عملیات اور جنات کی مدد سے بہترین کابینہ کا انتخاب


میں تو ہمیشہ سے جنات اور روحانی طریقے سے فیصلے کرنے کا قائل تھا۔ 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی کہانی سناتا ہوں۔ ٹیم بنانے کے لیے میرے پاس مکمل اختیار تھا۔ یعنی میں صرف کپتان ہی نہیں بلکہ کرکٹ ٹیم کا وزیر اعظم بھی تھا۔ ٹیم میں شامل کرنے کے لیے کچھ نئے لوگوں کے نام سامنے آئے۔ اب یہ ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے روحانیت اور جنات سے مدد لی اور انضمام کو ٹیم میں شامل کر لیا۔ اور پھر آپ سب لوگوں نے دیکھا کہ اس کی وجہ نہ صرف ہم ورلڈ کپ جیت گئے بلکہ وہ بعد میں ایک بہت ہی نیک آدمی بھی بن گیا۔ وہ بھی جنات اور روحانیت کو ماننے والا ہے۔ میں اور جمائمہ انضمام کی بیٹنگ، ٹوپی اور مزاحیہ طبیعت کے بڑے فین ہیں۔ وہ ابھی تک کی درمیان “والی” جو حنیف عباسی کے ساتھ مل کر کتابیں لکھنے لگی ہے وہ انضمام کو کچھ خاص پسند نہیں کرتی تھی۔ کنٹینر لائف کے شاندار دنوں میں جب شیخ رشید کے ساتھ مل کر جب میں چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کو للکارتا اور انہیں انگلی سے ڈراتا تھا، انہیں ان کی بھیگی شلواروں کی نوید سناتا تھا اور شادی کا اعلان کرنے کے نشے میں چور تھا تو میں نے اس وقت بھی انضمام کو ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی لیکن مستقبل کی لکھاری نے اس بات کی مخالفت کی تھی۔ میں البتہ اس وقت جنات اور روحانیت سے مدد لینا بھول گیا۔ رخصتی بھی تو نہیں ہوئی تھی۔

جاوید میانداد بہت اچھا تھا اسے روحانیت، استخارہ، جنات اور پیسوں سے بہت دلچسپی تھی۔ کراچی میں کنٹینر پر کھڑے ہو کر اس نے مجھے کسی بابا جی کا بتایا ہوا ایک ورد سکھایا تھا۔ اس ورد کی وجہ سے ہمارا جلسہ اور میری تقریر بہت اچھی گئی۔ اسی ورد کا نتیجہ تھا کہ ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ گئی اور ہمیں کراچی سے ڈاکٹر عامر لیاقت جیسا عالم فاضل (بی اے اور پی ایچ ڈی ایگزیکٹ یونیورسٹی) اور بہت سی سیٹیں بھی ملی ہیں۔ اب تو اور بھی پکا ہو گیا کہ یہ سب بابا جی کے بتائے ہوئے ورد کا ہی کمال تھا۔

یہ ابھی تک کی درمیانی شادی کا فیصلہ میں نے کسی روحانی یا جنات کی مدد کے بغیر کیا تھا تو بہت مہنگا پڑا۔ شکر ہے الیکشن پر کتاب کا کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ حنیف عباسی اور شہباز شریف بہت خوش تھے کہ ہمارا الیکشن تباہ ہو جائے گا۔ حالانکہ انہیں بھی اپنے تجربے سے معلوم تھا کہ اس دفعہ ہم ووٹرز پر زیادہ بھروسہ نہیں کر رہے تھے۔ جیسا کہ مسلم لیگ نواز نے بھی ماضی کے کئی الیکشنوں میں ووٹرز پر کم ہی بھروسہ کیا۔

خیر تو میں بتا رہا تھا کہ ابھی تک کی درمیانی شادی کا فیصلہ بغیر کسی روحانی مدد کے کیا تھا تو اس کے بہت سے نقصانات ہوئے لیکن ایک فائدہ ہوا۔ اس نے کتاب لکھ دی ہے اب آئندہ کسی بیوی کو مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں، وہ خود ہی سارا کچھ پڑھ کر آئے گی۔ خیر یہ ذاتی معاملات ہیں اور میں ان بات نہیں کرنا چاہتا۔

تیسری شادی کے متعلق سارے فیصلے جیسا کہ شادی کب کرنی ہے اور شادی کرنے کے کتنے عرصے کے بعد رشتہ بھجوانا ہے یہ سب کچھ روحانی طریقے اور جنات کی مدد سے کیے گئے۔ سبھی بہت شاندار ثابت ہوئے۔

پی ٹی آئی میں سبھی لوگ فیصلے کرنے کے اس طریقے کے معتقد ہو چکے ہیں۔ جب شادی اور طلاق جیسے اہم فیصلے اس طریقے سے ہو سکتے ہیں تو ظاہر ہے وزیر اعلی اور کابینہ کے ناموں کا انتخاب بھی اسی طریقے سے ہی ہونا چاہیے اور ہو رہا ہے۔ بنی گالہ کے ایک بند کمرے میں “چلہ” جاری ہے۔ پی ٹی کی ٹاپ لیڈرشپ باہر اجلاس کر رہی ہے۔ جو نام اندر سے منتخب کر کے بھیجا جائے گا اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس طرح سے پاکستان کو صوبائی اور قومی سطح پر بہترین لیڈرشپ ملے گی۔

ایک بہترین فلاحی ریاست کا آغاز ہونےکو ہے۔ بس ایک دفعہ نمبر گیم کا مسئلہ حل ہو جائے۔ ہاں یہ بتاتا چلوں کہ آزاد اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت آخری غیر اخلاقی، غیر قانونی عمل ہے جو وزیر اعظم بننے کا نیک مقصد حاصل کرنے کے لیے کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست کا آغاز ہو جائے گا۔

اسلامی فلاحی ریاست میں احتساب کا عمل بلا تفریق ہو گا۔ اس سلسلے میں ہم کے پی کے اپنے پانچ سالہ دور میں نمونہ دے چکے ہیں۔ کوئی مالی بدعنوانی نہیں تھی حتی کہ ہمیں کے پی نیب کا صوبائی دفتر بند کرنا پڑا۔ ہماری اگلی حکومت میں نیب سب سے پہلے مجھے یعنی وزیراعظم کو پکڑے گی اور پھر کابینہ کی باری آئے گی۔ کچھ لوگوں نے میرے اس بیان کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے کہ نیب ڈیڑہ دو سال بعد مجھے پکڑنا شروع کرے گی اور پھر اس کے پاس بہانوں کی کمی نہیں ہو گی۔ یہ سب غلط اندازے ہیں اور جنات ایسا نہیں بتا رہے۔

خیر تو میں بات کر رہا تھا عملیات اور جنات کی مدد سے اہم فیصلے کرنے کی، تو یہ ٹیکنیک مغرب میں بھی مقبول ہونے والی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی والے اپنا نیا وی سی لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اور ہم نے ان کی مدد کرنے کا سوچ بھی لیا ہے۔ روحانیت اور جنوں کی مدد سے یونیورسٹی کے اہم عہدوں کے لیے جنات کی مدد سے منتخب لوگ ہی اپنے طالب علموں کی تربیت کر پائیں گے کہ وہ اپنی ذات اور ملک و قوم کے لیے سیاست، معیشت اور ترقی کے دوسرے اہم شعبوں میں درست فیصلے کر سکیں۔

یہ سلسلہ تو چل پڑا ہے۔ جنات کی مدد سے پی ٹی آئی کی حکومت کی کابینہ کا انتخاب ہونے کو ہے۔ آگے بھی اہم سیاسی اور معاشی فیصلے جنات کی مدد سے ہوں گے اور پاکستان ایک ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ریاست بن جائے گا۔ ساری دنیا سے لوگ اہم فیصلوں کے لیے پاکستان کی طرف رجوع کریں گے۔ بنی گالہ جنات کی مدد دنیا کی رہنمائی کرے گا۔ اس کا کل خرچہ ایک کالے بکرے کا صدقہ روزانہ ہے۔ کیونکہ جنات صرف گوشت ہی کھاتے ہیں۔ پہلے بلا بلا ہو گیا ہے اور پھر بلے بلے ہو جائے گی۔ کچھ نا عاقبت اندیش یہ سجھتے ہیں کہ دو اڑھائی سال کے اندر اندر ڈی این اے ٹیسٹ اور آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کے حسین امتزاج سے یہ سلسلہ روک دیا جائے گا۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 184 posts and counting.See all posts by salim-malik