تحریک انصاف کو ایم کیو ایم سے تعاون کی ضرورت کیوں پیش آئی؟


25 جولائی کے انتخابات میں ایم کیوایم کراچی سے قومی اسمبلی کی صرف 4، حیدرآباد سے 2 اور صوبائی اسمبلی کی 16 سیٹوں تک محدود ہو گئی، جبکہ 2013 میں قومی اسمبلی کی 25 اور صوبائی اسمبلی کی 50 نشستیں اس کے پاس تھیں، اس نقصان کے ازالے کے لئے ایم کیوایم نے پاکستان پیپلز پارٹی پر پاکستان تحریک انصاف کو ترجیح کیوں دی اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ واضھ رہے کہ گزشتہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے پاس کراچی سےقومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین سیٹیں تھیں جبکہ اب قومی اسمبلی کی  14 اور صوبائی اسمبلی کی 20 سیٹیں ہیں حالات مکمل بدل گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے تمام عملی وجوہات کی بنا پر صرف کچھ فرق کے باعث کراچی میں ایم کیوایم کی جگہ لے لی اور وہ فرق ہی دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی وجہ بنا۔

کراچی میں حیران کن نتائج کے باجود پاکستان تحریک انصاف کا ایم کیوایم کے ساتھ کوئی بڑا تنازع نہیں ہے یہ مفاہمتی یادداشت میں بھی نظر آتا ہے۔ ان کی سیاست اورطاقت مختلف ہیں۔ ایم کیوایم معاہدے پر دستخط کرنےکے بعد اپنی حدود سےآگاہ ہے، انھوں نے پی ٹی آئی اور عمران خان کا ساتھ  دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کےایم کیوایم کےنظریات کی توثیق کی ہے۔ پی ٹی آئی کے لئے کراچی کےمعاہدے پرچند تحفظات ہونے کےباوجود یہ آگے بڑھنے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے۔

ایم کیوایم (پاکستان) نے پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا کیونکہ پی پی پی کو انھیں اتحادی بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کیونکہ وہ کسی اتحادی کے بغیر ہی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ دوئم، 2013 کےالیکشن کے بعد پی پی پی کی لیڈرشپ نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ شہر کو کنٹرول کریں گے اور ترقیاتی کاموں کے ذریعےاسے جیتنےکی کوشش کریں گے۔ ایم کیوایم (پاک) جو پہلے ہی مشکل ترین وقت سے گزر رہی ہے وہ مرکز کی جانب دیکھ رہے ہیں چونکہ پی ٹی آئی کو نا صرف وزیراعظم کےانتخابات بلکہ ستمبر میں ہونےوالے صدارتی انتخابات کیلئے بھی ان کے چھ ایم این ایز کی ضرورت ہے، لہذا انھوں نے مثبت جواب دیا جب ان سےعمران کی حمایت کرنے کا کہا گیا تھا۔ ایم کیوایم جانتی تھی کہ معاہدے کے زیادہ تر نکات کا تعلق سندھ حکومت سے تھا خاص طور پر مقامی حکومت کو مضبوط کرنے کا، وزیراعظم اور مرکز کراچی آپریشن اور خاص طور پر ایم کیو ایم کے’بند دفاتر‘ اور لاپتہ افراد کے مقدمات سے متعلق ان کے خدشات دور کرنے کیلئے اپنا اثراستعمال کرسکتے ہیں۔

ایم کیوایم(پاک) چاہتی ہے کہ اسے 22 اگست 2016 کےبعد والی ایم کیوایم کے طور پر دیکھا جائے جس نے ماضی دفن کر دیا ہے۔ ان کی اپنی سنجیدہ مشکلات اور اندرونی تنازعات ہیں اورجب تک وہ اپنے تنظیمی اور اختلافی مسائل پر قابو نہیں پاتے تب تک انھیں اس مفاہمتی یاداشت سے کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی جوایک وفاقی پارٹی اور پہلی قومی جماعت ہے جو مرکز میں حکومت سازی کررہی ہے اور کراچی سے بھی اکثریت حاصل کی ہے۔ وہ ایم کیوایم کو ایک جونیئر پارٹنر کے طور پر سلوک کریں گےلیکن عمران کا ماننا ہے کہ انھیں ان کے متنازع ماضی کے باعث نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

سیاسی طور پر پی پی پی کو کئی وجوہات کی بنا پرایم کیوایم کا قدرتی اتحادی ہوناچاہیےتھا۔ دونوں شہری اور دیہی علاقوں کی نمائندہ ہونے کے باوجود سندھ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ پی پی پی نے ہمیشہ دیہی سندھ سے اکثریت حاصل کی ہے اور کبھی شہری سندھ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔ ایم کیوایم شہری علاقوں تک محدود رہی جیسا کےکراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھروغیرہ۔ لہذا جب بات حلقوں کی ہوتی ہے تو مفادات کا کوئی ٹکرائو نہیں تھا۔ جب بات اقتدار بانٹنے کی ہوتی ہے تو ایک دوسرے پر بداعتمادی کےساتھ ہمیشہ ان کے مفادات کا ٹکرائو ہوتا تھا، جس کے باعث ہمیشہ معاہدہ ٹوٹ جاتا تھا۔ دوئم، کچھ خفیہ ہاتھ بھی تھےجو کبھی شہری اور دیہی سندھ کےفاصلے کو کم نہیں ہونےدینا چاہتے تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے اس وقت ایم کیوایم اور جئےسندھ کےدرمیان تنازعات پیدا کیے جب 1986- 87 میں وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تھے۔

1988 میں جب پی پی پی نے سادہ اکثریت کے باجود ایم کیوایم کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے اور فاصلے کم کرنے کی کوشش کی، تو ان ہی ’ہاتھوں‘ نے سابق وزیراعظم مرحوم بے نظیربھٹو کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لینے کیلئےاور اس وقت کی آئی جے آئی کی حمایت کیلئے پہلےایم کیوایم کو استعمال کیا اور جب اسے شکست ہو گئی تو پارٹی کو ان کی حکومت غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، اور بالآخر اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ باقی سب تاریخ ہے کہ کس طرح ایم کیوایم کےعسکری گروہ کو پی پی پی حکومت برطرف کرنے کیلئے استعمال کیا گیا اور پھر پی پی پی کو اندرونی سندھ میں محدود کرنے کے بعد ایم کیوایم کو محدود کر دیا گیا۔

پی پی پی اور ایم کیوایم اکٹھے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے تھے اور غلط فہمیوں کو دور کر کے فاصلے کم کر سکتے تھے۔ ان کے’پیار اور نفرت‘ کے رشتےکی ایک اور وجہ یہ ہے کہ انھوں نے کبھی بھی کارکنوں کی سطح پر فاصلے کم کرنے کی کوشش نہیں کی اور صرف حکومتی سطح پر ہی معاہدوں تک محدود رہے۔ پی پی پی اور ایم کیوایم کی مشکلات موجود ہوتے ہیں جب وسائل کی تقسیم اورکوٹہ سسٹم کے معاملات کی بات ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ڈاکٹرعارف علوی جنھوں نے اپنی پارٹی کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے وہ کہتے ہیں، ’’ ہمیں ایم کیوایم کی جانب ایک نئی پارٹی کے طور پر دیکھنا ہے جس کی تخلیق 22 اگست کے بعد ہوئی اور انھیں ایک موقع دینا چاہیے کیونکہ وہ کراچی کی پارٹی ہے۔‘‘ ایک بار مرکز اور صوبوں کی حکومت بن جائےتو پی ٹی آئی سندھ حکومت کو بھی دیکھ لے گی اور کراچی آپریشن پر اگر تحفظات ہوئے تو انھیں دور کرنے کیلئےایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی بنا سکتی ہے۔ تاہم مفاہمتی یادداشت کے چند نقادوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایم کیوایم کی حمایت نہ مانگتی اگر وہ بہترحالت میں ہوتے اور آزاد امیدوار، بی اے پی اور پی ایم ایل(ق)، ایم کیوایم (پاکستان) کی حمایت طلب کرنا ان کی ’مجبوری‘ بن چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک اور سینئررہنما نعیم الحق بھی معاہدے سے متعلق پُرامید ہیں کہ دونوں میں کافی چیزیں مشترک ہیں۔ وہ کہتے ہیں،’’ ہمیں ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا۔ کراچی پاکستان کی معیشت اور تجارت کا مرکز ہے اور پی پی پی حکومت نے ماضی میں اسے نظرانداز کیا ہے۔ ہمیں شہر کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔‘‘ ایم کیوایم (پاک) کو سنجیدہ مشکلات کا سامنا ہے اور   25 جولائی کے نتائج نےانھیں کچھ جگہ فراہم کی ہے اور اگر وہ اس مفاہمتی یادداشت سے کچھ حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور اپنےاختلافات ختم کر کے اور اپنی سیاست میں اصلاحات لا کر خود کو دوبارہ منظم کر لیتے ہیں تو وہ ضمنی الیکشن اور مستقبل کے بلدیاتی الیکشن میں اپنی پوزیشن بہتر کرسکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں