اکیلا باپ، ڈومیسٹک پارٹنر اور نیو جرسی میں ٹوٹنے والی منگنی


میں امریکا بہت آسانی سے پہنچ گیا تھا۔ کراچی میں کمپیوٹر انجینئرنگ میں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے بعد کراچی میں بیٹھے بیٹھے مجھے مائیکرو سافٹ میں نوکری مل گئی اور ان کی طرف سے ہی میرے ویزے اور امیگریشن کے انتظامات کیے گئے تھے۔ مجھے اسلام آباد جانا پڑا تھا، جہاں سے کام کرنے کی اجازت والا ویزا لگ گیا تھا۔ سب کچھ اتنی آسانی سے ہوگیا کہ مجھے یقین ہی نہیں آیا کیوں کہ امریکا جانا اور جانے کے لیے ویزے کے حصول کے سلسلے میں عجیب عجیب کہانیاں سننے میں آتی تھیں ایسا لگتا تھا کہ جیسے امریکا جانا ناممکن ہے۔

یہ مجھے بعد میں پتہ چلا تھا کہ جن لوگوں کو امریکا کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لیے ویزا وغیرہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ امریکی نظام کچھ اس طرح سے کام کرتا ہے کہ اپنے شعبے میں کام کرنے والا تھوڑا سا بھی تیز آدمی امریکا کو درکار ہوتا ہے تو اس کے لیے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں اورا ن کے کاغذات وغیرہ صحیح ہوتے ہیں انہیں بھی ویزا کے حصول میں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح سے وہ لوگ جو جاتے تو کوئی دو نمبر کام کرنے کے لیے ہیں لیکن ان کے جعلی کاغذات اتنے صحیح جعلی ہوتے ہیں کہ بالکل ہی صحیح سمجھے جاتے ہیں۔ پھنستے تو صرف وہ ہیں جن کے کاغذات سے لے کر بیانات تک سب کچھ صحیح ہوتے ہیں مگرکسی کے غیرضروری مشورے کی وجہ سے وہ کبھی جھوٹ بول دیتے ہیں اور پکڑے جاتے ہیں۔ امریکا میں جھوٹ بولا جاسکتا ہے اس وقت تک جب تک پکڑا نہ جائے اگر پکڑے گئے تو پھر ان کو ویزا نہیں ملتا ہے۔ یہ جھوٹ ان کے دائمی ریکارڈ کا حصہ بن جاتاہے جس سے جان چھڑانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔

مجھے شیاٹل میں پتہ چلا کہ ایک صاحب جو این ای ڈی انجینئرنگ کالج کے طالب علم بھی نہیں تھے مگر وہاں کے دوسرے سال کے طالب علم بن کر امریکا گھومنے کے لیے ویزے کی درخواست دی تھی۔ ان کے کسی این ای ڈی کے دوست نے کالج سے ان کے لیے جعلی داخلے کا کارڈ بنوا لیا تھا، ان کے پاس اپنے والد کی نوکری کا جعلی سرٹیفکیٹ تھا، ان کے اپنے نام سے پلاٹ کے جعلی کاغذات تھے، والد کی جانب سے انہیں ملنے والی ٹویوٹا گاڑی کے مالکانہ حقوق کی سند تھی، انہوں نے ویزا مانگا تھا کہ امتحان میں پاس ہوکر وہ امریکا سیاحت کرنے جارہے ہیں۔ انہیں ویزا مل گیا۔ امریکا جا کر انہوں نے پاسپورٹ پھینک دیا ۔ پھر امریکا تھا اور وہ تھے، اس زمانے میں اتنی سختی نہیں تھی اور ہر چیز کا اندراج نہیں ہوتا تھا۔ امریکا نے ان کے ساتھ برا نہیں کیا۔ انہوں نے امریکا کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی، امریکی قانون کے مطابق انہیں گرین کارڈ پھر شہریت، عزت نوکری بھی مل گئی۔ اب وہ امریکا میں امریکی بیوی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔یہ واقعہ صرف ان کے قریبی دوستوں کو پتہ ہے۔

جس وقت میں مائیکروسافٹ میں نوکری کے لیے فارم وغیرہ بھر رہا تھا تو مجھے کئی رشتے داروں اور دوستوں نے مشورے دیے جن میں ویزا حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کن کن جعلی طریقوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ آج میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں نے ان تمام طریقوں کو خوب خوب استعمال کیا ہے۔ امریکا کے ہر شہر میں آپ کو ایسے پاکستانی مل جائیں گے جن کے پاس اپنی اپنی عجیب و غریب کہانیاں ہیں۔

کچھ لوگوں نے احمدی اور شیعہ بن کر اس بنیاد پر پناہ لے لی کہ انہیں زبردست مذہبی منافرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، کچھ جن کا سیاست سے نہ تعلق تھا اور نہ ہی سیاسی تھے وہ سیاسی پناہ گزین بن گئے اور پاکستان سے ان کے لیے ہرقسم کے کاغذی ثبوت بھی آگئے مثال کے طور پر پولیس کی جعلی ایف آئی آر، جعلی اخباروں میں چھپی ہوئی خبریں جس کے مطابق ان پر تشدد کیا جا رہا تھا وغیرہ وغیرہ ۔ ایک زمانے میں پیپر میرج یعنی کاغذی شادی تو ایک عام بات تھی۔ ایسی لڑکیاں مل جاتی تھیں جو کچھ پیسے لے کر کچھ عرصے کے لیے کاغذی طور پر بیوی بن جاتی تھیں۔ بعد میں گرین کارڈ کے حصول کے ساتھ ہی کاغذ پر ہی طلاق بھی ہوجاتی تھی۔ اس کام میں صرف پاکستانی ہی ماہر نہیں ہیں، غریب دنیا کے غریب لوگ، سوڈان، صومالیہ سے لے کر ہندوستان، بنگلہ دیش اور نائیجیریا سے لے کر عراق شام تک ہر مذہب، نسل، ذات کے لوگ امریکا آنے کے لیے بہت کچھ اور سب کچھ کرتے رہے ہیں۔ ایک دنیا ہے کہ امریکا آنا چاہتی تھی، چاہتی ہے۔ حالات کے مطابق قانون بنتے ہیں اور انہیں واپس بھی کیا جاتا ہے لیکن لگتا نہیں ہے کہ امریکا کی جانب سفر پر مکمل پابندی لگائی جاسکے گی۔ کچھ چھپ کر، بچ کر آئیں گے اور کچھ  کوامریکا خود بلائے گا۔

میرا مسئلہ اور تھا، میں چار بہنوں پر ایک بھائی تھا۔ میری بڑی بہن کی شادی ہوگئی تھی اورمجھ سے چھوٹی بہنیں اسکول کالج میں پڑھ رہی تھیں۔ میرے والد ریلوے میں کام کرتے تھے اور بڑی مشکل سے سفید پوشی کر کے گزارہ کررہے تھے۔ نہ جانے کتنی مشکلوں سے انہوں نے باجی کی شادی کی تھی۔ میری تعلیم کی فیسوں کا انتظام کیا تھا اور چھوٹی بہنیں بھی مناسب تعلیم حاصل کررہی تھیں میں پڑھائی لکھائی میں اچھا تھااور محنت کرکے کمپیوٹر انجینئرنگ میں بہت اچھے نمبر حاصل کرکے پاس ہوا۔ مجھے اور میرے جیسے چند اور دوستوں کو امریکا میں نوکری ملنے میں کسی بھی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہمارے اچھے نمبر تھے۔ کام آتا تھا انہیں ہماری ضرورت تھی اس لیے ہمیں قانون کے مطابق ویزا بھی مل گیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان سے نکلنے کے لیے ابتدائی تنخواہ بھی پیشگی ادا کردی گئی تھی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں