منافع


کالج میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا تھا سیکنڈری اسکولوں سے میٹرک پاس لڑکے کالج کے برامدے میں نوٹس بورڈ کے گرد جھمگٹا لگائے کھڑے تھے جس پر چسپاں ایک نوٹس کے مطابق داخلہ فیس کا پے آرڈر مقامی بنک سے بنواکر کالج میں جمع کروانا تھا۔ لڑکے گروپس کی شکل میں کالج سے نکلے بنک پہنچے وہاں پہلے ہی سے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ ابتدائی گرمی کا زمانہ تھا سورج کی تمازت میں اضافہ ہو چکا تھا۔

بنک بازار کے درمیان واقع تھا۔ دو طرفہ دکانوں کی قطاریں تھیں اور بیچ میں سڑک پر ٹریفک جاری تھی۔ ایسے میں ایک تنہا نو عمر لڑکا جس کی بنک سے واقفیت محض یوٹیلیٹی بلز جمع کروانے تک تھی، بنک کی طرف بڑھا۔ دروازہ میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک نسبتاً بڑی عمر کے لڑکے نے روکا۔ ’پے آرڈر بنوانا ہے؟ ‘۔ ’ہاں‘۔ ’ نام‘۔ بڑی عمر کے لڑکے نے واؤچر نکالا اور نو عمر لڑکے سے پوچھ پوچھ کر واؤچر پُر کرکے اس کیطرف بڑھایا۔ ’اسے اندر لے جا کراسٹمپ لگوالو اور فیس کے پیسے اندر ہی جمع کروا دینا۔ ۔ دس روپے۔ ‘ اس نے ہاتھ پھیلایا۔ نو عمر لڑکے نے بڑی سعادت مندی سے سرہلایا اور جیب سے دس روپے نکال کر اس کے حوالے کر دیے۔

بڑی عمر کا لڑکا بے فکری سے سگریٹ پھونکنے لگا۔ نو عمر لڑکا۔ جب بنک کے اندر پہنچا تو اسے پتا چلا کہ یہ واؤ چر تو مفت میں ملتا ہے اور پے آرڈر بنوانے والا اسے خود ہی پُر کر کے پیسے جمع کرواتا ہے۔ اس نے سوچا کہ صبح گھر سے فیس کے علاوہ پچاس روپے ملے تھے۔ آنے جانے کے کرائے کے چالیس روپے نکال کر دس روپے بچنے چاہیے تھے’میرے ساتھ دس روپے کا دھوکہ۔ اب میں سگریٹ کہاں سے پیوں گا؟ ‘۔ اپنا پے آرڈر بنوا کر اس نے بنک کے کاؤنٹر سے ایک خالی واؤچر بُک ا ٹھائی اور بنک سے باہر آکر کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک دراز قامت لڑکا بنک کی طرف آیا۔ نو عمر لڑکے نے اسے آگے بڑھ کر روکا۔ ’پے آرڈر بنوانا ہے؟ ‘۔ ’ہاں‘۔ ’ نام‘۔ واؤچر پُر کرکے اس نے لڑکے کی طرف بڑھایا۔ ۔ ’دس روپے‘۔

دراز قامت لڑکے نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔ ’کس بات کے؟ ‘۔ نو عمر لڑکے نے مرغے کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو بولا۔ ’۔ ویسے تودس روپے ہوتے ہیں۔ تم ایسا کروپانچ دے دو‘۔ یہ حربہ کار گر رہا۔ مرغا حلال ہو گیاتھا۔ ’ پانچ روپیا وصول ہوگیا ہے۔ پانچ باقی ہے‘ نو عمر لڑکے نے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور سوچا۔ ’کوئی اور شکار۔ ؟ ‘۔ مزید کسی کو پھانسنے کا موقع تو نظر نہیں آیا البتہ وہی بڑی عمر کا لڑکا اسے نظر آگیا جو ایک پان سگریٹ کے کیبن کے پاس کھڑا نیا سگریٹ سلگا رہا تھا۔ اور ساتھ گنگنا رھا تھا۔ پیسا پیسا پیسا۔ پیسا پیسا۔ پیسا بڑا یا پیار۔ نو عمر لڑکا اس کی طرف لپکا۔

’اے سنو، مجھ سے دس روپے کس بات کے لئے؟ ‘۔ یہ سن کر بڑی عمر کا لڑکا شاطرانہ انداز میں مسکرایا، اور ایک آنکھ دبا کر بولا۔ ’ پہلی دفعہ پے آرڈر بنوانے کا جرمانہ‘۔ نو عمر لڑکا بھی ہنسا۔ ’اچھا! لاؤ یار اسی بات پر سگریٹ پلاؤ۔ بڑی عمر کے لڑکے کے منہ سے سگریٹ نکال کر نو عمر لڑکے نے ایک گہراکش لگایا او ر سگریٹ سمیت واپس کالج لوٹتے ہوئے سوچا۔ ’ آج کا منافع پانچ روپیا‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں