تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں دوبارہ کس وجہ سے جیتی؟


25جولائی 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹ اور نسشتیں حاصل کر نے والی پارٹی بن گئی۔

خیبر پختونخوا میں تو ووٹرز نے اپنی سابقہ روایت توڑتے ہوئے پی ٹی آئی کومسلسل دوسری بار منتخب اور مطلق اکثریت دے دی تاہم مرکز اور پنجاب میں حکومت قائم کرنے کے لیے یہ اتحادیوں کی محتاج ہے۔

ماضی کی پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد پی ٹی آئی پورے پاکستان سے مینڈیٹ لینے والی دوسری پارٹی بن گئی ہے۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو مرحوم تو ملت کی زنجیر بن گئی تھیں امید ہے اس کامیابی کے بعد عمران خان پاکستان کی شان بن کے دکھائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ پی ٹی کو ملنے والی کامیابی کیا اسٹیبلشمنٹ یعنی ہیئت مقتدرہ کی مبینہ حمایت یا مبینہ ”تاریخی“ دھاندلی سے ممکن ہوئی یا اس کے کچھ اور اسباب ہیں؟

ہیئت مقتدرہ پر پی ٹی آئی کی حمایت اور پی ٹی آئی پر ہیئت مقتدرہ کا منظور نظر ہونے کا الزام لگانے والے خود بھی ماضی میں یہ کام کرچکے ہیں۔ یہ کام غلط ہے تو سب کو اس پر ندامت کا اظہار کر لینا چاہیے۔

یاد رہے کہ فوج تمام سیاسی قوتوں کی خواہش یا اجازت سے ایک آئینی ادارے الیکشن کمشن کے حکم پر معین ضوابط کار کے تحت میدان میں آئی تھی۔

مردان کے شہری علاقے اور اپنے گاٶں میں کئی پولنگ سٹیشنز کے دورے میں راقم نے دیکھا کہ پولنگ سٹیشنز کے باہر لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں اور صرف ووٹ ڈالنے والوں کو ہی اندرجانے دیا جارہا ہے جبکہ فوج اور پولیس کے جوان پولنگ بوتھ میں ووٹ ڈال کر باہر آنے والے افراد کو دوسرے گیٹ سے فوراً باہر نکال رہے ہیں۔

ماضی کے انتخابات کے برعکس پولنگ سٹیشن کے اندر پارٹیوں کے کارکن اور غیر متعلقہ افراد کی عدم موجودگی بالکل واضح تھی۔
فوج کے سربراہ جنرل قمر جاویدباجوہ نے اپنے ماتحتوں کو غیر جانبداری کے باقاعدہ احکامات جاری کیے تھے اور میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق فوج مکمل طور پر غیر جانبدار دکھائی دی۔

تاہم اگر کسی آفیسر یا اہلکار نے ان ضوابط اور اپنے چیف کے واضح حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف متعلقہ فورم پر دستاویزی یا ویڈیو ثبوت کے ساتھ کارروائی کی درخواست کی جائے اور قومی اداروں کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے۔

الیکشن کمیشن کا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یقیناً صحیح طریقے سے کام نہ کر سکا لیکن یہ ضروری نہیں کہ سازش کا نتیجہ ہو۔ ممکن ہے اس سسٹم کو چلانے کے لیے مناسب تیاری، مہارت وافرادی قوت اور اداروں کے درمیان ارتباط کے حصول میں کوتاہی کی گئی ہو۔ بہر حال اس پر بھی تمام سیاسی قوتوں کی اطمینان کے لیے تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

الیکشن ڈیوٹی دینے والے سرکاری ملازمین اول تو سرکاری ملازم ہونے کے باعث عملی سیاست میں حصہ لینے اور کسی ایک پارٹی کی طرفداری سے اجتناب کرتے ہیں مگر وہ پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں کیوں اور کیا دھاندلی کر سکتے ہیں میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔

ویسے انتخابات اور کچھ حد تک دھاندلی کاچولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ سب امیدواروں کے ایجنٹ یاکارکن مختلف محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے کرتے یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگریہ شرح دو سے تین فیصد ہوتی ہے اور اس کا فائدہ سب کو ملتا ہے۔ اس لیے اس کی بنیاد پر پورے الیکشن کو کسی پارٹی کی جانب سے دھاندلی زدہ قرار دے مسترد کرنا نامناسب اور زیادتی ہی ہے۔

بعض سیاسی رہنماٶں اور امیدواروں نے اپنے پولنگ ایجنٹ کو سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے ووٹنگ یا کاٶنٹنگ کے وقت پولنگ سٹیشنز سے باہر نکالے جانے اور یا انہیں فارم 45 نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔ آئیے اس بات پر بات کرتے ہیں۔

پولنگ سٹیشنزکے اندر کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کا بنیادی کام یہی ہوتا ہے کہ وہ الیکشن کے دوران اپنے امیدوار کے مفادات کا تحفظ کرے اور آزادانہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں تعاون کرے لیکن اگر یہی بندہ دھاندلی کی کوشش کرے، مخالف ووٹروں کو ڈرائے دھمکائے، غیر ضروری شور شراباکرکے انتخابات کے پرامن انعقادمیں خلل ڈالے تو ایسے میں کیا سیکورٹی ادارے اور پریزائیڈنگ آفیسر خاموش تماشائی رہیں گے یا اس کا متبادل طلب کرکے اسے باہر نکالیں گے؟ اور جب وہ ایسے بندے کو باہر نکالیں گے تو ظاہر ہے اس کو نامزد کرنے والے ناخوش تو ہوں گے۔

مسئلہ ہماری عادات کا ہے۔ ہم صرف انہیں انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف مانتے ہیں جن میں ہم جیت جائیں۔ اپنی ہار اور اپنے مخالف کی جیت قبول کرنا ابھی ہم نے نہیں سیکھا۔ بلکہ اپنی ہار کو کبھی فرشتوں کی جانب سے مخالفین کو ووٹ ڈالنے، کبھی دھاندلی، کبھی خفیہ طاقتوں کی مداخلت و سازباز اورکبھی آراوز کی کارستانی قرار دے کرخود کو مطمئن اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

پچھلے انتخابات میں مسلم لیگ نواز جیتی تو اسے الیکشن صحیح نظر آیا اور جو ہارے ان کے لیے وہ دھاندلی شدہ۔ پی ٹی آئی نے تو باقاعدہ 35 پنکچروں، جیو ٹی وی، پنجاب سے الیکشن کمیشن ارکان اور چند فوجی افسران کی مبینہ ملی بھگت کی بنیاد پر منظم دھاندلی اور اپنا مینڈیٹ چوری کروائے جانے کی دہائیاں دیں تھیں اور دھرنے اور لاک ڈاون پر مشتمل سالوں پر محیط تحریک بھی چلائی تھی۔ یہ الگ بات کہ بعد میں ان کے مطالبے پر قائم عدالتی کیمشن نے ان الزامات کو مسترد اور الیکشن کو شفاف قرار دیا تھا۔ اب بھی عدالتی کمیشن بناکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بنایا جاسکتا ہے۔

دراصل پی ٹی آئی کی اتنی شاندار کامیابی کے عوامل کچھ اور ہیں جنہیں ابھی اس کے مخالفین ماننے کے لیے تیار نہیں۔

پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ عمران خان کو ان کی مخالف پارٹیوں اور سیاستدانوں پر اس لیے ترجیح دی گئی کہ وہ ابھی تک آزمائے نہیں گئے ہیں جبکہ باقی کئی بار حکومت کر چکے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں حکمران رہی لیکن ملک بھر میں عوام کے لیے اس بار یہ ایک بنیادی فرق تھا جو پی ٹی آئی کو دوسرے سیاسی گروہوں سے ممتاز کرتا تھا۔ یہ ایک بنیادی فیصلہ کن دلیل تھی جس نے بہت سے افراد کومتاثر کیا۔ پارٹی کے نعرے ”ہم نہیں تو کون۔ اب نہیں تو کب“ نے اس بار کام کر دکھایا۔

ایک اور بات جس نے عمران خان کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کی وہ ان کا عام تاثر ہے۔ لوگ انہیں مسٹر کلین، مخلص، ان کے مخالفین سے بہتر اور زیادہ ایماندار سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھی عوام ان کی طرف مائل ہوئے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں