رات اور انسان: مبالغہ آرائیاں


رات کی کوکھ سے کتنی ہی صبحوں نے جنم لیا ہو گا، انگنت موسموں نے آبیاری کی ہوگی تو احساسات کی تہہ میں بہتی ندیوں سے لمحے بھی آموجزن ہوئے ہوں گے۔ زندگی کے صدیوں سے طویل سفر میں رات کا اپنا اک کردار ہے اور وہ اپنے موقع و محل کے عین مطابق اپنے روپ میں اترتی رہی ہے۔ اس کا کردار کیسے پنپا، اس نے اپنا رول کیسے جمایا اور بقیہ کرداروں پہ کیسے اثرات رہے، آئیں ان چند زاویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسان کا فرار، بالعموم رات کی تاریکی میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالات سے گھبرا کے، گھٹن میں دبی سانسوں کے ساتھ اس نے اپنے احباب کی دہلیز کو چھوڑا تھا، اور کسی انجانی منزل کی جستجو میں نکل پڑا۔ اسے شدید اندھیرا چاہیے تھا، رات نے بادلوں سے مشاورت کی اور اپنی چادر کو گہرا سیاہ کر کے راہ فرار میں معاونت بھی فراہم کی۔ بھاگتے بھاگتے اس کی ہمت جواب دے چکی اور پھر اسے پانی کی تلاش میں متفکر دیکھ کر بادلوں نے آبلے ابھارے اور راہِ فرار میں اک بار پھر سے ہمت بندھی ہوگی۔ وہیں کہیں اس انسان کے متلاشی بھی تھے جو لالٹین یا ٹارچ لئے اسے جا لینے کو تھے کہ جھاڑیوں کے سلسلہ پہ رات نے اپنا سایہ گہرا کر دیا اور وہ اسے ڈھونڈتے رہ گئے۔

ہم نے دیکھا کہ گذشتہ صدی کا انسان دن بھر کی گوناگوں مصروفیات میں وقت بیت جانے کے باوجود بے چین رہا۔ وہ مادہ کی تلاش میں فیکٹریوں اور گاڑیوں کے دھویں میں مارا مارا پھر چکا تو کسی تھکے ہارے بے مقصد جواری کی طرح گھر لوٹ آیا کہ روزن کے اس پار سے ساحل کے کنارے گہرے ہوتے اندھیرے میں چاند نی سمندری لہروں کے ساتھ عجیب طرح کا میوزک تخلیق کرتی ہوگی۔ رات کسی ماسٹر آرٹسٹ کی طرح رنگوں کے ساتھ کھیل کھیلتی ہے اور عجیب ومسرور کن لمحوں کی روانی تخلیق کرتی ہے۔ وہ تھکا ہارا انسان اپنے صحن سے اپنے پالتو کتا لئے ساحل سمندر کی پرشکوہ واک کو نکل پڑا ہو تھا۔

مگر ٹھہریں، یہ مصروفیات تو ابھی ابھی کی بات ہے، 16ویں یا 17ویں صدی کا انسان تو رات کوآرام کا تصور باندھتا تھا، دن کے مخصوص گھنٹوں کے اوقات میں کام کر لینے کے بعد رات کو وہ کیا صرف سکون بھرتا تھا؟ اسی بوجھل پن کو دور کرنے کے لئے رات نے اپنے ماتھے پہ تاروں بھرا جھرمٹ چمکایا ہوا تھا، شاعروں کو تخیلاتی انسپریشن ملی تو سائنسدانوں کو ان کی پوزیشن اور مسافتوں کو جانچنے کی تگ و دو میں لگ گئے۔ وہ خلاؤں میں سفر کے نت نئی الف لیلوی قصہ و کہانیاں بننے لگے اور رات گئے گاؤں کی چوپال پہ مزدور و کسان بوڑھے بابا جی سے تصوراتی قصہ سننے لگے۔

رات نے اپنی گریوٹی کو قائم رکھنے کے لئے کئی طرح کے عوامل کو بھی ساتھ کرلیا تانکہ اس کی کشش قائم و دائم رہے۔ چونکہ غار کا انسان رات کو خوف کھاتا تھا، وہ غار کے دہانے کو کسی بڑے سائز کے پتھر سے بند کر کے صبح کی روشنی تک آرام کرتا رہتا۔ چنانچہ رات کو اپنی وقعت انسانی تاریخ کے ارتقاء کے اول اول سالوں میں ہی ماند پڑتی معلوم ہوئی۔ بہرطور، اس نے میوزک کے واسطہ بادلوں  سے گہرے روابط رکھے تو وہیں فضا میں مستی و سرور کی خاطر رات کی رانی سے پینگیں بڑھانی شروع کر دیں۔

کبھی کبھی انسان آسمان کی روشن تھالی کے نموندار ہونے تک بیزار سا ہو جاتا تو وہ بوریت میں سونے کو ہی ہوتا کہ چند جگنوؤں کے ناچتے قافلوں سے فضا میں سماں سے تخلیق ہو جاتا۔ گرمیوں کے ٹھنڈے چشمے اور سردیوں کا غلاف زدہ جنگل، ساحل سمندر کی بیباک لہریں اور ایسے کئی زیریں کرداروں کے ساتھ مل کر رات نے اپنے ہاں آسائشوں کا بھرپور سامان اکٹھا کر لیا۔ پر ان سب کوششوں کے باوجود بھی انسان کا رابطہ ٹوٹ سا جاتا، نتیجہ کے طور پہ اس نے کمزور جانوروں کے لئے رات کو آسانی دی کہ وہ پانی کے کناروں پہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔ وہیں انسان کو شکار کی شے دی کہ یہ جانور رات کو اپنا رستہ تلاشنے میں دقعت ک محسوس کرتے ہیں، سو ان سے جی بھر کے سیر ہو جاؤ، پیٹ کی پوجا کے ساتھ ساتھ اک اچھا ایڈونچر بھی تمھارا منتظر ہو گا۔

وقت اپنے رفتار سے بہتا گیا، بارہا دفعہ اس رات نے اپنی چھایا میں ایسے واقعات کو بھی لے لیا کہ جس سے پردہ اٹھانا آج کے انسان کے لئے کٹھن ہے۔ ایسے رازو نیاز کے بھرپور ایونٹ رہے کہ جن کا عوام میں تزکرہ کر کے خواص کو رذیل پن کی سی کیفیت کا سامنا رہتا، چنانچہ رات نے ان حیادار و شجرِممنوع لوگوں کو اپنی ممنوع راتوں میں جا لیا کہ جس کا در اب بھی لاک پڑا ہے۔

جہاں رات رازو نیاز میں کسی وفادار دوست کی طرح ری ایکٹ کرتی رہی تو وہیں اس نے انسانوں کی سفاکی و درندگی کے واقعات کو بھی نموندار ہوتے دیکھا، اس کا ردعمل دینا از حد لازم تھا۔ اس نے بادلوں سے بیٹھک کی اور ان سے اپنی بجلی کے برسنے اور گرجنے کا معاہدہ طے کیا؛ چندخوفناک و دل دہلا دینے والے جانوروں کو رات بھر ہاؤنڈ کرنے کی تلقین کی اور بارش کی اندھا کر کے چاروں سمتوں میں بہنے کی راہ ہموار کر دی۔ بلآخر سیلابی و دل دہلا دینے والی طوفانی راتوں نے انسان کے مجرمانہ قتل کی داستانوں کو جنم دیا۔

جوں جوں حضرتِ انسان نے پہاڑوں اور چٹانوں سے نکل کر طویل رستوں پہ چلنا شروع کیا تو ریتیلے اور صحرائی راستوں پہ وہ بھٹک کے رہ گیا، وہ تو زندگی کی تلاش میں آگے نکلا تھا مگر چاروں اور اجل اس کا استقبال کیئے ہوئے تھی۔ وہ گھبرا سا گیا، یہ سیارہ اتنا خوبصورت ہونے کے ساتھ اتنا گرم و گمراکن کیسا ہوا؟ رات کو یہ منظر ذرا نہ بہایا، اس کو سونپی گئی ذمہ داریوں میں سے اک امید کی بروقت فراہمی بھی تھا۔ اب اک ایسا خطہ کہ جہاں تپتی دھوپ، خشک ہوا، دور دور تک پانی، جنگل بیابان، کچھ بھی نہیں۔ بلآخر رات نے قطبی ستاروں سے باہمی مشورہ کے بعد رہنمائی کا ذمہ لگایا۔ جہاں پانیوں کے طویل فاصلوں میں ناخدا مقرر کیے وہیں اک ساربان کو بطور لیڈرو قائد بنایا گیا۔

رات اور انسان کا سفر اب بھی جاری وساری ہے، لیڈرز اپنا اپنا پیغام اپنے نائب کو ٹرانسفر کرتے جاتے ہیں اور یوں جاننے اور آگے بڑھنے کا سفر رکنے سے رہا، باقی حسیات کے لوازمات بھی انسان کا جی بہلائے رہتے ہیں اور یوں انسان کا دل بھی لگا رہتا ہے اور تلاش کی تگ و دو میں بھی بہتری اور جفاکشی آتی جا رہی ہے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق انسان کے سفر میں بنیادی مسئلہ اک نئے خوف کی پود نے لے لیا ہے، ہاں اس کے اک مرکزی خطہ پہ ریکارڈ سطح کی گرمی پڑنے کو ہے، جنوب میں برف کے پہاڑ پگھل رہے ہیں تو ایمازون میں نباتاتی و حشرات کی زندگی بھی خطرہ میں ہے۔ شنید ہے کہ وہ اس سیارہ پہ اپنی موت اپنے ہاتھوں ہوتے دیکھ رہا ہے ور اسی خوف سے جاں چھڑانے کے لئے دوسرے سیاروں پہ ہجرت کا سوچ رہا ہے۔ رات کو اب اک بار پھر سے اپنے لوازمات کے ساتھ اضافی بھی لانا ہوں گے تانکہ کرہ ارض، موزوں بھی رہے اور آپسی کشش بھی نہ ٹوٹنے پائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

بلال مختار کی دیگر تحریریں
بلال مختار کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں