ایک بچہ تمہارا نہیں ہے


موپساں ایک مشہور و معروف فرانسیسی مصنف ہے اس کے افسانے (شارٹ سٹوریز) انگریزی، اردو اور دنیا کی بےشمار زبانوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔ اس کی ایک کہانی Useless Beauty اپنی نوعیت ایک منفرد کہانی ہے اور طرز تحریر اس پر کمال ہے۔ یہاں مختصراً اُس کا خلاصہ بیان کرتا ہوں

ایک علاقے کا رئیس ایک انتہائی خوبصورت دوشیزہ کو پسند کر لیتا ہے اور اس سے شادی کر لیتا ہے محبت کا یہ سحر شادی کے چھ سات سال میں مسلسل تب تک چلتا رہتا جب تک کہ ان کے پانچ عدد بچے نہیں ہو جاتے خاتون انتہائی خوبصورت تھی اور انتہا کی دلکش بھی جو کسی بھی محفل میں جاتی تو وہاں کی رونق بن جاتی۔ ان سات سالوں میں جو اس کے پانچ بچے ہوئے کسی بھی طرح سے اس کے حسن کو ماند نہ کر سکے۔

عورت جتنی بھی دلکش و خوبصورت ہو شادی کے بعد اس کے لئے اپنا حُسن برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اور اگر اُسکا شوہر یہ چاہے کہ اس کا اپنے حُسن کی طرف دھیان ہی نہ جائے تو اسے بچوں میں مصروف کردے۔ اُس خاتون نے بھی یہ محسوس کر لیا تھا کہ اس کے رئیس شوہر نے اس کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے اور اس شک کے ساتھ کہ یہ کہیں کسی اور کی محبت میں مبتلا نہ ہوجائے اُسے مسلسل بچوں کی پیدائش میں مصروف رکھا لیکن قدرت نے اس کی دلکشی، اُسکی جاذبیت اور اُس کا حُسن آج بھی اُسی طرح قائم رکھا ہوا تھا بلکہ اب اس کی عمر کی سنجیدگی اس کی شخصیت کو چار چاند لگائے ہوئے تھی۔

خاتون نے رئیس سے ان سب کا بدلہ لینے کا سوچا اور دل کی ساری بھڑاس نکال دی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ میں نے بھی تمھیں ایک بار دھوکا دیا ہے اس پر رئیس کی حالت ایسے ہوگئی جیسے وہ اپنا سب کچھ ہار بیٹھا ہو پوچھنے پر خاتون نے بتایا کہ ان پانچ بچوں میں سے ایک تمھارا نہیں ہے اور اب یہ وہ نہیں بتانے والی کہ وہ ایک کونسا ہے۔

رئیس تو جیسے تلملا اُٹھا وہ دن رات اسی الجھن میں رہتا اور انتہائی دماغی کشمکش اور اذیت میں وقت گزارتا جیسا کہ وہ خاتون چاہتی تھی آخر کار وہ اس کی منت سماجت پر آگیا کہنے لگا خدا کے لئے بتا دو کہ وہ ایک کونسا ہے کہ جس بچے کو دیکھتا ہے اسے لگتا ہے وہ اُسکا نہیں وہ اپنے ہر بچے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ یہ اُسکا نہیں رئیس نے کہا خدا کے لئے بتا دو کہ وہ ایک کون سا ہے

مختصراً یہ کہ وہ عورت بتا دیتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے صرف بدلے کے لئے اس نے یہ جھوٹ بولا تھا جواب میں رئیس بولا کہ اب اسے یہ نہیں سمجھ آرہا کہ جھوٹ پہلے بولا گیا تھا یا اب بولا جا رہا ہے

یہ کہانی مجھے پرویز الہی کے ایک بیان سے یاد آگئی گزشتہ روز انہوں نے یہ بیان دیا کہ ن لیگ کے پچیس ارکان پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے اب شہباز شریف کی حالت اس وقت اُسی رئیس جیسی ہے بڑی بیچارگی اور شک بھری نگاہ سے اپنے ہر ممبر اسمبلی کو دیکھتا ہوگا کہ شاید یہ ہمارا نہیں ان کو ووٹ دے گا اور ہو سکتا ہے کوئی پرانا بدلہ لینے کے لئے پرویز الہی نے یہ بیان اپنی طرف سے ہی داغ دیا ہو صرف اور صرف شہباز شریف کو ذہنی دباؤ اور اذیت دینے کے لئے اور جب رزلٹ آئے تو معلوم ہو کہ ن لیگ کے ووٹ تو پورے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں