دیانت داری کی کمائی


مالی بدعنوانیوں کا غلغلہ برپا کرنے والے صرف عمران خان ہی نہیں ہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ملکوں کے سیاستدان اقتدار میں آنے کا یہ ” گر ” اپنا چکے ہیں اور بیشتر کامیاب بھی رہے۔ مالی بدعنوانی کی بیخ کنی کرنے میں نہیں بلکہ اقتدار پا لینے میں۔

 کسی بھی ملک میں محض وہ لوگ ہی نہیں چاہتے کہ مالی بدعنوانیاں تمام ہوں جو ایسا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ ویسے تو بہت زیادہ لوگ ملوث ہوتے ہیں لیکن زیادہ مفاد حاصل کرنے والے، کم مفاد حاصل کر پانے والوں یا مفاد لینے میں ناکام رہنے والوں یا خواہش ہوتے ہوئے بھی مالی بدعنوانی کرنے کی ہمت نہ کر پانے والوں یا مالی بدعنوانی بالکل نہ کر سکنے والوں کی مجموعی تعداد سے خاصی کم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے سارے لوگ نہ تو ملک ریاض بن سکتے ہیں، نہ زرداری یا شریف برادران اور لامحالہ عمران خان بھی نہیں بن سکتے جن کی آمدنی ان کے اپنے اور ان کو ماننے والوں کے خیال میں دیانت داری کی کمائی ہے۔

 مناسب اور متناسب تنخواہوں، مشاہروں، معاوضوں اور منافع کا تعین منصفانہ قوانین اور اصولوں پر استوار ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ایسی ریاست یا تو بہت ترقی یافتہ جمہوری ریاست ہو سکتی ہے یا کسی بھی نظریے پر استوار ریاست چاہے وہ سابق سوویت یونین اور موجودہ چین کی طرح کی اشتراکی ریاست ہو یا ایران کی طرز پر مذہبی ریاست مگر ہم نے دیکھا کہ تینوں طرح کی یہ ریاستیں کسی نہ کسی سطح پر مالی بدعنوانی کرنے والوں کو ایسا کرنے سے نہیں روک پائیں۔ چین، ایران اور سابقہ سوویت یونین میں مالی بددیانتی کی کڑی ترین سزاؤں کے باوجود لالچی اور خود غرض انسان ایسا کر بھی لیتے ہیں اور بہت بار سزا سے بھی بچ رہتے ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ مالی بددیانتی کرنے کی شرح اور ایسا کرنے والوں کی تعداد کم رہتی ہے۔

 مالی بدعنوانی کیوں کی جاتی ہے؟ بنیادی وجہ سرمائے کی تعظیم ہے۔ جی ہاں سرمائے کی تعظیم، جس کے پاس جتنا زیادہ سرمایہ ہوگا اس کا سماجی رتبہ اتنا ہی بلند ہوگا۔ یہی وجہ رہی کہ جن ملکوں کا ذکر اس سے پہلے کیا گیا ہے وہاں مالی بدعنوانی کرنے والے افراد اپنے سرمائے کو بہر صورت دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اپنا کروفر وہیں دکھا پائے یا پرآسائش زندگی وہیں جا کر بسر کر سکے۔ اپنے ملکوں میں جب وہ قانون کے ہاتھ لگے تو مال سے بھی گئے اور بسا اوقات جان سے بھی گئے۔

 کہا جا سکتا ہے کہ لالچ اور خود غرضی بھی مالی بدعنوانی یا بددیانتی سے کمائی آمدنی جمع کرنے میں اہم ہیں۔ جس طرح اچھی صفات ہر انسان میں، کسی میں زیادہ، کسی میں کم، کسی میں بہت کم اور کسی میں شاید شائبے کی حد تک پائی جاتی ہیں اسی طرح برے اوصاف بھی ہم تمام انسانوں میں درجہ بدرجہ موجود ہوتے ہیں۔ یہ سماج ہوتا ہے جو برے اوصاف کو دبا دیتا ہے اور اچھے اوصاف کو بالیدہ کرتا ہے۔

 سرمایہ دار معیشت کی بنیاد ہی منافع ہے۔ اگر منافع کو لالچ کہا جائے تو عجیب لگے گا مگر ہے یہ لالچ ہی مگر ایسا لالچ جس کی قانونی طور پر ایک حد تک اجازت ہے۔ جب یہ حد سے بڑھتا ہے تو ایک جہاں طرف لالچ کہلاتا ہے جس کے لیے برا لفظ منافع خوری ہے تو وہاں دوسری طرف یہ منافع یا لالچ سرمایہ دار معاشرے میں لالچی اور خودغرض شخص کا رتبہ بلند کیے جاتا ہے۔ تبھی تو ایسے ملک میں جہاں کم سے کم آمدنی پندرہ ہزار روپے ہے، قانونی طور پر باثروت شخص کو اپنی انتخابی مہم کی مد اسمبلی کے امیدوار کے طور پر چالیس لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے طور پر بیس لاکھ روپے خرچ کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ خرچ تو کہیں زیادہ ہوتا ہے مگر دکھایا جاتا ہے اس حد سے کم جو مقرر ہے۔ خود کو سچا کرنے کا طریقہ بہت سادہ ہے کہ میں نے تو پونے آٹھ لاکھ ہی خرچ کیے ہیں باقی اخراجات جو “ہوئے ہونگے” وہ تو میرے “چاہنے والوں” نے اپنی “مرضی و منشاء” سے دان کیے “ہونگے”۔

دوستو جس جگہ کمائی کی بنیاد منافع ہو، چاہے وہ وکیل کی فیس کی شکل میں ہو یا ڈاکٹر کی خدمات کے معاوضے کی صورت میں، بے نامی جائیداد کی شکل میں ہو یا آف شور کمنیوں کے ذریعے چھپائی گئی دولت کی شکل میں وہاں کوئی آمدنی دیانتدارانہ نہیں ہو سکتی۔ حلال و حرام کی بات ہم نہیں کر رہے کیونکہ یہ طے کرنا مذہبی ماہرین کا کام ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں دیانت داری کی۔

 مثال کے طور پر ایک شخص نے کسی بھی مد میں حکومت کے خزانے سے رقم وصول کرنے کے حق کا کام کیا۔ کام اس نے کام تو کیا محض دس لاکھ وصول کرنے کے برابر مگر کلیم ایک کروڑ روپیہ کر دیا۔ متعلقہ افسر کو اس بارے میں معلوم ہے چنانچہ اس نے کیس پھنسا دیا۔ افسر کی خواہش ہے کہ وہ اسے تیس لاکھ دے تو اس کا ایک کروڑ روپے کا کلیم منظور کرے۔ وہ شخص مذہبی اعتبار سے ایک ایمان دار وکیل کی خدمات لیتا ہے جو اپنے پیشے میں طاق ہے۔ وکیل کیس میں قانون کے جھول دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس شخص کا کلیم منظور ہونا چاہیے اور ہوگا مگر ایک تو وکیل بڑا وکیل ہے دوسرے کلیم بھی تو ایک کروڑ کا ہے چنانچہ وہ پندرہ لاکھ روپے اپنی فیس طلب کرتا ہے۔ مدعی شخص رشوت دینے کا “گناہ” نہیں کرنا چاہتا چنانچہ وکیل کو فیس دے دیتا ہے۔ وکیل بھی گناہ نہیں کر رہا بلکہ اس کے خیال میں قانون کے مطابق اس شخص کا کلیم منظور ہونا چاہیے اس لیے اس نے مدعی سے اپنے تئیں “دیانت داری پر مبنی” صرف پندرہ لاکھ فیس لی اور مقدمہ جیت لیا۔ مدعی کو دس لاکھ کی جگہ پچاسی لاکھ مل گئے اور وکیل نے دیانتدارانہ خدمات کا معاوضہ پندرہ لاکھ روپے کی شکل میں وصول پایا۔ آپ بتائیے کہ کس کی کمائی دیانتداری کی کمائی ہے۔ اس مثال کا اطلاق آپ چاہیں تو بڑے ہسپتال میں کام کرنے والے بڑے ڈاکٹر کی کمائی پر کر لیں۔ سپر سٹور کے مالک کی کمائی پر کر لیں یا جس بھی زیادہ کمانے والے کی کمائی پر کر لیں، نتیجہ سامنے ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ ایسی بڑی آمدنیاں ایک معاشی نظام کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں جسے سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں۔

 اس نظام معیشت میں دیانتداری کے اپنے پیمانے ہوتے ہیں ویسے ہی جیسے ڈالروں میں دنیا کے پہلے ارب پتی شخص فورڈ سے جب کسی صحافی نے اس کی “منی ٹریل” کے بارے میں پوچھا تو فورڈ نے کہا تھا کہ “پہلے ایک ملین ڈالر” کے علاوہ میں باقی پوری منی ٹریل بتا سکتا ہوں لیکن کمائے گئے پہلے دس لاکھ ڈالر کی نہیں۔ وہ سچا تھا کیونکہ سرمایہ جمع کرنے کے لیے آپ کو بہت سے حیلے بہانے کرنے پڑتے ہیں مگر جب آمدنی مستحکم ہو جائے تو آپ سب کچھ قانون کے مطابق کرتے رہیں تو بھی آپ کی دولت بڑھتی رہتی ہے۔

 کیا سرمایہ دارانہ نظام میں دیانت دارانہ کمائی کرنا ناممکن ہے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے مگر اس سے پہلے جس ملک میں سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہو وہاں جمہوریت کا انتہائی ترقی یافتہ ہونا ضروری ہے اور جمہوریت انتہائی ترقی یافتہ وہاں ہوتی ہے جہاں آبادی کا بیشتر حصہ تعلیم یافتہ اور خوشحال ہو جاتا ہے تاکہ لالچ اور خودغرضی کم سے کم باقی بچ رہے اور قانون کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر پو جائے۔

 نئی حکومت سے امیدیں ضرور وابستہ کیجیے مگر جذباتی ہوئے بغیر۔ کہیں سے تو ابتدا ہونی ہوتی ہے اگر نئے وزیراعظم اور ان کی حکومت شروعات کرتی ہے تو خوش آئند ہوگا۔ تعزیر سے زیادہ تدبیر کو مقدم رکھنا ہوگا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت “لوٹی گئی” کہے جانے والی دولت واپس لانے کے جتن تو کریں مگر زیادہ توجہ دولت پیدا کرنے کے وسیلے تخلیق کرنے پر دیں۔

 میں شاعر و ملنگ قسم کا شخص ہوں۔ ایک بار کسی کی دولت کے بل پر کاروبار کر بیٹھا۔ کوئی دس ہزار، کوئی پچاس ہزار، کوئی دو یا پانچ ہزار ڈالر دبا کے چلتا بنا یا دبا کر کے بیٹھ گیا۔ میں نے ان رقوم کو واپس لینے کے لیے جو کچھ اپنے پاس تھا وہ بھی خرچ کر ڈالا مگر کچھ وصول نہ ہوا۔ ساتھ ہی آمدنی کا نیا وسیلہ بھی تخلیق نہ کر سکا۔ بات جب تہی دامنی تک پہنچی تو اپنی علم دوستی نے ساتھ دیا یوں ریڈیو ماسکو سے وابستہ ہوا جہاں سے روزی روٹی چلی۔ تو میرے بھائی میرے عمران خان میری طرح لوٹی ہوئی دولت واپس لانے پر مت رہنا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں