علما آپس میں طے کر لیں کہ جمہوریت اور سیکولرازم اسلامی ہیں یا غیر اسلامی


مسلمان جن ممالک میں بستے ہیں وہاں وہ کیسا نظام حکومت چاہتے ہیں؟ انہیں مذہبی رجحانات رکھنے والی حکومت پسند ہے یا پھر وہ سیکولر جمہوری ریاست کو عزیز جانتے ہیں؟ بادشاہت انہیں بھاتی ہے یا مذہب اور جمہوریت کی کھچڑی کو اپنے لئے بہتر مانتے ہیں؟ یہ سوال ذہن میں اس لئے آیا کہ اس سلسلہ میں مسلمانوں کا کوئی واضح اور متفقہ موقف نظر نہیں آتا۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے عرض کر دوں کہ یہاں مسلمانوں کے موقف سے مراد مسلمانوں کی مذہبی قیادت کا موقف ہے۔ پہلے ذرا اپنے آس پڑوس کی بات کر لیتے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کی بڑی مذہبی جماعت ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر 25 اپریل 2018 کو لاہور سے شائع ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ”امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ سیکولر اور لبرل جماعتوں کے مقابلے میں ملک کی دینی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) پاکستانی قوم کی امیدوں کا مرکز ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ سیکولر حکمران آئین کی ا سلامی دفعات کو بھی بدلنے یا ختم کر نے کا ارادہ رکھتے ہیں“۔ امیر جماعت کے ارشادات پڑھ کر معلوم ہوا کہ مذہبی جماعتوں کا مطلوب و مقصود سیکولر اور لبرل جماعتوں کا انسداد ہے تاکہ سیکولر حکمرانوں کا راستہ روکا جا سکے۔

ڈان نیوز کی 21 مارچ 2014 کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ“ تحفظ پاکستان آرڈیننس اور نئی سیکورٹی پالیسی کے ذریعے ملک کو سیکولر بنانے کی سازش کی جا رہی ہے“۔ جماعت اسلامی سیکولرزم کو ریاست کے لئے کتنا بر اجانتی ہے اس کا اظہار اس ایک سطر میں صاف صاف ہو رہا ہے۔

چلئے ایک اور بیان دیکھ لیجیے، جنگ کی 6 نومبر 2016 کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ”لاہور میں جمعیت طلباء عربیہ کے کنونشن سے خطاب میں پارٹی کی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ایک سیکولر لابی ملک میں مسجدوں اور مدرسوں کی بنیادیں ہلا رہی ہے“۔ گویا سیکولرزم کوئی چھوٹی موٹی سازش نہیں بلکہ یہ مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔

جنگ کی ہی 6 نومبر 2016 کی راولپنڈی سے چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ”امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے‘ یہاں سیکولر ازم اور لبرل ازم کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے“۔ سبحان اللہ، مطلب اب تک صرف اظہار بیزاری ہی تھا، اب صاف صاف فرما دیا گیا کہ سیکولرازم کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔

مندرجہ بالا بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پاکستان میں سیکولرازم کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کا مقصد سیکولرازم کا راستہ روکنا ہے۔ اب ذرا اس بیان پر توجہ دیجئے۔ 4 فروری 2017 کو یو این اے نیوز پر چھپی رپورٹ کہتی ہے کہ ”جماعت اسلامی ہند نے اسمبلی انتخابات میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کو پوری طرح مسترد کرتے ہوئے سیکولر اور اچھے کردار کے حامل امیدواروں کے حق میں ووٹنگ کریں۔ جماعت اسلامی ہند نے کہاکہ ایسے حساس وقت میں جماعت اسلامی ہند رائے دہندگان سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کو پوری طرح نظر انداز کریں“۔

غور فرمایا آپ نے؟ سرحد کے اس طرف جو جماعت سیکولرازم کو نفرت کی حد تک مسترد کرتی ہے، سرحد کے اس طرف وہی جماعت لوگوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ سیکولر امیدواروں کو ووٹ دیں۔ بیان کے آخری حصے کو ایک بار پھر پڑھیے جس میں لکھا ہے کہ ووٹروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کو نظر انداز کر دیں۔ تسلی نہ ہوئی ہو تو ایک اور بیان دیکھ لیجیے۔ ہر پل آن لائن پر 2 دسمبر 2017 کو چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ”ماہانہ پریس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی ہند مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ جماعت سمجھتی ہے کہ گجرات انتخابات میں سیکولر ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے تاکہ غریب اور اقلیتوں کے حقوق کو محفوظ کیا جا سکے“۔ یعنی پاکستان میں سیکولرازم کا راستہ روکنے کے لئے جان لڑا دینی ہے اور بھارت میں سیکولر ووٹوں کو متحد کرنا پہلی ترجیح ہے۔

اب ذرا بھارت کی ایک اور سرکردہ مذہبی تنظیم کو لیجیے۔ جمعیت علماء ہند دیوبندی مکتب فکر کے علماء کی تنظیم ہے۔ ساحل آن لائن پر 30 جون 2017 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں جمعیت علماء ہند کی طرف سے دہلی میں ہوئی عید ملن تقریب کی روداد درج ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ”جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اپنی تقریر میں کہا کہ سیکولرازم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کثیر المذاہب ملک میں کسی ایک خاص مذہب اور خاص سوچ کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔ ہندوستان میں تمام مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں اور یہ ملک مذہبی غیر جانبداری اور سیکولرازم کی راہ پر چل کر ہی ترقی کر سکتا ہے“۔

اس بیان میں دیکھیے یہاں سیکولرازم کو ملک کی شناخت بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ملک میں کسی خاص مذہب یا سوچ کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔ جمعیت علماء ہند کے صدر فرما رہے ہیں ’ملک مذہبی غیر جانبداری اور سیکولرازم کی راہ پر چل کر ہی ترقی کر سکتا ہے‘۔ اب ذرا سرحد کے اس پار جمعیت علماء اسلام کے خیالات ملاحظہ کیجیے۔ یہ تنظیم جمعیت علماء ہند کے پیٹ سے ہی نکلی ہے۔ جنگ نیوز کی 25 جون 2018 کو پشاور سے چھپی رپورٹ کہتی ہے کہ ”جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے فرمایا کہ ہم ملک میں شریعت محمدی کے نفاذ کے لئے اسلام آباد کا اقتدار چاہتے ہیں جس کے لئے ہم نے بندوق، توپ یا تلوار کا نہیں بلکہ ووٹ کی پرچی کا سہارا لیا ہے‘ ہم اس سرزمین پر یہودیوں، فرنگیوں اورمغربی تہذیب کے دعویداروں کو کوئی جگہ نہیں دیں گے“۔

دیکھا آپ نے دو بیانات کا فرق؟ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ملک میں سیکولرازم کی وکالت کی جا رہی ہے، کسی ایک مذہب یا فکر کی بالادستی کو مسترد کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ”غیرجانبداری اور سیکولرازم میں ہی فلاح و نجات ہے“۔ جس ملک میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں شریعت کے نفاذ کی بات ہو رہی ہے۔ اسی جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کا ایک بیان 9 دسمبر 2012 کو جیو نیوز پر چھپا ہے جس میں لکھا ہے کہ مولانا نے فرمایا کہ ”اگر جمعیت علمائے اسلام پارلیمنٹ میں موجود نہ ہوتی تو آج ملک کا آئین سیکولر ہوتا“۔ گویا یہ اس تنظیم کی بہت بڑی خدمت ہے کہ اس نے سیکولرازم کا راستہ روک دیا۔ مت بھولیے کہ اس تنظیم کو جنم دینے والی جمعیت علماء ہند کسی ملک کی ترقی کے لئے سیکولرازم کو لازمی بتاتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست اصرار کریں کہ اس میں مضائقہ ہی کیا ہے۔ بھارت سیکولر ملک ہے اس لئے یہاں جمعیت علماء اور جماعت اسلامی سیکولرازم کی وکالت کرتی ہیں اور پاکستان چونکہ اسلامی ملک ہے اس لئے وہاں یہی یا ان کی بہن تنظیمیں شریعت اور دین کے نفاذ کی خواہشمند ہیں۔ اس دلیل کو اگر مان لیا جائے تو اس کے دو مطلب نکلتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مسلمانوں کا ریاست کے مذہب کے حوالے سے کوئی طے موقف نہیں ہے۔ جہاں مسلمان اقلیت میں رہیں گے وہاں مساوات، برابری اور سیکولرازم کی بات کہی جائے گی لیکن جیسے ہی مسلمان اکثریت میں آ جائیں گے ملک میں دین اور شریعت کا نفاذ کرنے پر کام شروع ہوگا۔ دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ملک میں حکومت کے رجحانات کیا ہوں یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک محض سیاسی سوال ہے۔

اب تک کی بحث دو جمہوری ممالک کے بارے میں تھی۔ اب ذرا ایک قدم اور بڑھا کر اس پر غور کیجیے کہ خود جمہوریت کے بارے میں بہت سے مسلم علماء کی ایک جماعت کیا سوچتی ہے؟ پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری اپنے ایک مضمون ”جمہوریت اسلامی کیسے؟ “ میں فرماتے ہیں کہ ”یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام حکومت تو خلافت ہی ہے لیکن اگر مسلمان اس مثالی حکومت کو قائم نہ رکھ سکیں تو پھر دوسرے نمبر پر مسلمانوں کا رائج نظام حکومت ملوکیت ہے۔ مسلمانوں کی تیرہ سو سال کی تاریخ خلافت و ملوکیت کی ہی تاریخ ہے۔ خلافت و ملوکیت کا زمانہ ہی مسلمانوں کی شوکت اور عروج کا زمانہ ہے۔ چودہویں اور پندرہویں صدیاں جو جمہوریت کی صدیاں ہیں‘ مسلمانوں کی انتہائی زوال کی صدیاں ہیں‘ ان میں مسلمانوں نے کھویا ہی ہے کمایا کچھ نہیں“۔

پروفیسر صاحب کے مضمون کا یہ حصہ پڑھ کر اندازہ لگائیے کہ نہ صرف یہ کہ بادشاہت کو جواز فراہم کیا جا رہا ہے بلکہ جمہوریت سے کس قدر بیزاری جھلک رہی ہے؟ اگر بادشاہت مسلمانوں کی تاریخ کا حصہ ہونے کے سبب ان کا ”رائج نظام حکومت“ قرار پا سکتی ہے تو اس دلیل سے تو بڑے خطرناک دروازے کھل جائیں گے۔ پروفیسر صاحب کو بنو امیہ کے زوال اور بنو عباس کے اقتدار میں آنے کا دور یاد دلانے کی ضرورت نہیں جس میں قتل و خون کا ایسا بازار گرم ہوا تھا کہ اس کی چھینٹیں آج تک بغداد اور دمشق کے گلی کوچوں میں تازہ ہیں۔ ذرا یاد کیجیے کیسے خلافت عثمانیہ میں ایک شاہی خاندان کے لوگ ایک دوسرے کا سر اتارتے رہے۔ اسی ملوکیت کے دور نے عورتوں کو کنیز بنائے جانے، میدان جنگ میں خون کے دھارے بہنے، گھیر گھیر کر دشمنوں کی عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو کاٹ ڈالنے، قبروں سے لاشیں نکال کر جلا دینے، لاشوں پر دسترخوان بچھا کر کھانے کھانے کے مناظر دیکھے ہیں۔ اگر ملوکیت مسلمانوں کا رائج نظام حکومت ہے تو ان چیزوں کو بھی مسلمانوں کی شناخت کا حصہ بنانا پڑے گا۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 72 posts and counting.See all posts by malik-ashter