زمانے میں کیا، جب وہ ترقی پسندوں میں مقبول نہیں تھے۔ کرشن چندر نے اقبال پر ڈاکٹریٹ کرنے کا ہی ارادہ ظاہرنہیں کیا بلکہ ان کی وفات پر ”ٹربیون‘ میں تعزیتی مضمون لکھا اوران کی چند نظموں کا ترجمہ کیا۔ ”ادبی دنیا“ میں بھی اقبال پر ان کا تعزیتی مضمون شائع ہوا، جس سے ہم ایک اقتباس نقل کررہے ہیں، تاکہ اس قدر و منزلت کا اندازہ ہوسکے جوکرشن چندرکے دل میں اقبال کے لیے تھی۔

 ”اقبال دور جدید کا شاعر ہے، ایشیا کی حیات ثانی اور بیداری کے زمانے کا۔ اس نے مغربی فلسفے کی مادہ پرستانہ تنگ نظری کے خلاف اس وقت علم بغاوت بلند کیاجب کہ بادی النظرمیں مغرب ہرحیثیت سے مشرق پرقابض ہو چکا تھا اورعوام ایک ایسے وقت کے منتظرتھے جب مشرقی تہذیب مجموعی حیثیت سے مغربیت کے طوفان میں گم ہوجانے والی تھی۔ اس نازک موقعے پراقبال نے اپنا سب سے پہلا نعرہ جنگ بلند کیا۔

شفق نہیں مغربی افق پر یہ جوئے خوں ہے یہ جوئے خوں ہے

طلوع فردا کا منتظر رہ کہ دوش وامروز ہے فسانہ

یہ آوازمشرق کے سرگوشیاں کرتے ہوئے ایوانوں میں گونجتی ہوئی نکلی اور ایک عالم کو حیرت زدہ کر گئی۔ مغرب نے کبھی اقبال کو کماحقہ نہیں سراہا، باوجودیکہ چند ایک انجمنیں اقبال کے نام سے لندن، اوکسفورڈ، برلن اور پیرس میں موجود ہیں۔ مغرب کبھی اقبال کا ہمنوا نہیں ہوسکتا، ابھی وہ اقبال کے غلغلہ اندازپیغام کوسننے کے لیے تیارنہیں۔ ممکن ہے، آج سے کچھ عرصے بعد جب کہ مغربی تہذیب اچھی طرح کچلی اورروندی جا چکے گی تومغرب اقبال کے پیغام پرکان دھرنے پر زیادہ آمادگی ظاہر کرے۔ “

کنھیا لال کپور کے بقول”وہ اقبال کا پرستارتھا۔ مجھے بھی شاعرمشرق سے بے پناہ عقیدت تھی۔ لیکن میں اسے محض چڑانے کے لیے اقبال کا شعر چٹکیوں میں اڑاتا، کبھی کہتا خیال فرسودہ ہے۔ فلاں شاعرسے چرایا گیا ہے، کبھی اعتراض کرتا زبان سے پنجابیت ٹپکتی ہے۔ کرشن چندرمشتعل ہوکربحث کرنے لگتا۔ “

لاہور سے کرشن چندرکو جو محبت تھی اسے جاننے کے واسطے انھوں نے محمد طفیل سے اپنا افسانہ ”لاہور کی گلیاں “ پڑھنے کو کہااورساتھ میں یہ بھی بتایا کہ اس عنوان سے حجاب امتیاز علی نے بھی افسانہ لکھ رکھا ہے۔ محمد طفیل جس زمانے میں ”نقوش“کا لاہور نمبرمرتب کررہے تھے، انھوں نے کرشن چندرسے اس شہرسے جڑی یادوں کے بارے میں تحریر کا تقاضا کیا، تو کرشن چندرنے انھیں تجویزدی کہ اس نمبرمیں لاہور سے متعلق افسانوں کو بھی شامل کریں۔ ”لاہور کی گلیاں“ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ”لاہور میں لوہاری گیٹ کے اندرایک چوک ہے۔ چوک متی۔ اس چوک متی کے اندر، ہماری گلی تھی کوچہ پیر شیرازی۔ “ افسانے میں اس گلی کے ان ساکنوں کے بارے میں کرشن چندرنے بیان کیا ہے، جوبڑے کھلے ڈلے ذہن کے لوگ تھے، اورآپس میں بغیرکسی تعصب کے زندگی کررہے تھے۔ اس میں دتے موچی، چندوپان والے، غلام قادر رنگ ساز، بچن سنگھ بڑھئی اور دھنونتری حکیم کا ذکر ہے۔ ہاں! اس گلی میں کتابوں کی ایک دکان بھی تو ہے، جس کا احوال کرشن چندر کی زبان سے ہی سنیے”۔۔۔۔ ذرا آگے جا کر جے۔ ایس، سنت سنگھ کی کتابوں کی دکان تھی۔ جے ایس سنت سنگھ، قرآن مجید چھاپتے تھے۔ ان کے پاس اگر چھ پیسے کا اردو قاعدہ خریدنے بھی جانا پڑے توجوتے باہر اتار کردکان میں داخل ہونا پڑتا تھا، وہاں بھورے بھورے کاغذوں پر میلی میلی جلدوں کے اندر سینکڑوں کتابیں تھیں، جن سے بانس کی سوندھی سوندھی مہک آتی تھی۔ وہ خیال جوتاریخ کا حصہ بن گئے، وہ خیال جوآج بھی سینے میں شرافت کی طرح کبھی کبھی کروٹ لیتے ہیں اوردکان کی دیوارسے لگا ہوئے لکڑی کے بکسے کو سامنے رکھے ایک بڈھا منیم آنے پائیاں اس تقدس سے گنتا تھا، جیسے وہ آنے پائیاں نہیں، مالا کے منکے گن رہا ہو۔ “

 افسانے کے اختتام پر اس گلی کے بارے میں تاثرات کو کرشن چندرنے کچھ اس اندازمیں بیان کیا ہے۔ ”یہ گندی گلی، میلی گلی، اجلی گلی، کمزور گلی، بہادر گلی، بدبودارگلی، مہکتی ہوئی گلی، ان پڑھ گلی، کتابوں سے بھری ہوئی گلی، یہ گلی میرے سینے میں ہمیشہ آباد رہتی ہے۔ جب کبھی انسانیت میں میرا ایمان ڈگمگانے لگتا ہے، میں اس گلی کی خاک کو اپنی آنکھوں سے لگا لیتا ہوں اور پھرزندہ ہو جاتا ہوں۔ اس لیے میرا یہ عقیدہ ہے کہ جتنے انسان ہیں وہ اس گلی میں رہتے ہیں اور جتنے آسیب ہیں، وہ اس گلی سے باہر رہتے ہیں۔ “

 اور آخر میں ہم اس مضمون کو”افکار“ کے ایڈیٹر اور کرشن چندر کے دوست صہبا لکھنوی کی اس بات سے اتفاق کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ کرشن چندر جسمانی طور پر بھلے ہی بمبئی میں آباد تھے لیکن ان کا دل اور روح لاہور کے گلی کوچوں میں سیر کرتی رہی۔


Comments

FB Login Required - comments